اردو

urdu

ETV Bharat / bharat

ووٹ چوری معاملے پر پرینکا گاندھی کا الیکشن کمیشن پرنشانہ، کہا، اتنا بڑا 'کانڈ' ہوا اور آپ جانچ نہیں کرا رہے

پرینکا گاندھی نے اشاروں اشاروں میں الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے بی جے پی کو اہمیت دینے کا الزام لگایا ہے۔

ووٹ چوری معاملے پر پرینکا گاندھی کا الیکشن کمیشن پرنشانہ
ووٹ چوری معاملے پر پرینکا گاندھی کا الیکشن کمیشن پرنشانہ (ANI)

By PTI

Published : August 8, 2025 at 2:48 PM IST

نئی دہلی: انتخابی دھاندلی معاملے میں راہل کے دعوے پر حلف مانگنے والے الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کو کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ الیکشن کمیشن نے راہل گاندھی سے حلف کے تحت انتخابی دھاندلی کے بارے میں اپنے دعووں کی تفصیلات شیئر کرنے کو کہا ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ، الیکشن کمیشن کے عہدیدار اگر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری صرف بی جے پی کی ہے تو انہیں دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پرینکا گاندھی کا پول اتھارٹی پر حملہ اس وقت سامنے آیا جب جمعرات کو کم از کم تین ریاستوں کے چیف الیکٹورل آفیسرز نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے کہا کہ وہ ان ووٹر کے نام شیئر کریں، جن سے متعلق ان کا دعویٰ تھا کہ وہ یا تو ووٹر لسٹوں میں غلط طریقے سے شامل یا خارج کر دیے گئے ہیں اور ساتھ ہی اس معاملے میں ضروری کارروائی شروع کرنے کے لیے ایک دستخط شدہ اعلامیہ بھی شامل ہے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع نے کہا کہ راہل گاندھی کو یا تو کنڈکٹ آف الیکشن رولز کے تحت ایک اعلامیہ پر دستخط کرنا چاہئے اور ان لوگوں کی فہرست پیش کرنی چاہئے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ یا تو غلط طریقے سے ووٹر لسٹ میں شامل یا ہٹائے گئے ہیں یا پھر انہیں ہندوستان کے لوگوں کو "گمراہ کرنا" بند کرنا چاہئے اور پول اتھارٹی کے خلاف "بے بنیاد الزامات لگانا" بند کرنا چاہئے۔

اس معاملے پر پوچھے جانے پر پرینکا گاندھی نے کہا، یہ سمجھ لیں، وہ جو حلف نامہ مانگ رہے ہیں وہ ایک قانون کے تحت ہے جس میں آپ کو 30 دن کے اندر عرضی دینی ہوگی ورنہ کچھ نہیں ہوگا، تو وہ حلف نامہ کیوں مانگ رہے ہیں؟ اتنا بڑا انکشاف ہوا ہے، اگر یہ غیر ارادی ہے تو اس کی تحقیقات کروائیں"۔ انہوں نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن ووٹروں کی فہرست مشین ریڈ ایبل فارمیٹ میں کیوں نہیں دے رہا اور تحقیقات کیوں نہیں کر رہا؟

پرینکا گاندھی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں نامہ نگاروں سے کہا، اس کے بجائے آپ ایک حلف نامے پر دستخط کرنے کا کہہ رہے ہیں، جو ہم پارلیمنٹ میں جو حلف لیتے ہیں اس سے بڑا حلف ہے۔ ہم نے وہ حلف اٹھایا ہے، ہم سب کچھ عوام کے سامنے کہہ رہے ہیں اور ثبوت آپ کو دکھا رہے ہیں۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے راہل گاندھی کے دعووں کو دہراتے ہوئے کہا کہ، ایک اسمبلی میں ایک لاکھ سے زیادہ جعلی ووٹ ملے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ جس کو ووٹ دیں گے وہ جیت جائے گا۔

الیکشن کمیشن کے تنقیدی تبصروں پر، پرینکا گاندھی نے پوچھا کہ وہ کیسے جان گئے کہ دعوے غلط ہیں جب انہوں نے اس کی تحقیقات ہی نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ شواہد ان کے سامنے ہیں اور انہیں اس کی چھان بین کرنی ہے۔ جب تک وہ اس کی تحقیقات نہ کریں، وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ اس سے بڑا کوئی معاملہ نہیں ہو سکتا۔

پرینکا نے زور دے کر کہا، یہ ہمارے ملک کی جمہوریت ہے۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ یہ کسی ایک پارٹی یا دوسری پارٹی کے بارے میں نہیں ہے۔ اگر انہوں نے اس کی تحقیقات نہیں کی ہے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کوڑا کرکٹ ہے۔

"مجھے افسوس ہے کہ ان پر ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری صرف بی جے پی اور صرف ایک پارٹی کی ہے تو انہیں اس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جیسا کہ میرے بھائی نے کہا تھا کہ ایک دن آئے گا جب دوسرے لوگ اقتدار میں ہوں گے اور پھر جن لوگوں نے ہماری جمہوریت کی اس طرح کی مکمل تباہی میں ملی بھگت کی ہے انہیں اس کا جواب دینا پڑے گا،"۔

پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ انہیں اس کا جواب دینا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا بلاک کے رہنما مل کر فیصلہ کریں گے کہ انتخابات میں دھاندلی کے معاملے کو آگے کیسے بڑھایا جائے۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ، یہ آپ پر واضح ہو گا اور ان کے لیڈر جس طرح سے جواب دے رہے ہیں اس سے بھی واضح ہو گیا ہے۔ اگر آپ کسی استاد کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ دھوکہ دہی ہو رہی ہے تو کیا استاد آپ کو تھپڑ مارے گا یا کہے گا کہ اس کی جانچ ہو گی۔ یہاں وہ اسے (راہل گاندھی) کو گالی دے رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ایک حلف نامے پر دستخط کریں۔ اگر اتنا بڑا 'کانڈ' آپ (الیکشن کمیشن) کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے اور آپ اس کی تحقیقات نہیں کر رہے ہیں۔

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف نے دعویٰ کیا ہے کہ مہاراشٹر کے علاوہ کرناٹک کے ایک حلقے میں 1,00,250 ووٹوں کی ووٹ چوری ہوئی تھی۔

اے آئی سی سی کے اندرا بھون ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں راہل گاندھی نے مبینہ انتخابی دھاندلی پر پریزنٹیشن دی، راہل گاندھی نے اپنے دعوؤں پر دستخط شدہ اعلامیہ کا مطالبہ کرنے پر الیکشن کمیشن پر بھی جوابی حملہ کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ ریمارکس عوامی طور پر کیے ہیں اور وہ اسے "حلف کے طور پر لے سکتے ہیں"۔

یہ بھی پڑھیں: