Febrile Seizures Diseases بچوں میں تیز بخار کے دوران دورے کیوں پڑتے ہیں؟

author img

By ETV Bharat Urdu Desk

Published : Sep 25, 2023, 5:18 PM IST

Updated : Sep 25, 2023, 5:53 PM IST

dr-anzeen-kanth-interview-regarding-febrile-seizures-and-child-related-diseases

بچوں کی ماہر ڈاکٹر انظین کنٹھ نے ای ٹی وی بھارت کے نمائندے پرویز الدین سے چھوڑے بچوں میں بخار کے دوران جھٹکے، فیبرائل فٹس سمیٹ بچوں کی پیچیدہ بیماری کی علامت کے بارے میں خصوصی گفتگو کی ہیں۔

بچوں میں تیز بخار کے دوران دورے کیوں پڑتے ہیں؟

سرینگر:تیز بخار کے دوران چھوٹے بچوں میں جھکٹے آجاتے ہیں،جس سے طبی اصطلاح میں "فیبرائل فٹس" کہتے ہیں۔بخار کے ان جھکٹوں کا دورانیہ کبھی کم اور کبھی زیادہ وقت کا بھی ہوتا ہے۔اس دوران کئی بچوں کی آنکھیں بھی گھوم جاتی ہیں جبکہ بے ہوشی کے عالم میں منہ سے جھاگ نکلنے لگتا ہے اور ہاتھ پیر غیر ارادی طور پر حرکت کرنے لگتے ہیں ایسا لگتا ہے گویا مریض بے ہوشی کی حالت میں تڑپ رہا ہے۔


بخار کے یہ دورے کیا ہیں، یہ زیادہ تر چھوٹے بچوں میں تیز بخاری کے دوران کیوں پڑتے ہیں، فیبرائل فٹس کوئی عام یا معمولی تکلیف ہے یا کسی پیچیدہ بیماری کی علامت ہیں۔اس سب ای ٹی وی بھارت کے نمائندے پرویز الدین خصوصی گفتگو کی بچوں کی ماہر ڈاکٹر انظین کنٹھ سے۔


انہوں نے کہا کہ دماغی خلیوں کو" نیورونز" کہتے ہیں۔ یہ نیورونز تمام جسم کی حرکات و سکنات،حسیات واحساسات کو قابو میں رکھتے ہیں۔اس لیے نیورونز میں قدرتی طور پر ایک برقی نظام قائم رہتا ہے۔لیکن اگر اس برقی نظام میں کوئی خرابی یا خلل آجائے تو جھکٹے پڑ سکتے ہیں۔ایسے میں تیز بخار کے دوران کسی کو بھی دورے پڑسکتے ہیں۔تاہم یہ دورے اکثر 6 ماہ سے 5 سال تک کے عمر کے بچوں میں زیادہ پڑ جاتے ہیں ۔ایسے میں ان میں یہ جھٹکے آنے کا احتمال کم رہتا ہے لیکن چھوٹے بچوں کا دماغ ابھی پوری طرح سے پختہ نہیں ہوا ہوتا ہے جس کی وجہ انہیں تیز بخار میں اس طرح کے دورے زیادہ پڑنے کے امکانات رہتے ہیں۔



ڈاکٹر انظین نے کہا کہ بچوں میں تیز بخار کے دوران پڑنے والے دورے دو قسم کے ہوتے ہیں جس کا دورانیہ 15 منٹ سے کم رہتا ہے اور دوسرا جس کا دورانیہ 15 منٹ سے زیادہ ہوتا ہے۔پہلے قسم کا بخارہ دورہ ایک عام دورہ ہے جو کہ از خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے اور اس میں 95 فیصد سے زائد بچوں میں مستبقل میں کسی خطرناک یا پیچیدہ بیماری کا کم احتمال رہتا ہے۔چند فیصد بچے ایسے ہیں جنہیں اس طرح کے جھٹکے کسی پیچیدہ بیماری کی علامت بھی ہوسکتی ہے،جو کہ کسی دماغی تکالیف کے علاوہ مرگی جیسا مرض بھی ہوسکتا ہے۔


ایک سوال جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسے بخار کے دورے ان بچوں کو زیادہ متاثر کرتے ہیں جن میں خون کی کمی پائی جاتی ہو،کیلشیم یا سوڈیم کی کمی کی وجہ سے چھوٹے بچوں میں یہ دورے پڑ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ موروثی بھی ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کوئی خطرناک مرض نہیں۔ اس لئے والدین یا گھر والوں کو پریشان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔تاہم اپنے بچے کو وقت پر ڈاکٹر سے تشخیص کروانا چائیے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ کیا یہ معمولی بخار کے جھٹکے ہیں یا کسی پیچیدہ بیماری کے علامات۔وہیں جن بچوں کو اس طرح کی شکایت ہو ایسے میں گھروں میں بخار کی دوا ہمیشہ موجود ہونی چائیے تاکہ جب بھی بچے کو بخار محسوس ہو فوری طور پر اسے دوا دیکر جسم کے درجہ حرارت کو کم کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں: Seasonal Flu in Kashmir: بچے موسمی فلو سے متاثر، کووڈ سے کوئی تعلق نہیں

بات چیت کے دوران ڈاکٹر انظین کنٹھ نے کہا کہ جھٹکے کے دوران یا بے ہوشی کی حالت میں بچے کو کوئی دوائی یا پانی وغیر پلانے کی ہرگیز کوشش نہ کریں جب تک وہ پوری طرح سے ہوش میں نہ آجائے ورنہ یہ دوا بچے کے پھیپڑوں یا سانس کی نلی میں بھی جاسکتی ہے۔بہتر ہے جھٹکے آنے پر بچے کو کروٹ پر کریں 2سے 3 منٹ بعد کم دورانیہ کے یہ جھٹکے رک جائے گے۔

Last Updated :Sep 25, 2023, 5:53 PM IST
ETV Bharat Logo

Copyright © 2024 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.