ایس سی او سربراہی اجلاس 2025: پی ایم مودی کا متوقع دورہ بھارت چین تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اہم
ٹرمپ کے ٹیرف بم کے بیچ وزیر اعظم کا چین دورہ بھارت کی اسٹریٹجک خود مختاری اور بیجنگ سے مشغولیت کا اشارہ دیتا ہے۔

Published : August 7, 2025 at 2:15 PM IST
|Updated : August 7, 2025 at 2:57 PM IST
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی ممکنہ طور پر 31 اگست سے یکم ستمبر تک تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے چین کا دورہ کر رہے ہیں، جو ایک اہم سفارتی تبدیلی کا اشارہ دے سکتا ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ 2020 میں وادی گالوان میں مہلک تصادم کے بعد چین کا پہلا دورہ ہوگا۔ یہ کشیدہ تعلقات کو مستحکم کرنے اور کثیر جہتی فورمز کے ذریعے دوبارہ جڑنے کے لیے نئی دہلی اور بیجنگ کی محتاط کوشش کا اشارہ ہے۔
اگرچہ وزارت خارجہ نے ابھی تک سرکاری طور پر اس دورے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ لیکن کئی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ مودی چین کے دو روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے 30 اگست کو سالانہ بھارت-جاپان دو طرفہ سربراہی اجلاس کے لیے جاپان جائیں گے۔
چین، 2024-25 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ کے طور پر باہمی اعتماد، باہمی مفاد، مساوات اور مشاورت کے "شنگھائی جذبے" کے تحت ایک نئے فارمیٹ کی تلاش میں ہے۔ بھارت کی ممکنہ شرکت اس بیانے کو سفارتی اہمیت دے سکتی ہے۔
سربراہی اجلاس میں مودی کی ممکنہ شرکت اہم ہوگی کیونکہ بھارت نے اس سال جون میں ایس سی او کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ کو مسترد کر دیا تھا۔ اس میں 22 اپریل 2025 کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کا ذکر نہیں کیا گیا جس میں 26 بے گناہ لوگوں کی جانیں گئیں۔ یہ ایس سی او کے بیانیے میں دہشت گردی کی اپنی تعریفوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کے مضبوط موقف کی نشاندہی کرتا ہے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پہلگام حملے کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے بیان پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ بھارت اس بات سے ناراض تھا کہ بیان میں پہلگام کا ذکر نہیں تھا بلکہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا تھا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں اپنی تقریر میں سنگھ نے دہشت گردی کے خلاف بھارت کی پالیسی میں ایک وسیع تبدیلی کا خاکہ پیش کیا تھا اور رکن ممالک سے اجتماعی سلامتی اور تحفظ کے لیے اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ "امن اور خوشحالی دہشت گردی، غیر ریاستی عناصر اور دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ نہیں رہ سکتی"۔
مزید پڑھیں: مجھے بڑی قیمت چکانی پڑے گی اور میں اس کے لیے تیار ہوں؛ ٹرمپ کے ٹیرف پر پی ایم مودی کا اہم بیان
سنگھ نے مزید کہا، "ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے۔ یہ ضروری ہے کہ جو لوگ دہشت گردی کو اپنے تنگ اور خود غرض مقاصد کے لیے اسپانسر کرتے، فروغ دیتے اور استعمال کرتے ہیں، انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔"
انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک سرحد پار دہشت گردی کو پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں۔ ایسے دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ ایس سی او کو ایسے ممالک پر تنقید کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔" پھر، گزشتہ ماہ تیانجن میں ایس سی او کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پہلے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ بات چیت کے دوران واضح کیا کہ ایس سی او کا بنیادی کام دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا ہے۔
جے شنکر نے کہا، "یہ ایک مشترکہ تشویش کا معاملہ ہے اور بھارت کو توقع ہے کہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کو پھر سے مضبوطی سے لاگو کیا جائے گا۔"
یہ بھی پڑھیں: 'چین کو رعایت، بھارت پر دباؤ؟'، اقوام متحدہ میں سابق امریکی سفیر نکی ہیلی کی ٹرمپ کو نصیحت
ایسٹ ایشیا سینٹر، منوہر پاریکر انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینالیسس میں ایسوسی ایٹ فیلو ایم ایس پرتیبھا کے مطابق، اس سال کا ایس سی او سربراہی اجلاس اہم ہے کیونکہ یہ بھارت اور چین کے تعلقات کو وسیع پیمانے پر معمول پر لانے کے تحت ہو رہا ہے۔
پرتیبھا نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا، "ایس سی او میں بھارت کی شمولیت ہمیشہ اہم رہی ہے کیونکہ وہ اس پلیٹ فارم کو کثیر قطبی سفارت کاری کا حصہ سمجھتا ہے۔"
