اردو

urdu

ETV Bharat / international

سکھ علیحدگی پسند لیڈر پنوں کا دعویٰ، ایف بی آئی نے میری جان کو لاحق نئے خطرے سے خبردار کیا

پنوں کے مطابق گذشتہ جمعرات کو ایف بی آئی اہلکاروں نے انہیں خطرہ ٹلنے تک سفر نہ کرنے کی ہدایت دی۔

سکھ علیٰحدگی پسند لیڈر گرپتونت سنگھ پنوں
سکھ علیٰحدگی پسند لیڈر گرپتونت سنگھ پنوں (File Photo: AP)

By AP (Associated Press)

Published : August 26, 2026 at 12:43 PM IST

نیویارک: مشہور سکھ علیٰحدگی پسند لیڈر گرپتونت سنگھ پنوں نے منگل کے روز کہا کہ ایف بی آئی اور رائل کینیڈین ماؤنٹین پولیس نے انہیں خبردار کیا ہے کہ ان کی جان کو ایک نیا اور سنگین خطرہ لاحق ہے۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سال 2023 میں ان کے قتل کی سازش رچنے والے ایک بھارتی شہری کو اس سال کے آخر میں سزا سنائی جانی ہے۔

سکھس فار جسٹس (ایس ایف جے) کے جنرل کونسل گرپتوند سنگھ پنوں نے بتایا کہ گزشتہ جمعرات کو ان سے ملاقات کرنے والے ایف بی آئی ایجنٹس نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ خطرہ ٹلنے تک سفر سے گریز کریں، اور اگر وہ سفر کرتے ہیں تو ایجنسی کو اپنے پلانز کے بارے میں پہلے سے مطلع کریں۔

انہوں نے بتایا کہ رائل کینیڈین ماؤنٹین پولیس نے منگل کے روز انہیں ٹیلی فون پر خبردار کیا، تاہم کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے بے نقاب ہونے والی اس سازش کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ دونوں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اس معاملے پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن ان کی طرف سے فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

امریکہ اور کینیڈا کی دوہری شہریت رکھنے والے پنوں نے کہا کہ انہیں امریکہ کے "ڈیوٹی ٹو وارن" قانون کے تحت انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ یہ قانون امریکی انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پابند کرتا ہے کہ جب بھی انہیں کسی شخص کے قتل، شدید جسمانی نقصان یا اغوا کے معتبر اور واضح خطرات کا پتہ چلے تو وہ اس فرد کو مطلع کریں۔

یہ نیا خطرہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نکھل گپتا نام کے بھارتی شہری — جس نے فروری میں وفاقی سازش کے الزامات کا اعتراف کیا تھا — سال 2023 میں دیگر افراد کے ساتھ مل کر پنوں کے قتل کی سازش رچنے کے جرم میں مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں 20 نومبر کو سنائی جانے والی سزا کا منتظر ہے۔

مزید پڑھیں:'ہاں، میں نے پنوں کو مارنے کی سازش کی تھی'، 40 سال کی مل سکتی ہے سزا

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ نکھل گپتا کو پنون کو قتل کرنے کی یہ ہدایت بھارتی حکومت کے ایک اہلکار نے دی تھی۔ جب گپتا نے اس پر عمل کرنے کی کوشش کی، تو اس نے نادانستہ طور پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک خفیہ افسر سے رابطہ کر لیا جو اپنے آپ کو سپاری لینے والا قاتل ظاہر کر رہا تھا۔ قانون کے مطابق گپتا کو کم از کم دو دہائیاں جیل میں گزارنی ہوں گی۔

پنوں، جو ایک خودمختار سکھ ریاست کے قیام کی وکالت کرتے ہیں اور بھارتی حکومت کی نظر میں ایک دہشت گرد ہیں، نے منگل کو ایک فون انٹرویو میں کہا کہ وہ خود کو خاموش کرانے کی ان کوششوں سے "بے خوف اور پرعزم" ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "میں ان کے قتل کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا،" تاہم انہوں نے مزید کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی انتظامیہ امریکی اور کینیڈین خودمختاری کو لاحق خطرات پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے اس مسئلے کو اٹھائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ "مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں کسی بھی قسم کے نتائج کے خوف کے بغیر آگے بڑھ رہی ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:پنوں قتل سازش معاملہ: بھارتی شہری کا امریکہ میں اعتراف جرم، 24 سال قید کی سزا

پنوں نے خود کو سکھ انسانی حقوق کے وکیل کے طور پر بیان کیا جو پنجاب کو ایک ایسی جگہ بنانے کی مہم چلا رہے ہیں جہاں "تمام مذاہب کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔"

انہوں نے بتایا کہ کینیڈا کے قانون نافذ کرنے والے حکام کی جانب سے "ڈیوٹی ٹو وارن" (خبردار کرنے کی ذمہ داری) کے تحت ایسے ہی انتباہات خالصتان ریفرنڈم کی کینیڈین شاخ کے سابق سربراہ ہردیپ سنگھ نجر کو بھی جاری کیے گئے تھے، جس کے چند ہی ہفتوں بعد 18 جون 2023 کو برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں ان کا قتل کر دیا گیا تھا۔

پنوں نے کہا کہ مسلسل ملنے والی دھمکیاں انہیں حوصلہ اور یہ یقین دلاتی ہیں کہ ان کی مہم اور صاف گوئی رنگ لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں گولی کی قیمت پر بھی اپنی یہ مہم جاری رکھوں گا۔"

مزید پڑھیں:

پنجاب میں لکھے گئے بھارت مخالف نعرے، پنوں نے قبول کی ذمہ داری، دھماکے کی دھمکی

خالصتان حامی پنو کی رام مندر کو اڑانے کی دھمکی، کہا 'ایودھیا میں تشدد ہوگا، ہندوتوا کی بنیاد ہلا کر رکھ دیں گے'

خالصتانی گرپتونت سنگھ پنوں نے وزیراعلی بھگونت مان کو قتل کرنے کی دھمکی دی

سکھ لیڈر کے قتل کی 'سازش' میں ملوث افراد کا احتساب ضروری: امریکہ