ایم پی روح اللہ کا عمر عبداللہ کے مشیر کو 'اپنے کام سے کام رکھنے' کا مشورہ

🎬 Watch Now: Feature Video

thumbnail
ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران (ای ٹی وی بھارت)

By ETV Bharat Urdu Team

Published : August 22, 2026 at 7:47 PM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر (جاوید ڈار): نیشنل کانفرنس کے باغی رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے جموں کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کے مشیر ناصر اسلم وانی المعروف سوگامی کو ’’بڑے معاملات میں مداخلت نہ کرنے‘ اور ’’اپنے کام سے کام رکھنے" کا مشورہ دیا۔ 

رکن پارلیمنٹ نے سرینگر میں میڈیا نمائندوں کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ "عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس میں جوابدہی کا فقدان ہے اور پارٹی 2024 کے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کے مطابق کام نہیں کر رہی۔"

این سی کی ٹکٹ پر سرینگر پارلیمانی نشست سے کامیابی حاصل کرنے والے آغا روح اللہ مہدی نے کہا: "جب میں انہیں ان کے وعدے یاد دلاتا ہوں اور یہ پوچھتا ہوں کہ پارٹی کو زبردست عوامی مینڈیٹ کس بنیاد پر ملا تھا؟ تو مجھے کہا جاتا ہے کہ رکنِ پارلیمنٹ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دو۔ اس طرح وہ جوابدہی سے بچ نکلتے ہیں۔"

جب ان سے نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں، جن میں راجیہ سبھا رکن چودھری رمضان اور وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی کی جانب سے حالیہ دنوں میں ان کے بارے میں دیے گئے بیانات پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو ممبر پارلیمنٹ نے کہا، ’’ان کا جوازِ حیثیت (Locus Standi) کیا ہے؟ میں یہاں عوام کے مینڈیٹ کی وجہ سے رکنِ پارلیمنٹ ہوں۔ وہ (ناصر اسلم وانی" جہاں ہیں، وہ کسی کی عنایت کی وجہ سے ہیں۔"

مہدی کا اشارہ ناصر اسلم وانی کی شمالی کشمیر میں اپنے ہی آبائی حلقۂ انتخاب سے الیکشن ہارنے کی جانب تھا تاہم اس کے باوجود عمر عبداللہ نے انہیں مشیر مقرر کیا۔

سرینگر (جاوید ڈار): نیشنل کانفرنس کے باغی رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے جموں کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کے مشیر ناصر اسلم وانی المعروف سوگامی کو ’’بڑے معاملات میں مداخلت نہ کرنے‘ اور ’’اپنے کام سے کام رکھنے" کا مشورہ دیا۔ 

رکن پارلیمنٹ نے سرینگر میں میڈیا نمائندوں کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ "عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس میں جوابدہی کا فقدان ہے اور پارٹی 2024 کے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کے مطابق کام نہیں کر رہی۔"

این سی کی ٹکٹ پر سرینگر پارلیمانی نشست سے کامیابی حاصل کرنے والے آغا روح اللہ مہدی نے کہا: "جب میں انہیں ان کے وعدے یاد دلاتا ہوں اور یہ پوچھتا ہوں کہ پارٹی کو زبردست عوامی مینڈیٹ کس بنیاد پر ملا تھا؟ تو مجھے کہا جاتا ہے کہ رکنِ پارلیمنٹ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دو۔ اس طرح وہ جوابدہی سے بچ نکلتے ہیں۔"

جب ان سے نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں، جن میں راجیہ سبھا رکن چودھری رمضان اور وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی کی جانب سے حالیہ دنوں میں ان کے بارے میں دیے گئے بیانات پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو ممبر پارلیمنٹ نے کہا، ’’ان کا جوازِ حیثیت (Locus Standi) کیا ہے؟ میں یہاں عوام کے مینڈیٹ کی وجہ سے رکنِ پارلیمنٹ ہوں۔ وہ (ناصر اسلم وانی" جہاں ہیں، وہ کسی کی عنایت کی وجہ سے ہیں۔"

مہدی کا اشارہ ناصر اسلم وانی کی شمالی کشمیر میں اپنے ہی آبائی حلقۂ انتخاب سے الیکشن ہارنے کی جانب تھا تاہم اس کے باوجود عمر عبداللہ نے انہیں مشیر مقرر کیا۔