جماعت اسلامی پر پابندی، 'حکومت نظر ثانی کرے'۔

author img

By

Published : Mar 7, 2019, 8:31 PM IST

جموں و کشمیر کے سابق وزیر عمران رضا انصاری نے کہا کہ جہاں حکومت غریب و مسکین لوگوں کی مدد سے قاصر رہی وہاں جماعت اسلامی پیش پیش رہی۔

عمران رضا انصاری نے کہا :' حکومت کو پہلے تحقیقات کرنی چاہیے اس کے بعد کوئی فیصلہ لینا چاہیے ۔اگر ان کے پاس کوئی جماعت کے خلاف عسکریت پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت ہیں تو ان ثبوتوں کو عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے'۔

انہوں نے کہا جماعت اسلامی پر پابندی کے فیصلے پر حکومت کو دوبارہ سوچ لینا چاہیے۔

عمران رضا انصاری

پیپلز کانفرنس کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ لاکھوں لوگ منسلک ہیں اور اس جماعت نے ایسے افراد کو جنم دیا ہے جنہیں ہم قابل تحسین مانتے ہیں۔

عمران رضا انصاری نے کہا کہ اگر محبوبہ مفتی کے وقت ڈوزیر بنا ہے تو انہیں اس پر بات کرنی چائے اور سابقہ مخلوط حکومت کے دوران ریاستی کابینہ میں ایسی کوئی چیز سامنے نہیں لائی گئی جس سے یہ ظاہر ہوتا کہ جماعت اسلامی کسی قسم کےملک دشمن کام انجام دے رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں میں خدشات ہیں اور ان کے اندر خوف تاری ہے اور وادی کشمیر میں امن بحالی کے لیے حکومت ہند کو سنجیدگی کے ساتھ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

رضا انصاری نے جماعت اسلامی پر مرکزی کی جانب سے عائد پابندی کو جلد بازی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نہ صرف مذہبی بلکہ یہ ایک فلاح تنظیم ہے جس سے لاکھوں لوگ بلواسطہ یا بالواسطہ طور جڑے ہوئے ہیں۔

انہوں مزید کہا کہ اس وقت مرکزی سرکار کو جماعت پر عائد پابندی پر ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

سابق وزیر نے کہا کہ پکڑ دھکڑ کے بیچ ریاست میں اکھٹے اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کے لیے ماحول ساز گار نہیں ہے۔

Intro: ڈوزیر کے حوالے سے سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی محبوبہ بات کریں ۔عمران رضا انصاری


Body:اگر محبوبہ مفتی کے وقت ڈوزیر بنا ہے تو اس پر سابق وزیر اعلی کو بات کرنی چائے ۔اور سابقہ مخلوط حکومت کے دوران ریاستی کابینہ میں ایسی کوئی چیز سامنے نہیں لائی گئی جس سے یہ ظاہر ہوتا کہ جماعت اسلامی کسی قسم کےملک دشمن کام انخام دے رہی ہے ۔
ان باتوں کا اظہار پیپلز کانفرنس کے جنرل سیکرٹری اور سابق وزیر عمران رضا انصاری نے ای ٹی وی کے ساتھ ایک بات چیت کے دوران کیا ۔انہوں نے جماعت اسلامی پر مرکزی کی جانب سے عائد پابندی کو جلد بازی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نہ صرف مذہبی بلکہ یہ ایک فلاح تنظیم ہے جس سے لاکھوں لوگ بلواسطہ یا بالواسطہ طور جڑے ہوئے ہیں
انہوں مزید کہا کہ اس وقت مرکزی سرکار کو جماعت پر عائد پابندی پر ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پکڑ دھکڑ کے بیچ ریاست میں اکھٹے اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کے لیے ماحول ساز گار نہیں ہے۔


Conclusion:ای ٹی وی بھارت کے لیے سرینگر سے پرویز الدین کی رپورٹ کے
ETV Bharat Logo

Copyright © 2024 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.