تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے مجلس کا سات حلقوں پر قبضہ برقرار

author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : Dec 3, 2023, 8:04 PM IST

Updated : Dec 3, 2023, 10:20 PM IST

تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے مجلس کا سات حلقوں پر قبضہ برقرار

تلنگانہ انتخابات کے نتائج کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ریاست کی تشکیل کے بعد 2014 سے کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کو ہر اسمبلی انتخابات میں 7 نشستیں ہی حاصل ہوئی ہیں۔

حیدرآباد : تلنگانہ انتخابات کے نتائج کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ریاست کی تشکیل کے بعد 2014 سے کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کو ہر اسمبلی انتخابات میں 7 نشستیں ہی حاصل ہوئی ہیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد 2014 کے اسمبلی انتخابات میں مجلس نے حلقہ چامینار، یاقوت پورہ، نامپلی، بہادرپورہ، ملک پیٹ اور چندرائن گٹہ پر قبضہ کیا تھا تاہم ان حلقوں پر 2018 اور 2023 کے اسمبلی انتخابات میں بھی مجلس نے اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے جبکہ اس مرتبہ مجلس نے 9 حلقوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے لیکن 7 حلقوں پر ہی پارٹی کو کامیابی ملی۔

ہر بار کی طرح اس بار بھی حلقہ چندرائن گٹہ سے اکبرالدین اویسی نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ انہوں نے تقربیاً ایک لاکھ ووٹ حاصل کئے اور اپنے قریبی فریق کو 81660 ووٹوں سے شکست دی۔ حلقہ چارمینار سے میر ذوالفقار علی کو 49103 ووٹ ملے اور انہوں نے تقریباً 23 ہزار ووٹوں کے مارجن سے جیت حاصل کی۔ اسی طرح حلقہ بہادر پورہ سے محمد مبین نے 89451 ووٹ حاصل کئے اور شاندار جیت درج کی۔

یہ بھی پڑھیں: تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے سی آر نے اپنا استعفیٰ گورنر کو پیش کردیا

وہیں حلقہ ملک پیٹ سے احمد عبداللہ بلعلہ نے 55805 ووٹ حاصل کرکے اپنے قریبی فریق کانگریس کے امیدوار شیخ اکبر کو 26106 ووٹوں کے فرق سے ہرایا۔ نامپلی سے ماجد حسین نے کانگریس کے امیدوار فیروز خان کو شکست دی جبکہ حلقہ کاروان سے کوثر محی الدین نے 76942 ووٹ حاصل کرکے حلقہ پر قبصہ کو برقرار رکھا۔ اسی طرح حلقہ یاقوت پورہ سے جعفر حسین معراج نے ایم بی ٹی کے امیدوار امجد اللہ خان کو 878 ووٹوں کے فرق سے شکست دینے میں کامیاب رہے۔

Last Updated :Dec 3, 2023, 10:20 PM IST
ETV Bharat Logo

Copyright © 2024 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.