پہلگام حملے پر جاپان نے بھارت کا ساتھ دیا، دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا
وزیر اعظم مودی جاپان کے دو روزہ دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے 15ویں بھارت جاپان سالانہ چوٹی کانفرنس میں شرکت کی۔

Published : August 30, 2025 at 10:51 AM IST
ٹوکیو: جاپان نے بھی ممنوعہ تنظیموں لشکر طیبہ، جیش محمد اور ان کے حامیوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جاپانی وزیر اعظم شیگیرو اشیبا نے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی۔
آپ کو بتا دیں کہ پی ایم مودی جاپان کے دورے پر ہیں۔ وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے ان کے دورے کے حوالے سے دی گئی جانکاری کے مطابق، 15 ویں بھارت-جاپان سالانہ چوٹی کانفرنس میں دونوں وزرائے اعظم نے دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے پر زور دیا۔ اسی کے ساتھ سرحد پار سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔
پی ایم او کی طرف سے جاری کردہ ریلیز میں کہا گیا ہے، 'انہوں نے 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی اور 29 جولائی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی ٹیم کی رپورٹ کا نوٹس لیا۔ انہوں نے ممنوعہ تنظیم مزاحمتی محاذ (ٹی آر ایف) کا ذکر کیا۔ پی ایم مودی نے مزید بتایا کہ ٹی آر ایف نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ وزیر اعظم اشیبا نے اس پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس قابل مذمت فعل کے مجرموں، منتظمین اور فنڈز فراہم کرنے والوں کو بغیر کسی تاخیر کے انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔'
اس میں مزید کہا گیا ہے، 'انہوں نے اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل دہشت گرد گروپوں بشمول القاعدہ، آئی ایس آئی ایس، داعش، لشکر طیبہ (ایل ای ٹی)، جیش محمد (جے ای ایم) اور ان سے منسلک تنظیموں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا بھی مطالبہ کیا۔
میانمار کی صورت حال پر دونوں وزرائے اعظم نے تمام فریقوں سے فوری طور پر تمام پُر تشدد کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے ایمرجنسی کے خاتمے اور انتخابات کے انعقاد کے منصوبوں کے حالیہ اعلان کو بھی نوٹ کیا۔
متعلقہ خبر: چوٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے پی ایم مودی ٹوکیو پہنچ گئے، کہا دنیا نے ہماری پالیسیوں کی سراہنا کی
وزیر اعظم کے دفتر کی ریلیز میں کہا گیا ہے، "دونوں وزرائے اعظم نے (میانمار میں) جمہوریت کے راستے پر واپسی پر زور دیا، جس سے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان جامع بات چیت اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ممکن ہوں گے۔ انہوں نے حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے آسیان کی کوششوں کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا، جس میں بحران کے پرامن حل کے لیے پانچ نکات کو برقرار رکھنے کے لیے مکمل اور مؤثر طریقے سے عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔"
دونوں وزرائے اعظم نے افریقہ سمیت ہند بحرالکاہل کے خطے میں بھارت اور جاپان کے درمیان اشتراکی پروجیکٹوں کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے افریقہ میں پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے جاپان-انڈیا تعاون کے اقدام کے آغاز کا خیرمقدم کیا۔ اس کا مقصد افریقہ کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک صنعتی مرکز قائم کرنے کے لیے بھارت میں صنعتی ارتکاز کو فروغ دینا ہے۔
دونوں وزرائے اعظم نے یوکرین میں اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی قانون کے مطابق منصفانہ اور دیرپا امن کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کے لیے مختلف ممالک کی طرف سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: داروما ڈول کیا ہے؟ پی ایم مودی کو جاپان میں ملا ایک خاص تحفہ
دونوں وزرائے اعظم نے شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی داغنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں (UNSCRs) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی مذمت کی۔
انہوں نے متعلقہ یو این ایس سی آر کے مطابق شمالی کوریا کو مکمل طور پر جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور یو این ایس سی آر کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے۔
وزیر اعظم مودی نے وزیر اعظم اشیبا کو اس سال کے آخر میں منعقد ہونے والے کواڈ لیڈرز سمٹ کے موقعے پر بھارت آنے کی دعوت بھی دی۔ وزیر اعظم مودی 29 سے 30 اگست تک جاپان کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے 15 ویں ہندوستان-جاپان سالانہ چوٹی کانفرنس میں شرکت کی۔ جاپان کے دورے کے بعد وزیراعظم تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے چین جائیں گے۔
مزید پڑھیں: ایس سی او سربراہی اجلاس 2025: پی ایم مودی کا متوقع دورہ بھارت چین تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اہم

