ETV Bharat / bharat

بہار طالبہ ہراسانی: تین ملزمین گرفتار، کلیدی ملزم فرار، بہار کانگریس کا احتجاجی دھرنے کا اعلان

بہار کے جموئی میں طالبہ سے بدسلوکی کے ہولناک ویڈیو پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

The main accused in the Jamui incident, who is currently absconding
جموئی واقعہ کا کلیدی ملزم جو اس وقت مفرور ہے۔ (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : September 22, 2026 at 8:04 AM IST

8 Min Read
Choose ETV Bharat

جموئی: بہار کے جموئی میں اسکولی طالبہ کے ساتھ بدسلوکی اور ہراسانی کے واقعے کے خلاف کانگریس نے احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے کہا گیا کہ جموئی میں طالبہ اور اس کے ساتھی طالب علم کو راستے میں زبردستی روک کر ان کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اور طالبہ کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ انتہائی سنگین اور تشویشناک ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ

قابل ذکر ہے کہ بہار کے ضلع جموئی میں دسویں جماعت کی ایک طالبہ اور ایک طالب علم کو ایک گروہ کی جانب سے ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنانے کی پریشان کن ویڈیو پر ملک بھر میں شدید غم و غصے پایا جا رہا ہے۔ اس واقعے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پیر کے روز دو نابالغوں سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بے بس لڑکی کی جانب سے رحم کے لیے گڑگڑانے کے باوجود ملزمان نے اسے کھینچا، پکڑا، دبوچا اور اس کے ساتھ دست درازی کی۔

تفصیلات کے مطابق طالبہ اپنی کوچنگ کلاس کے بعد ایک ہم جماعت کے ساتھ جا رہی تھی۔ اسی دوران ایک گروہ نے انہیں راستے میں روک کر ان کے ساتھ دست درازی اور ہراسانی کی شرمناک حرکت کی۔

پولیس کا بیان

جموئی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وشواجیت دیال نے بتایا کہ ”یہ ویڈیو پیر کی صبح ہمارے علم میں آئی۔ اس میں تقریباً سات سے آٹھ افراد کو ایک نابالغ لڑکی اور اس کے نابالغ دوست کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ متاثرین کی شناخت کر کے ان کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے اور انہوں نے ایک شکایت بھی جمع کرائی ہے۔ ہماری ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس واقعے میں ملوث تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں دو نابالغ بھی شامل ہیں۔“

ایس پی دیال نے مزید کہا کہ ”ہم نے مجرموں میں شامل کلیدی ملزم کی بھی شناخت کر لی ہے۔ وہ اپنے چہرے اور سر کو زعفرانی رنگ کے پرنٹڈ کپڑے یا پتلے تولیے سے ڈھانپے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔ چھاپے مارنے کی کارروائی ابھی جاری ہے، اور ہم جلد ہی اسے اور دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کر لیں گے۔“

پیر کے روز جموئی پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیاۓ سنہیتا کی دفعات 74 (عورت کی حیا کو ٹھیس پہنچانے کی نیت سے اس پر حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال)، 76/3(5) (متعدد افراد کی جانب سے مشترکہ طور پر کسی خاتون کو برہنہ کرنے یا برہنہ ہونے پر مجبور کرنے کی نیت سے اس پر حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال) اور بچوں کے جنسی جرائم سے تحفظ (پاسکو) ایکٹ، 2012 کے تحت ایک ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔

جموئی کے ایس پی نے مزید کہا کہ "مختلف سوشل میڈیا سائٹس سے ویڈیو کو ہٹانے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔" یہ واقعہ ہفتہ کو شام تقریباً 6:45 بجے جموئی – لکھی سرائے نیشنل ہائی وے 333A پر مڑوا اور پرتاپ پور کے درمیان پیش آیا۔

دونوں 16 سالہ نوجوان شام تقریباً 6:25 بجے اسکوٹر پر نکلے تھے۔ وہ مڑوا – پرتاپ پور کے قریب پہاڑی اور جنگلاتی علاقے میں تصاویر لینے اور کچھ ویڈیوز بنانے کے لیے رکے تھے، کہ اسی دوران ایک گروہ نے انہیں گھیر لیا۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ کسی بھیانک خواب سے کم نہ تھا۔ لڑکے کو تھپڑ مارے گئے، ہراساں کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں، جب کہ لڑکی کو نازیبا طریقے سے اٹھا کر ساتھ لے جانے کی کوشش کی گئی، اسے شرمناک طریقے سے چھوا گیا اور گھسیٹا گیا۔ وہ ہاتھ جوڑ کر ان سے جانے دینے کی التجائیں کرتی رہی اور وعدہ کرتی رہی کہ وہ دوبارہ کبھی اس جگہ نہیں آئیں گے، لیکن بدمعاشوں کا دل نہ پگھلا۔

