ETV Bharat / bharat

راہل گاندھی نے رائے بریلی سیٹ سے پرچہ نامزدگی داخل کیا - RAHUL FILES NOMINATION

author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : May 3, 2024, 3:15 PM IST

Updated : May 3, 2024, 3:25 PM IST

راہل گاندھی نے آج رائے بریلی لوک سبھا سیٹ سے پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ اس موقعے پر سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی اور ملکارجن کھڑگے موجود رہے۔

راہل گاندھی نے رائے بریلی سیٹ سے پرچہ نامزدگی داخل کیا
راہل گاندھی نے رائے بریلی سیٹ سے پرچہ نامزدگی داخل کیا (Etv Bharat)

رائے بریلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جمعہ کو رائے بریلی لوک سبھا سیٹ سے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ راہل گاندھی نے کلکٹریٹ پہنچ کر اپنا پرچہ داخل کیا۔ اس موقعے پر ان کی والدہ سونیا گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے موجود تھے۔

واضح رہے کہ راہل گاندھی کی والدہ سونیا گاندھی 1999 سے پارلیمنٹ میں اس نشست کی نمائندگی کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے طبی وجوہات کی بنا پر موجودہ لوک سبھا انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ رائے بریلی میں راہل گاندھی کا مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دنیش پرتاپ سنگھ سے ہوگا، جنہوں نے آج ہی اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔

اس سے پہلے راہل گاندھی 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی اسمرتی ایرانی سے ہار گئے تھے، حالانکہ وہ کیرالہ کی وائناڈ سیٹ سے الیکشن جیت کر لوک سبھا پہنچے تھے۔

راہل گاندھی کے نامزدگی کے جلوس کے دوران ہزاروں حامیوں کی بھیڑ تھی، جب کہ ہزاروں لوگ شدید گرمی میں سڑک کے دونوں طرف اور چھتوں پر گاندھی خاندان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے کھڑے تھے۔ اس دوران رائے بریلی کے کئی علاقوں میں ٹریفک جام ہوگیا۔ نامزدگی کے جلوس کی قیادت ان کی بہن اور قومی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کررہی تھیں۔

واضح رہے کہ رائے بریلی کی سابق رکن پارلیمنٹ سونیا گاندھی نے صحت کی وجہ سے راجیہ سبھا جاتے ہوئے یہاں کے لوگوں کو ایک جذباتی خط لکھا تھا کہ ان کی جگہ ان کے خاندان کا کوئی فرد یہاں سے الیکشن لڑے گا۔ اس کے بعد سے صرف راہل گاندھی یا ان کی بہن پرینکا گاندھی کے انتخابی جنگ میں اترنے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔

رائے بریلی سیٹ پر 1999 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے بعد سے، کانگریس لیڈر سونیا گاندھی 2019 تک مسلسل اس سیٹ سے ایم پی رہیں لیکن اس بار انہوں نے صحت کی وجہ سے الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا۔ وہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں اس سیٹ سے 56.41 فیصد ووٹوں کے ساتھ منتخب ہوئی تھیں جب کہ ان کے قریبی حریف بی جے پی کے دنیش پرتاپ سنگھ نے 38.78 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ 367740 ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس کے بعد اشوک پرتاپ موریہ تیسرے نمبر پر تھے اور آزاد سریندر بہادر سنگھ چوتھے نمبر پر تھے۔

سال 2014 کے انتخابات میں سونیا گاندھی نے بی جے پی کے اجے اگروال کو شکست دی اور 526434 ووٹ حاصل کیے جبکہ بی جے پی کے اجے اگروال کو 173721 ووٹ ملے۔ بی ایس پی تیسرے نمبر پر رہی۔ اس سیٹ پر پہلے انتخابات 1952 میں ہوئے تھے اور تب سے اب تک 19 انتخابات میں کانگریس 16 بار جیت چکی ہے۔ جنتا پارٹی کے راج نارائن نے 1977 میں اس سیٹ پر اندرا گاندھی کو شکست دی تھی اور اس کے بعد بی جے پی کے اشوک سنگھ نے 1996 میں یہ سیٹ جیتی تھی۔ اگر سونیا گاندھی اس بار الیکشن لڑتی تو وہ مسلسل چھٹی بار لوک سبھا پہنچ سکتی تھیں۔ (یو این آئی)

