دہلی میں فیض الہی مسجد کے پاس بلڈوزر ایکشن، مخالفت میں پتھراؤ، پانچ اہلکار زخمی، پانچ افراد حراست میں
ایم سی ڈی کی انہدامی مہم کا مقصد 'غیر قانونی' طریقے سے تعمیر شدہ کمیونٹی ہال، ایک ڈسپنسری، اور کچھ تجارتی ڈھانچوں کو گرانا تھا۔

Published : January 7, 2026 at 11:49 AM IST
|Updated : January 7, 2026 at 12:51 PM IST
نئی دہلی: قومی راجدھانی دہلی کے رام لیلا میدان کے قریب ترکمان گیٹ علاقے میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات میں چلائی گئی انسداد تجاوزات مہم کے دوران پرتشدد پھوٹ پڑا۔ دہلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پتھراؤ کی وجہ سے اس کے پانچ اہلکار زخمی ہوگئے۔
دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کی تعمیل میں دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے 17 بلڈوزر اور بھاری پولیس فورس کے ساتھ یہ انہدامی مہم چلائی۔ اس طرح کی کارروائیاں عام طور پر صبح آٹھ بجے کے بعد شروع ہوتی ہیں، تاہم انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات اور احتجاج کے پیش نظر تجاوزات کو ہٹانے کا کام نصف شب 1:30 بجے شروع کیا۔
#WATCH | दिल्ली: तुर्कमान गेट स्थित फैज-ए-इलाही मस्जिद के पास अतिक्रमण पर MCD की बुलडोजर कार्रवाई जारी है। pic.twitter.com/XZPKK2fApA
— ANI_HindiNews (@AHindinews) January 7, 2026
اس مہم کا بنیادی مقصد فیض الٰہی مسجد کے قریب اور رام لیلا میدان کی زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ کمیونٹی ہال، ایک ڈسپنسری اور کچھ دیگر تجارتی ڈھانچوں کو منہدم کرنا تھا۔
جیسے ہی بلڈوزر نے عمارتوں کو گرانا شروع کیا، مقامی لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا اور جلد ہی حالات کشیدہ ہو گئے۔ اس دوران کچھ لوگوں نے پولیس اور میونسپل کارکنوں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔
#WATCH दिल्ली: तुर्कमान गेट स्थित फैज-ए-इलाही मस्जिद के पास अतिक्रमण पर MCD की बुलडोजर कार्रवाई जारी है। https://t.co/eHAXmc7wkl pic.twitter.com/gRH9WejsBu
— ANI_HindiNews (@AHindinews) January 7, 2026
دہلی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ تشدد میں کم از کم پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے استعمال کیے گئے، جس کے بعد حالات معمول پر آ گئے۔ وہیں پولیس نے تشدد اور پتھراؤ کے الزام میں پانچ سے زیادہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
#WATCH दिल्ली: DCP निधिन वलसन ने कहा, " कार्रवाई अभी भी जारी है... mcd तोड़फोड़ कर रही है। हमने सुरक्षा के लिए अपने स्टाफ को तैनात किया है। कार्रवाई रात करीब 1 बजे शुरू हुई। mcd ने हाई कोर्ट के आदेशों के अनुसार कब्ज़े वाली ज़मीन पर तोड़फोड़ की। रात में पुलिस पर पत्थर फेंके गए।… https://t.co/eHAXmc7wkl pic.twitter.com/gcCPqFtkiA
— ANI_HindiNews (@AHindinews) January 7, 2026
پی ٹی آئی کے مطابق ڈپٹی کمشنر آف پولیس (سنٹرل) ندھن والسن نے کہا کہ ایم سی ڈی نے چھ اور سات جنوری کی درمیانی رات کو انہدامی کارروائی کا شیڈول طے کیا تھا، جس کے بعد پولیس اہلکاروں کو متحرک کر کے جائے وقوع پر تعینات کیا گیا، لیکن احتیاط کے باوجود جب جے سی بی سمیت ایم سی ڈی کی مشینری پہنچنے والی تھی، اسی دوران تقریباً 100-150 لوگ جمع ہوگئے ۔
#WATCH | दिल्ली: दिल्ली नगर निगम के DC विवेक अग्रवाल ने बताया, " कोर्ट के आदेश के तहत हमने ये कार्रवाई की है। यह कार्रवाई हमने रात के समय ही शुरू की थी... हमने इस कार्य में 32 jcb लगाए हैं... जो अतिक्रमण वेस्ट रह गया है जिसे जल्द ही उठा लिया जाएगा...(रात को हुए पथराव की घटना… https://t.co/oCqdONCLWn pic.twitter.com/Wy53CMC0UV
— ANI_HindiNews (@AHindinews) January 7, 2026
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر لوگ سمجھانے کے بعد منتشر ہو گئے، حالانکہ کچھ نے ہنگامہ آرائی کرنے کی کوشش کی اور پتھراؤ شروع کر دیا، جس میں پانچ پولیس اہلکار معمولی طور پر زخمی ہوگئے۔ ڈی سی پی نے کہا کہ ’’ہمیں بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔''
انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ میڈیکل رپورٹس، بیانات کے بعد قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔

دہلی پولیس ڈرون کیمروں کے ذریعے پورے علاقے کی نگرانی کر رہی ہے۔ فی الحال علاقے میں بھاری پولیس فورس اور ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار تعینات ہیں، اور حالات قابو میں ہیں۔
عدالتی حکم اور سروے
یہ کارروائی ایک مشترکہ سروے کے بعد کی گئی جس میں بتایا گیا کہ تقریباً 2512 مربع فٹ پی ڈبلیو ڈی کی زمین اور 36،248 مربع فٹ میونسپل کی اراضی پر غیر قانونی طور پر قبضہ ہو چکا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ مذہبی اراضی یا قبرستان کی زمین کو تجارتی مقاصد جیسے پرائیویٹ بینکویٹ ہال یا کلینک کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
ایم سی ڈی حکام کے مطابق، "یہ کارروائی مکمل طور پر قانونی دائرے میں اور عدالتی احکامات کے مطابق انجام دی گئی۔ سرکاری اراضی کو تجاوزات سے پاک کرنا ہماری ترجیح ہے۔"

پولیس نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) نے مجوزہ انہدام کے بارے میں پولیس کو پیشگی اطلاع دی تھی اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے فورس کی تعیناتی کی درخواست کی تھی۔

ڈی سی پی نے کہا کہ اطلاع ملنے کے فوراً بعد پولیس نے مقامی لوگوں سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ یہ انہدام ایک قانونی کارروائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے علاقے کے لوگوں کو اعتماد میں لیا اور ان سے کافی تعاون بھی ملا۔
مزید پڑھیں:
سنبھل: مسجد سے منسلک لوگوں کے مکانات پر چلائے گئے بلڈوزر، انتظامیہ کا غیر قانونی تعمیرات کا دعویٰ
توقیر رضا کے قریبی ساتھی کے خلاف بلڈوزر کارروائی، واجد بیگ کا شادی ہال منہدم
عتیق احمد کے ڈریم پروجیکٹ بلڈوزر کارروائی: عتیق احمد کے قریبی ساتھیوں کے پلاٹس کو کر دیا گیا مسمار