اندھیرا چھا چکا تھا، اور جیسے ہی لڑکی خوفزدہ ہو کر بھاگنے لگی، مرکزی ملزم نے اسے پکڑ کر گود میں اٹھا لیا۔ وہ اسے لے کر نیشنل ہائی وے سے دور سنسان پہاڑی علاقے کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس دوران وہاں سے گزرنے والی چند گاڑیاں رکیں تو سہی، لیکن کوئی بھی حملہ آور گروہ کو روکنے کی ہمت نہ جٹا سکا۔

اس پورے واقعے میں واحد امید کی کرن یہ تھی کہ لڑکے اور لڑکی نے شدید خطرے کے باوجود ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ایک دوسرے کو ان مبینہ درندوں کے چنگل سے بچانے کی مسلسل کوشش کرتے رہے۔ آخر کار، جب وہاں سے گزرنے والے کچھ اور لوگ رکے اور جمع ہونا شروع ہوئے، تو ملزمین نے دونوں نابالغ طالب علموں کو جانے دیا۔

راہل گاندھی اور تیجسوی پرساد یادو کا شدید رد عمل

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے جموئی کے ویڈیو کو ”شدید پریشان کن“ قرار دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے سوال کیا کہ ان مردوں کو اس طرح کے سلوک کا حق کس نے دیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ ہماری تہذیب نہیں ہے۔ یہ مردانہ بالادستی کا نظام ہے: یہ عقیدہ کہ کوئی بھی مرد کسی لڑکی کے جسم، اس کی نقل و حرکت اور اس کے فیصلوں پر اپنی مرضی مسلط کر سکتا ہے۔“

لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ویڈیو میں نظر آنے والے تمام مبینہ مجرموں کی شناخت، گرفتاری اور پاکسو ایکٹ کے تحت ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ راہل نے سوال اٹھایا کہ ”انصاف فوری ہونا چاہیے۔ اور اگر یہ واقعہ 19 ستمبر کو پیش آیا تھا، تو مجرم اب تک سلاخوں کے پیچھے کیوں نہیں ہیں؟ بہار حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ شام سات بجے ایک عام سڑک پر لڑکی محفوظ کیوں نہیں ہے؟“

وہیں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی ورکنگ صدر اور بہار قانون ساز اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی پرساد یادو نے دعویٰ کیا کہ ریاست لاقانونیت اور انتشار کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں کوئی بھی طالبہ یا خاتون محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی اور انہیں اس لاقانونیت کی صورت حال کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

تیجسوی یادو نے جموئی واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”مجرم اور غنڈے اب دن دیہاڑے اسکولوں، کالجوں اور گھروں میں داخل ہو کر جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی، جنہوں نے خواتین کو 10,000 روپے نقد دیے اور اسمبلی انتخابات کے بعد دو لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا، وہ ایسے واقعات پر مونی بابا (خاموش بابا) بن چکے ہیں۔ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے دورِ حکومت میں خواتین، طالب علموں، غریبوں اور دلتوں پر مظالم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔“

تیجسوی نے مزید کہا کہ ”بہار کی اس حالت کا واحد ذمہ دار شخص وزیر اعظم مودی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے نقشِ قدم پر چلنے والی جماعتوں کو ایسے واقعات پر شرم تک نہیں آتی۔“

قومی کمیشن برائے خواتین نے ازخود نوٹس لے لیا

قومی کمیشن برائے خواتین نے پیر کے روز میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر جموئی واقعے کا ازخود نوٹس لیا اور بہار حکومت سے سات دنوں کے اندر کی گئی کارروائی کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

کمیشن کی چیئرپرسن وجیا کے راہٹکر نے بہار کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو خط لکھ کر فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے، ویڈیو فوٹیج کی مدد سے تمام ملزمان کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کرنے، اور مقررہ وقت کے اندر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔

مزید پڑھیں:

احتجاج کے دوران خاتوں کے ساتھ مبنہ چھیڑ چھاڑ کرنے والے شخص سے بی جے پی نے کیا لاتعلق کا اظہار

سترہ سالہ لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کا ملزم، ضمانت ملی تو بنا حیوان، 6 افراد کو کر دیا قتل

استاد شاگرد کا رشتہ داغدار: امروہہ میں ٹیچر پر طالبہ سے چھیڑ چھاڑ کا الزام، لواحقین کا احتجاج