تیئس ستمبر سے دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند کر دی جائیں گی: امریکہ
امریکہ نے ایران کے ساتھ تعاون کرنے پر غیر ملکی ہوائی اڈوں اور ایندھن فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی ثانوی پابندیوں کی دھمکی دی۔

By ANI
Published : September 22, 2026 at 7:20 AM IST
واشنگٹن ڈی سی: امریکہ کے وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا کہ 23 ستمبر سے ایرانی ایئر لائنز کو بین الاقوامی سفر سے مؤثر طور پر باہر کر دیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ان غیر ملکی کمپنیوں کے خلاف ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے جو ایران کے ہوائی جہازوں کو خدمات فراہم کرنا جاری رکھیں گی۔
الجزیرہ کے مطابق، بیسنٹ نے پیر کے روز کہا کہ "23 ستمبر کو، دنیا بھر میں تمام ایرانی ایئر لائنز بند کر دی جائیں گی۔" واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ تہران پر معاشی دباؤ بڑھا رہی ہے۔
یہ وارننگ صرف ایرانی ایئر لائنز تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ کار غیر ملکی ہوائی اڈوں، ایندھن فراہم کرنے والوں، ٹکٹیں جاری کرنے والی کمپنیوں اور ان دیگر کاروباروں تک پھیلا ہوا ہے جو ان ایرانی ہوائی جہازوں کے بین الاقوامی آپریشنز کی معاونت میں شامل ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، بیسنٹ نے کہا کہ ”اگر وہ لینڈ کرتے ہیں، تو آپ انہیں ایندھن فراہم نہیں کر سکتے، آپ انہیں لینڈنگ کی خدمات فراہم نہیں کر سکتے، آپ انہیں ٹکٹ فروخت نہیں کر سکتے، ورنہ آپ کو ڈالر کے نظام سے باہر نکال دیا جائے گا۔“
یہ تازہ ترین دھمکی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پابندیوں کی اس وسیع تر مہم کے دوران سامنے آئی ہے جس کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی اور تجارتی نیٹ ورکس تک ایران کی رسائی کو محدود کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوبارہ فوجی کارروائی کی صورت میں ایران کی امریکی اڈوں پر 'مسلسل، مؤثر اور دردناک' حملوں کی دھمکی
اس ماہ کے اوائل میں، امریکی محکمہ خزانہ نے ان ایرانی ایئر لائنز پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جنہیں پہلے نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، ساتھ ہی ایران سے باہر کی ان کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگائیں جن پر ایران کے ہوا بازی کے شعبے کی حمایت کا الزام ہے۔
ایران کی ہوا بازی کی صنعت کو برسوں کی امریکی پابندیوں کی وجہ سے پہلے ہی نمایاں پابندیوں کا سامنا ہے، جس نے ایرانی فضائی کمپنیوں کی نئے طیارے خریدنے اور اسپیئر پارٹس (پرزہ جات) اور دیکھ بھال کی خدمات حاصل کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔
یہ تازہ ترین اقدامات امریکی پابندیوں کے ایک وسیع تر نظام کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایران کی معیشت بشمول اس کے توانائی، شپنگ، ٹیکنالوجی، سونے اور ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبوں کو نشانہ بنانا ہے۔ ثانوی پابندیاں ان غیر ملکی کاروباروں کو امریکی مالیاتی نظام تک رسائی پر پابندیوں کا شکار کر سکتی ہیں جو پابندیوں کی زد میں آئی ہوئی ایرانی کمپنیوں کے ساتھ لین دین کرتے ہیں۔
متعلقہ خبر: ایران نے شرائط مانے بغیر آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات میں واپسی کو مسترد کر دیا
بیسنٹ کے یہ ریمارکس چینی نائب وزیر اعظم ہی لیفینگ کے ساتھ بات چیت کے ایک دن بعد سامنے آئے ہیں، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان طے شدہ ملاقات سے قبل ہوئی تھی۔
چین ایران کے اہم اقتصادی شراکت داروں اور سفارتی حامیوں میں شامل ہے، جس کی وجہ سے تہران کی بین الاقوامی مالیات تک رسائی کو محدود کرنے کی واشنگٹن کی کوششوں کے لیے بیجنگ کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، بیسنٹ نے کہا کہ امریکی دباؤ کی مہم کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں چینی حکام ”بہت زیادہ مصروفِ عمل“ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن ایران کو نشانہ بنانے والی امریکی پابندیوں کی تعمیل کے سلسلے میں چینی مالیاتی حکام بشمول پیپلز بینک آف چائنا کے گورنر پان گونگ شینگ کے ساتھ مثبت بات چیت کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
مغربی ایشیا کشیدگی: ٹرمپ کا کیمپ ڈیوڈ کا قیام مختصر، ایران کی تنازع کے خاتمے کیلئے سات شرائط
سلامتی کونسل میں روس اور چین نے ایران پر پابندیوں کی امریکی قرارداد کے مسودہ کو ویٹو کر دیا

