کانگریس کی ترجیح کسان مزدور، مودی کی ترجیح اڈانی جیسے صنعت کار، راہل

author img

By ETV Bharat Urdu Desk

Published : Nov 15, 2023, 8:07 PM IST

راہل

راہل گاندھی نے کہا کہ ان انتخابات میں مودی کی گارنٹی کے بارے میں بہت باتیں کی جاتی ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ مودی کی گارنٹی کا مطلب اڈانی کی گارنٹی ہے۔

بیمیترا/بلودہ بازار (چھتیس گڑھ): کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس کی حکومتیں گاووں، غریبوں، کسانوں اور مزدوروں کو آگے بڑھانے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں، جب کہ وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کی حکومتیں اڈانی جیسے صنعت کاروں کو آگے بڑھانے میں اپنی پوری طاقت لگا رہی ہیں۔

آج ریاست میں انتخابی مہم کے آخری دن گاندھی نے بیمیترا اور بلودہ بازار میں دو الگ الگ بڑی انتخابی میٹنگوں میں کہا کہ جہاں جہاں ہماری حکومتیں ہیں، کھڑگے جی نے صاف صاف کہا ہے کہ مودی اور بی جے پی کی حکومتیں جتنا پیسہ اڈانی کو دیتی ہیں اتنی ہی رقم فلاحی اسکیموں کے ذریعے کسانوں اور مزدوروں کے کھاتوں میں جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیسہ کسانوں، مزدوروں اور خواتین کے پاس جائے گا تو وہ صرف گاؤں، چھوٹے قصبوں اور شہروں میں خرچ ہو گا اور وہاں کی معیشت مضبوط ہو گی، جب کہ اڈانی گاوں میں پیسہ خرچ نہیں کر رہے ہیں، وہ بیرون ملک خرچ کریں گے، کارخانے خریدیں گے اور اپنا کاروبار بڑھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں مودی کی گارنٹی کے بارے میں بہت باتیں کی جاتی ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ مودی کی گارنٹی کا مطلب اڈانی کی گارنٹی ہے۔ اڈانی جی جو کچھ کرنا چاہیں گے، مودی جی اسے پورا کریں گے۔ وہ جو بھی زمین یا کان چاہیں گے، مودی اسے پورا کریں گے لیکن وہ اپنے انتخابی وعدے پورے نہیں کریں گے۔ اس بات کی پوری گارنٹی ہے کہ کانگریس نے جو گارنٹی دی ہے اسے پورا کیا جائے گا۔ ہم نے یہ کرناٹک، ہماچل پردیش میں کیا ہے اور چھتیس گڑھ میں بھی ہم نے پچھلے انتخابات میں کیے گئے زیادہ تر وعدوں کو پورا کیا ہے۔ اس بار ریاست میں کانگریس کی طرف سے دی گئی ضمانتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تحریری طور پر رکھ لیجئے کہ حکومت بننے کے بعد وزراء کونسل کی پہلی میٹنگ میں دھان کی خرید 3200 روپے فی کوئنٹل، کسانوں کا قرض معاف، خواتین کو سالانہ 15 ہزار روپے اور سلنڈر پر 500 روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

گاندھی نے کہا کہ جب سے انہوں نے ذات پات کی مردم شماری کی بات شروع کی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہاں او بی سی کی آبادی کتنی ہے اور انہیں کتنی شراکت ملی ہے، مودی نے اپنی نئی تقریر شروع کی ہے کہ کوئی ذات نہیں ہوتی، غریبوں کی صرف ایک ذات ہوتی ہے۔ پہلے اپنے خود کو او بی سی کہتے ہوئے نہیں تھکنے والے جب او بی سی کو حقوق دینے کی بات آئی تو انہوں نے اپنا راستہ بدل لیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی او بی سی کے ووٹ لینا چاہتے ہیں لیکن انہیں حصہ داری نہیں دینا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کم از کم 50 فیصد آبادی او بی سی ہے، جب ہماری حکومتیں کسانوں، مزدوروں اور خواتین کے لیے کچھ کرتی ہیں تو اس کا فائدہ او بی سی کو ملتا ہے۔ دوسری طرف، اگر اڈانی جیسے صنعت کاروں کے قرضے معاف کر دیے جائیں تو او بی سی کو ایک پیسے کا بھی فائدہ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: راجستھان بی جے پی کا بڑا اقلیتی چہرہ امین پٹھان کانگریس میں شامل

انہوں نے کہا کہ جس دن ذات پات کی مردم شماری ہو گی اور او بی سی، دلت، قبائلی عوام کو حقیقی آبادی اور طاقت کا پتہ چل جائے گا اور ان کی حصہ داری کے بارے میں بھی پتہ چل جائے گا، اس دن آزادی کے بعد ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی انقلابی تبدیلی ہوگی۔ اس تبدیلی کو کوئی نہیں روک سکتا۔وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے بھی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے وعدے اور ضمانتیں بی جے پی اور مودی کے نعروں کی طرح نہیں ہیں، ہم نے پچھلی بار بھی وعدے پورے کیے ہیں اور اس بار بھی پورے کریں گے۔ یو این آئی۔

ETV Bharat Logo

Copyright © 2024 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.