مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں 'اردو شاعری میں تصوف' پر توسیعی خطبہ

author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : Feb 13, 2024, 7:07 PM IST

Updated : Feb 13, 2024, 7:14 PM IST

MANUU Press release

مانو میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شمیم طارق نے تصوف کی اصطلاحات مثلاً ذاتِ الٰہی، فنا اور بقا، مجاز اور حقیقت، جنت اور جہنم، سلوک و معرفت، مجذوبیت وغیرہ سے واقف کرانے کے ساتھ ساتھ مومن اور موحد کا فرق، سوشلزم اور تصوف کے تعلق پر روشنی ڈالی۔

حیدرآباد: "تصوف اور اردو شاعری دونوں کی بنیاد محبت ہے۔ تصوف کو ہمارے بزرگوں نے دل کی بیداری کے طور پر پیش کیا۔ تصوف پر جغرافیائی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تصوف مذہب کا متبادل نہیں بلکہ تصوف مذاہب کے باطنی پہلو پر توجہ دیتا ہے۔" ان خیالات کا اظہار ممتاز شاعر و ادیب، محقق اور صحافی جناب شمیم طارق نے شعبۂ اردو، مانو کی جانب سے ”اردو شاعری میں تصوف“ کے موضوع پر توسیعی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔

MANUU Press release
اردو یونیورسٹی میں 'اردو شاعری میں تصوف' پر توسیعی خطبہ

انھوں نے متعدد صوفیوں بشمول بلھے شاہ اور شعراءمیر، درد، غالب، مومن، اقبال، حسرت موہانی، جگر مرادآبادی وغیرہ کے کلام میں تصوف کے عناصر کی نشان دہی کی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ غیر مسلم شعرا نے بھی تصوف کے مضمون کو شاعری میں برتا۔ شمیم طارق صاحب نے تصوف کی اصطلاحات مثلاً ذاتِ الٰہی، فنا اور بقا، مجاز اور حقیقت، جنت اور جہنم، سلوک و معرفت، مجذوبیت وغیرہ سے واقف کرانے کے ساتھ ساتھ مومن اور موحد کا فرق اور سوشلزم اور تصوف کے تعلق پر بھی روشنی ڈالی۔

صدر اجلاس پروفیسر سید علیم اشرف جائسی، ڈین بہبودی طلبہ اور صدر شعبہ عربی، مانو نے کہا کہ تصوف کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ خلق خدا کے ساتھ نرمی کی جائے۔ تصوف تزکیہ نفس کا نام ہے۔ تصوف صرف اسلام میں ہے۔ بقیہ مذاہب میں روحانیت ہے۔ ابن عربی نے وحدت الوجود کا نظریہ پیش کیا۔ یہ ایک فلسفیانہ نظریہ ہے۔

MANUU Press release
اردو یونیورسٹی میں 'اردو شاعری میں تصوف' پر توسیعی خطبہ

انھوں نے مزید کہا کہ تصوف نے تین کام کیے۔ تبلیغ کتاب یعنی قرآنی تعلیمات کو عام کیا، نفوس کی تطہیر کی اور علم و حکمت یعنی شریعت کی تشہیر کی۔ ان کے مطابق تصوف نے ہمیں دو تحفے اردو شاعری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی عطا کیے۔انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ تصوف ہمارے منظرنامہ سے غائب ہوگیا ہے اس لیے اردو غزل کمزور ہوئی ہے۔

پروفیسر عزیز بانو ڈین اسکول برائے السنہ، لسانیات و ہندوستانیات نے شعبہ اردو کو اس لیکچر کے انعقاد کے لیے مبارکباد دی اور کہا کہ جناب شمیم طارق نے تصوف کے موضوع پر بہترین گفتگو کی اور اس کے مختلف پہلوؤں سے واقف کرایا۔ پروفیسر بانو نے تصوف کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی تشریح کی۔

MANUU Press release
اردو یونیورسٹی میں 'اردو شاعری میں تصوف' پر توسیعی خطبہ

پروفیسر شمس الہدیٰ دریابادی، صدر شعبہ اردو نے خیرمقدمی تقریر میں اردو شاعری میں تصوف کے حوالے سے جامع گفتگو کی اور شعرا مثلاً ولی، سراج، میر، درد، آتش، اصغر وغیرہ کے کلام سے مثالیں پیش کیں۔ انھوں نے اس بات پر اظہارِ مسرت کیا کہ تصوف کے موضوع پر گفتگو کرنے کے لیے آج دو اہم ماہرین شعبے میں تشریف فرما ہیں۔ انھوں نے مہمان مقرر شمیم طارق کا تفصیلی تعارف بھی پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں:

پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر فیروز عالم نے موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو زبان صوفیائے کرام کے زیر سایہ پروان چڑھی۔ اردو میں شعری و نثری ادب کی ابتدا میں بھی صوفیوں کو ہی اولیت حاصل رہی ہے۔ اردو شعروادب میں ابتدا سے ہی صوفیانہ افکارو خیالات کی عکاسی ہوئی ہے۔ اٹھارویں صدی کی شاعری میں اسے مرکزی مقام حاصل تھا۔ تصوف کو اس عہد کے تاریخی حالات کے تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

Last Updated :Feb 13, 2024, 7:14 PM IST
ETV Bharat Logo

Copyright © 2024 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.