ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جموں: پچیس دن کی نئی ایل پی جی ری-فل پالیسی سے کئی صارفین گیس سے محروم
ایران-اسرائیل جنگ کے باعث حکومت نے ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے رسوئی گیس صارفی کیلیے 25 دن کا ری فل وقفہ لازمی قرار دیا ہے۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : March 11, 2026 at 4:41 PM IST
جموں (محمد اشرف گنائی): مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات اب بھارت میں بھی محسوس ہونے لگے ہیں۔ جموں و کشمیر سمیت ملک بھر میں حکومت نے رسوئی گیس (ایل پی جی) کی فراہمی کے حوالے سے احتیاطی اقدامات اٹھائے ہیں۔ نئی ہدایات کے مطابق جو صارفین 25 دن سے پہلے گیس سلنڈر خرید چکے ہیں، وہ نیا سلنڈر حاصل نہیں کر سکیں گے۔
حکومت نے آئل ریفائنری کمپنیوں کو ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے کی بھی ہدایت دی ہے تاکہ اضافی پیداوار گھریلو استعمال کے لیے مختص کی جا سکے۔ حکومت کی جانب سے یہ قدم اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث ایندھن کی فراہمی پر ممکنہ دباؤ کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
ای ٹی وی بھارت کے نمائندے محمد اشرف نے جموں کے ریزیڈنسی روڈ کے قریب ایک گیس ڈسٹری بیوشن سینٹر پر گیس سلنڈروں کی تقسیم کا معائنہ کیا جس دوران حکومت کی جانب سے وضع کی گئی نئی ہدایات پر سختی سے عملایا جا رہا تھا اور اس وجہ سے بعض ایسے صارفین جنہوں نے 25دن سے کم عرصہ قبل گیس بکنگ کی تھی، خالی سلینڈرز کے ساتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے۔

جموں میں گیس ایجنسی کے ایک ڈیلر، موہت سچدیوا، نے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ انتظامیہ نے سبھی گیس ایجنسیز کو گھبراہٹ کے دوران گیس خریدنے سے عوام میں پینک کے ساتھ ساتھ گیس سلینڈرز کی ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے جانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ "ماضی میں رسوئی گیس ایل پی جی سلنڈر 15 دن کے وقفے کے بعد ہی ری فل کیا جا سکتا تھا، لیکن نئی ہدایات کے مطابق اب یہ مدت بڑھا کر 25 دن کر دی گئی ہے۔" انہوں نے عوام سے گیس ذخیرہ کرنے سے اجتجاب کرنے اور ضرورت کے مطابق ہی سلنڈر خریدنے کی تلقین کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام نے "گھبراہٹ" میں گیس سلینڈر کی ذخیرہ اندوزی کو روکنے اور ایل پی جی کی منظم تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے نئے رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ جاری کیے گئے ہدایات کے تحت صرف وہی صارفین گیس سلنڈر ری فل کرا سکتے ہیں جنہوں نے 25 دن کا مقررہ وقفہ مکمل کیا ہو۔ جن صارفین نے 25 دن سے کم عرصے میں دوبارہ سلنڈر لینے کی کوشش کی انہیں ڈسٹری بیوشن مراکز سے واپس لوٹا دیا جا ریا ہے۔
In light of current geopolitical disruptions to fuel supply and constraints on supply of LPG, Ministry has issued orders to oil refineries for higher LPG production and using such extra production for domestic LPG use.
— Ministry of Petroleum and Natural Gas #MoPNG (@PetroleumMin) March 9, 2026
The ministry has prioritised domestic LPG supply to…
وہیں حکومت نے کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی پر بھی کچھ پابندیاں عائد کی ہیں۔ گیس ایجنسیز کو ہدایت دی گئی ہے کہ کمرشل سلنڈروں کی تقسیم کے دوران اسپتالوں، نرسنگ ہومز ، تعلیمی اداروں اور ہنگامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ہی ترجیح دی جائے۔
نئی ہدایات سے ہوٹل اور ریستوران کا شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔ موجودہ ہدایات کے مطابق "اگر کوئی ہوٹل یا ریستوران پانچ یا چھ سلنڈر طلب کرے تو اسے فی الحال صرف ایک سلنڈر ہی فراہم کیا جائے گا۔"
جموں کے ایک ہوٹل مالک ونود سرین نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "اگرچہ فی الحال یہ پابندیاں قابلِ برداشت ہیں، لیکن اگر یہ طویل عرصے تک جاری رہیں تو آنے والے دنوں میں کاروبار کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔" انہوں نے کہا کہ "جموں و کشمیر خاص کر جموں ایک اہم سیاحتی مقام ہے جہاں ہر سال لاکھوں سیلانیوں کے ساتھ ساتھ لاکھوں یاتری بھی ماتا ویشنو دیوی کے درشن کے لیے آتے ہیں، اس لیے حکومت کو ایسے اقدامات نافذ کرتے وقت سیاحوں اور یاتریوں کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔"
فی الحال انتظامیہ اور گیس ایجنسیاں اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باوجود جموں میں کوئی پینک یا افراتفری پیدا نہ ہو اور ایل پی جی کی فراہمی منظم اور قابو میں رہے۔
قابل ذکر ہے کہ پیٹرولیم اینڈ نیچرل گیس کی وزارت نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا ہے کہ "حکومت نے (رسوئی گیس) گھریلو صارفین کے لیے ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے 25 دن کا وقفہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔" بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "درآمد شدہ ایل پی جی کو غیر گھریلو ضروری شعبوں جیسے اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیا جا رہا ہے۔"

وزارت نے مزید بتایا کہ دیگر غیر گھریلو شعبوں کو ایل پی جی فراہم کرنے کے معاملے پر غور کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے تین ایگزیکٹو ڈائریکٹروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو ریستوران، ہوٹلوں اور دیگر صنعتوں کی درخواستوں کا جائزہ لے گی۔
یہ بھی پڑھیں:
یکم دسمبر سے کمرشل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں تخفیف، جانیں تازہ دام