انہوں نے کہا کہ بھارت اس سربراہی کانفرنس کے دوران دہشت گردی پر اپنے موقف کا اعادہ کرے گا۔ پرتیبھا نے کہا، "بھارت ایس سی او سے درخواست کرے گا کہ وہ دہشت گردی پر دوہرا معیار اپنانے سے گریز کرے۔"
دریں اثنا، بھارت کو امریکہ کے ٹیرف دباؤ کا سامنا ہے۔ ایس سی او بھارت کو سفارتی بفر فراہم کرتا ہے۔ یوریشین تنظیموں خاص طور سے چین اور روس کی قیادت والے ادارں کے ساتھ زیادہ واضح شراکت داری کرنے سے بھارت اپنی سٹریٹجک خود مختاری کا دعویٰ کر سکتا ہے اور اتحادوں میں تنوع لا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ایم مودی ٹرمپ ٹیرف کا مقابلہ کرنے سے قاصر،راہل گاندھی کا الزام، بتایا اڈانی کنیکشن
تیانجن سربراہی اجلاس میں مودی کی ممکنہ موجودگی امریکی معاشی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی راہ خود طے کرنے کے بھارت کے ارادے کا اشارہ دے گی۔ ایس سی او میں بھارت اپنے عوامی اعلانات کے مطابق اس بات پر زور دے سکتا ہے کہ وہ توانائی یا تجارتی فیصلوں پر اپنی خودمختاری سے دستبردار نہیں ہوگا۔
جیسا کہ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے بھارتی اشیاء پر اضافی 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا ہے، جس سے بھارتی سامان پر کل ٹیرف 50 فیصد ہو گیا۔
ہندوستان نے فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ان مسائل پر اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ اس میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ اس کی درآمدات مارکیٹ کے عوامل پر مبنی ہیں اور بھارت کے 1.4 بلین لوگوں کی توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے اجتماعی مقصد سے جڑی ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، "یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ امریکہ نے بھارت پر ایسے اقدامات کے لیے اضافی ڈیوٹیز لگانے کا فیصلہ کیا ہے جو کئی دوسرے ممالک بھی اپنے قومی مفاد میں اٹھا رہے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے 50 فیصد ٹیرف کے بعد ثانوی پابندیاں لگانے کا اشارہ دیا، کہا ابھی بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا
انہوں نے مزید کہا، "ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ یہ اقدامات غیر ضروری، بلاجواز اور غیر معقول ہیں۔ بھارت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔"
ادے پور میں قائم یوسس فاؤنڈیشن تھنک ٹینک کے بانی ڈائریکٹر اور سی ای او ابھینو پانڈیا کے مطابق، ایس سی او کے اجلاس میں مودی کی ممکنہ شرکت جغرافیائی سیاسی نقطہ نظر سے ایک بہت اہم فیصلہ ہے۔
پانڈیا نے کہا، "مجھے یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ صرف ایک اسٹریٹجک تبدیلی نہیں، بلکہ عالمی جغرافیائی سیاست میں ایک حکمت عملی کی تبدیلی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "اس کو مختلف ایشوز پر بھارت اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، خاص طور پر بھارت پر 50 فیصد ٹیرف کے نفاذ اور آپریشن سندور کے بعد امریکہ کے پاکستان کی طرف جھکاؤ کے تناظر میں۔" انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی کافی بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی ٹیرف کے اعلان کے بعد سونے کی قیمتوں میں اضافہ،مزید کتنی بڑھیں گی قیمتیں
پانڈیا نے کہا کہ تعلقات بہت خراب صورت حال میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، "اس کے علاوہ، ٹرمپ چین کے بھی قریب آ رہے ہیں۔ وہ چین کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس تناظر میں بھارت کو واشنگٹن ڈی سی اور بیجنگ کے درمیان اپنا کواڈ توازن بنانے کی ضرورت ہے۔
اس تناظر میں یہ مجوزہ دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے، لیکن ہمیں اسے زیادہ طول نہیں دینا چاہیے، کیونکہ بھارت نے دہشت گردی کے معاملے پر سخت رویہ اپنا رکھا ہے۔ اسے حکمت عملی سے زیادہ عسکری طور پر چین کی طرف ایک محور کی شکل دیکھا جانا چاہیے، ۔"
مختصراً، ایس سی او سربراہی اجلاس کے لیے مودی کا تیانجن کا ممکنہ دورہ ایک کشیدہ جغرافیائی سیاسی دور میں ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کے ٹیرف کے نفاذ کی وجہ سے بھارت امریکہ تعلقات میں کشیدگی اور گلوان وادی کے بعد بھارت چین تعلقات میں پیش رفت ہونے کے درمیان، یہ سربراہی اجلاس بھارت کے لئے کثیر جہتی تعاون کے ذریعہ اپنی اسٹریٹجک خود مختاری قائم کرنے کا ایک موقع ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا، ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے
ٹرمپ کے ٹیرف حملے پر پی ایم مودی کا جواب، ہم وطنوں سے 'سودیشی' اپنانے کی اپیل

