'ہاں، میں نے پنوں کو مارنے کی سازش کی تھی'، 40 سال کی مل سکتی ہے سزا
امریکہ میں پنوں کے قتل کی ناکام سازش معاملے ملزم نکھل گپتا کے اعتراف جرم پر اسکے اہل خانہ حیرت زدہ ہیں۔

Published : February 15, 2026 at 1:52 PM IST
نئی دہلی: ہندوستانی شہری نکھل گپتا نے امریکہ میں قتل کی سازش معاملے اعتراف جرم کر لیا۔ ان پر سکھ علیٰحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کا الزام تھا۔ یہ مقدمہ امریکہ کے نیویارک کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نکھل گپتا نے سازش، کانٹریکٹ کلنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ امریکہ خفیہ ایجنسیاں یہ بھی دعویٰ کر رہی ہیں کہ انہوں نے یہ کام ایک شخص کے کہنے پر کیا۔ کیا وہ شخص بھارتی حکومت کا ملازم ہے؟ بھارتی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ خبر غلط ہے اور حکومت ہند کا کوئی بھی ملازم اس معاملے میں ملوث نہیں ہے۔
اس معاملے کی اگلی سماعت 26 مئی کو ہوگی۔ اسی بیچ ملزم نکھل گپتا کے اہل خانہ کا ایک بیان بھی میڈیا میں سامنے آیا ہے۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ نکھل نے جان بوجھ کر اعتراف جرم کیا تاکہ کیس کے مالی بوجھ سے نجات حاصل کیا جا سکے۔
ایک انگریزی اخبار کو دیے گئے بیان میں نکھل کے اہل خانہ نے کہا کہ ان پر مالی بوجھ بڑھتا جا رہا ہے، اور قانونی فیسیں اتنی زیادہ ہو گئی ہیں کہ وہ مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ اس لیے انہوں نے سرکاری وکیل کی مدد لی۔ اس کے بعد اس نے اس کیس میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا۔
امریکی قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر جرم ثابت ہوا تو نکھل گپتا کو 40 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ انہیں 30 جون 2023 کو جمہوریہ چیک میں گرفتار کیا گیا، بعد ازاں ریاستہائے متحدہ کے حوالے کر دیا گیا، اور اس کے بعد سے مقدمہ چل رہا ہے۔
چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ نکھل ایک ہٹ مین ہے اور اسے سکھ رہنما پنوں کو مارنے کے لیے وکاس یادو نام کے شخص کی طرف سے 15,000 ڈالر ادا کیے گئے تھے۔ استغاثہ کے مطابق یادو کے حکم پر گپتا نے ایک شخص سے رابطہ کیا تاکہ نیو یارک میں قتل کے لیے کسی کو اجرت دی جا سکے۔ تاہم اس نے جس شخص رابطہ کیا، دراصل امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کا مخبر تھا۔
حالانکہ اس سے قبل نکھل نے کہا تھا کہ وہ وکاس یادو کو نہیں جانتا تھا اور نہ ہی اس کا ان سے کوئی تعلق تھا۔ ابتدائی طور پر نکھل گپتا نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس نے پنو کا قتل نہیں کیا اور تمام الزامات من گھڑت ہیں۔ تاہم اب اس نے یو ٹرن لے لیا ہے۔
امریکی ایجنسی نے پنوں کو بین ملکی جبر کا ہدف قرار دیا ہے۔ امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ پنوں امریکی شہری ہے اور اگر اس کے خلاف کچھ کیا گیا ہے تو قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے گا۔
خیال رہے کہ حکومت ہند نے پنوں کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ وہ مسلسل بھارت مخالف بیانات سے بھارتی لا اینڈ آرڈر کو چیلنج کرتے ہیں اور بھارت میں سکھوں کے لیے علیٰحدہ ملک 'خالصتان' کی وکالت کرتے ہیں۔ حکومت ہند انہیں اپنی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیتی ہے۔
مزید پڑھیں:
پنوں قتل سازش معاملہ: بھارتی شہری کا امریکہ میں اعتراف جرم، 24 سال قید کی سزا
پنجاب میں لکھے گئے بھارت مخالف نعرے، پنوں نے قبول کی ذمہ داری، دھماکے کی دھمکی
خالصتانی گرپتونت سنگھ پنوں نے وزیراعلی بھگونت مان کو قتل کرنے کی دھمکی دی

