ETV Bharat / state

Human Rights Activists in Kashmir: کشمیر میں پانچ اگست 2019 کے بعد انسان حقوق کارکن خاموش کیوں؟

author img

By

Published : Aug 3, 2022, 9:11 PM IST

Updated : Aug 3, 2022, 10:44 PM IST

دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد جہاں ایک طرف جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام لایا گیا، وہیں دوسری جانب جموں و کشمیر کے منسوخ شدہ آئین کے تحت کام کرنے والے کئی کمیشن اور کمیٹیوں کے وجود کو بھی ختم کر دیا گیا۔ Abrogation of Article 370

after-article-370-abogation-human-rights-activists-are-silent-in-kashmir
کشمیر میں پانچ اگست 2019 کے بعد انسان حقوق کارکن خاموش کیوں؟

سرینگر: شہر سرینگر کی پرتاپ پارک میں ہر ماہ کی دس تاریخ کو ایسوسی ایشن فار پیرنٹس آف ڈس اپیرڈ پرسنز Association for Parents of Disappeared Persons خاموش احتجاج کرتے تھے۔ یہ احتجاج کشمیر کے ان افراد کے اہل خانہ کی جانب سے کرائے جاتے تھے جن کے گھر کا کوئی فرد شورش زدہ کشمیر میں لاپتہ ہوا اور بعد میں اس کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ ان افراد کو سرینگر کی ایک خاتون اور سنہ 2017 میں انسانی حقوق کے لیے رافٹو انعام پانے والے پروینہ آہنگر نے ای پی ڈی پی کے تحت یکجا کیا تھا، لیکن سنہ 2019 کے اگست کے بعد یہ مظاہرے ختم ہوئے اور مظاہرین بھی پرتاپ پارک سے غائب ہیںParveena Ahanger human rights activist of kashmir

کشمیر میں پانچ اگست 2019 کے بعد انسان حقوق کارکن خاموش کیوں؟

دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد مرکزی سرکار نے کشمیر میں انسانی حقوق کے کارکنان اور اداروں پر شکنجہ کس کر انہیں خاموش کیا۔پروینہ آہنگر کے گھر پر سنہ 2020 کے اکتوبر میں این آئی اے نے چھاپے ڈالے اور ان سے پوچھ گچھ بھی کی۔ اس روز سے پروینہ اہنگر خاموش ہیں اور اے پی ڈی پی غیر فعال ہے۔APDP in Active After Article 370 Abrogration

سرینگر کے دوسری رافٹو انعام یافتہ انسانی حقوق کارکن خرم پرویز کو حکام نے سنہ 2021 میں یو اے پی اے کے تحت مقدمات درج کرکے قید کیا ہے اور ان کا ادارہ کولیشن آف سول سوسائٹی بھی تب سے غیر فعال ہے۔این آئی اے نے مبینہ ٹیرر فنڈنگ کے الزام میں خرم پرویز کو گرفتار کر کے تہاڑ جیل میں بند کر دیا۔خرم پرویز جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی' کے کواڈینیٹر تھے جس نے کشمیر میں شورش کے دوران حقوِق انسانی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر متعدد رپورٹس شائع کیں جن کو عالمی سطح پر تشہیر ملی۔Khurram Pavaiz Detained Under UAPA

وادی کے تیسرے نامور انسانی حقوق کارکن محمد احسن اونتو کو بھی گزشتہ برس قید کیا گیا ہے۔ اونتو ضلع کپواڑہ کے لولاب کے رہنے والے ہیں اور شورش کے دوران انسانی حقوق کی پامالیوں پر کام کر رہے تھے۔احسن اونتو انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ پیس کے نام سے گروپ چلا رہے تھے جو وادی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے نوے کی دہائی میں ہوئے قتل عام کے لواحقین کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انہوں نے کئی رپورٹس شائع کی تھیں جو حکومت کیلئے ناخوشگوار تھیں۔ International Forum for Justice and Peace Mohammad Ahsan Untoo detained

مزید پڑھیں:

دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد یہ تمام گروپ خاموش ہوگئے ۔عام رائے ہے کہ سرکار نے انسانی حقوق کارکنان کو عسکریت پسندی سے منسلک کرکے ان پر اپنا شکنجہ کس کر ان پر خوف طاری کیا ہے تاکہ کوئی سرکار کے خلاف آواز نہ اٹھائے۔وہیں وادی کی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ پانچ اگست کے بعد جموں و کشمیر میں جب بنیادی جمہوری حقوق چھینے گئے تو انسانی حقوق کی بات ہی نہیں۔Democratic Rights Snatched in jk

بتادیں کہ دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد جہاں ایک طرف جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام لایا گیا، وہیں دوسری جانب جموں و کشمیر کے منسوخ شدہ آئین کے تحت کام کرنے والے کئی کمیشن اور کمیٹیوں کے وجود کو بھی ختم کیا گیا۔ After Abrogation of article 370 jk constitution repealed

Last Updated :Aug 3, 2022, 10:44 PM IST
ETV Bharat Logo

Copyright © 2024 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.