یہ بھی پڑھیں:

رائے بریلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جمعہ کو رائے بریلی لوک سبھا سیٹ سے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ راہل گاندھی نے کلکٹریٹ پہنچ کر اپنا پرچہ داخل کیا۔ اس موقعے پر ان کی والدہ سونیا گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے موجود تھے۔

واضح رہے کہ راہل گاندھی کی والدہ سونیا گاندھی 1999 سے پارلیمنٹ میں اس نشست کی نمائندگی کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے طبی وجوہات کی بنا پر موجودہ لوک سبھا انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ رائے بریلی میں راہل گاندھی کا مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دنیش پرتاپ سنگھ سے ہوگا، جنہوں نے آج ہی اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔

اس سے پہلے راہل گاندھی 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی اسمرتی ایرانی سے ہار گئے تھے، حالانکہ وہ کیرالہ کی وائناڈ سیٹ سے الیکشن جیت کر لوک سبھا پہنچے تھے۔

راہل گاندھی کے نامزدگی کے جلوس کے دوران ہزاروں حامیوں کی بھیڑ تھی، جب کہ ہزاروں لوگ شدید گرمی میں سڑک کے دونوں طرف اور چھتوں پر گاندھی خاندان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے کھڑے تھے۔ اس دوران رائے بریلی کے کئی علاقوں میں ٹریفک جام ہوگیا۔ نامزدگی کے جلوس کی قیادت ان کی بہن اور قومی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کررہی تھیں۔

واضح رہے کہ رائے بریلی کی سابق رکن پارلیمنٹ سونیا گاندھی نے صحت کی وجہ سے راجیہ سبھا جاتے ہوئے یہاں کے لوگوں کو ایک جذباتی خط لکھا تھا کہ ان کی جگہ ان کے خاندان کا کوئی فرد یہاں سے الیکشن لڑے گا۔ اس کے بعد سے صرف راہل گاندھی یا ان کی بہن پرینکا گاندھی کے انتخابی جنگ میں اترنے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔

رائے بریلی سیٹ پر 1999 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے بعد سے، کانگریس لیڈر سونیا گاندھی 2019 تک مسلسل اس سیٹ سے ایم پی رہیں لیکن اس بار انہوں نے صحت کی وجہ سے الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا۔ وہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں اس سیٹ سے 56.41 فیصد ووٹوں کے ساتھ منتخب ہوئی تھیں جب کہ ان کے قریبی حریف بی جے پی کے دنیش پرتاپ سنگھ نے 38.78 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ 367740 ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس کے بعد اشوک پرتاپ موریہ تیسرے نمبر پر تھے اور آزاد سریندر بہادر سنگھ چوتھے نمبر پر تھے۔

سال 2014 کے انتخابات میں سونیا گاندھی نے بی جے پی کے اجے اگروال کو شکست دی اور 526434 ووٹ حاصل کیے جبکہ بی جے پی کے اجے اگروال کو 173721 ووٹ ملے۔ بی ایس پی تیسرے نمبر پر رہی۔ اس سیٹ پر پہلے انتخابات 1952 میں ہوئے تھے اور تب سے اب تک 19 انتخابات میں کانگریس 16 بار جیت چکی ہے۔ جنتا پارٹی کے راج نارائن نے 1977 میں اس سیٹ پر اندرا گاندھی کو شکست دی تھی اور اس کے بعد بی جے پی کے اشوک سنگھ نے 1996 میں یہ سیٹ جیتی تھی۔ اگر سونیا گاندھی اس بار الیکشن لڑتی تو وہ مسلسل چھٹی بار لوک سبھا پہنچ سکتی تھیں۔ (یو این آئی)

یہ بھی پڑھیں:

Last Updated : May 3, 2024, 3:25 PM IST
ETV Bharat Logo

Copyright © 2024 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.