قبل از وقت یاترا کا اختتام عقیدت مندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف: مہنت دپیندر گری
🎬 Watch Now: Feature Video


Published : August 25, 2026 at 2:40 PM IST
اننت ناگ، جموں وکشمیر (میر اشفاق)
امرناتھ چھڑی مبارک کے نگراں مہنت دپیندر گری نے کہا ہے کہ سالانہ شری امرناتھ جی یاترا کے انتظامات اور انعقاد کے ساتھ ساتھ اس کے صدیوں پرانے مذہبی اور روایتی پہلوؤں کو بھی خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے یاترا کو شراون پورنیما سے قبل ہی معطل یا ختم کر دیا جاتا ہے، جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے ان عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں جو خاص طور پر شراون پورنیما کے مقدس موقع پر امرناتھ گھپا میں درشن کے لیے پہنچنا چاہتے ہیں۔
مہنت دپیندر گری نے کہا کہ شراون پورنیما کے روز مقدس امرناتھ گھپا میں درشن کی مذہبی روایت اور عقیدت مندوں کے جذبات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے آنے والے عقیدت مندوں کو اس مقدس دن درشن کے موقع سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شری امرناتھ یاترا کو کم از کم ایک ماہ کی مقررہ مدت تک جاری رکھا جائے، جب کہ اگر یاترا کو طویل مدت کے لیے منعقد کرنا مقصود ہو تو اس کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے، رہائش، طبی سہولیات اور دیگر انتظامات میں مزید توسیع کی جائے۔
انہوں نے رواں برس یاترا کے آخری مرحلے میں پہلگام راستے سے یاترا معطل کیے جانے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صدیوں پرانی مذہبی روایت کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی اعتبار سے پہلگام راستہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ عقیدے اور روایات کے مطابق بھگوان شیو اسی راستے سے ماتا پاروتی کو امر کتھا سنانے کے لیے مقدس امرناتھ گھپا کی جانب لے گئے تھے۔ مہنت دپیندر گری نے کہا کہ پہلگام راستہ شری امرناتھ یاترا کا قدیم اور روایتی راستہ ہے، اس لیے اس کی مذہبی اور تاریخی اہمیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس راستے کو یاترا کے لیے خصوصی ترجیح دی جائے اور جہاں تک ممکن ہو، اسے پوری یاترا کے دوران کھلا رکھنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں۔
رواں برس شری امرناتھ جی یاترا 3 جولائی کو شروع ہوئی تھی اور اسے 28 اگست تک جاری رہنا تھا۔ یاترا کا مجموعی شیڈول 57 روز پر مشتمل تھا۔ تاہم خراب موسمی حالات کے باعث یاترا کے دوران متعدد مرتبہ خلل پیدا ہوا۔ یاترا 3 جولائی سے 19 جولائی تک مسلسل جاری رہی، جس کے بعد خراب موسم کے پیش نظر اسے تقریباً چار روز تک احتیاطی طور پر معطل رکھا گیا۔
موسم میں بہتری آنے کے بعد یاترا کو صرف بالتل راستے سے بحال کیا گیا، جب کہ موسمی حالات اور راستے کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے پہلگام ٹریک سے یاترا کو معطل رکھا گیا۔ بعد میں بالتل راستے سے بھی یاترا زیادہ عرصہ جاری نہ رہ سکی اور 9 اگست کو انتظامیہ نے خراب موسمی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے عام یاتریوں کے لیے یاترا کے اختتام کا اعلان کر دیا۔
اس طرح رواں برس شری امرناتھ جی یاترا طے شدہ 57 روزہ شیڈول کے مقابلے میں عملی طور پر تقریباً 37 روز تک جاری رہ سکی۔ اس دوران ملک بھر سے آنے والے 4 لاکھ 70 ہزار سے زائد یاتریوں نے مقدس امرناتھ گھپا میں حاضری دے کر پوتر شیو لنگ کے درشن کیے۔
تاہم، انتظامی سطح پر عام یاترا کے اختتام کے باوجود صدیوں پرانی مذہبی روایت کے مطابق شری امرناتھ یاترا کا روایتی اختتام شراون پورنیما یا رکشا بندھن کے مقدس موقع پر چھڑی مبارک کے مقدس امرناتھ گھپا پہنچنے اور وہاں مذہبی رسومات کی تکمیل کے بعد ہی تصور کیا جاتا ہے۔ رواں برس بھی چھڑی مبارک کی یاترا مذہبی روایات کے مطابق اپنے آخری مرحلے میں ہے اور 28 اگست کو شراون پورنیما کے موقع پر مقدس گھپا پہنچنے کے بعد یاترا کا روایتی اور رسمی اختتام عمل میں آئے گا۔
شری امرناتھ یاترا، جو وادی کشمیر کی قدیم اور اہم مذہبی یاتراؤں میں شمار ہوتی ہے، تاریخی طور پر موجودہ دور کے مقابلے میں کافی مختصر مدت کے لیے منعقد کی جاتی رہی ہے۔ دستیاب تاریخی اور سرکاری حوالوں کے مطابق ماضی کے بعض ادوار میں یاترا تقریباً 15 سے 20 دن تک محدود رہی، جب کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا دائرہ، انتظامات اور دورانیہ بتدریج بڑھتا چلا گیا۔
ماضی میں یاترا میں بنیادی طور پر سادھو سنتوں اور محدود تعداد میں عقیدت مند شرکت کرتے تھے۔ اس وقت یاترا کا حجم موجودہ دور کے مقابلے میں بہت کم تھا ۔ شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کے قیام، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع، سکیورٹی انتظامات اور دیگر سہولیات میں اضافے کے ساتھ یاتریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا اور یاترا ایک بڑے اور منظم پیمانے پر منعقد کی جانے لگی۔
روایتی طور پر شری امرناتھ یاترا کا اختتام شراون پورنیما یا رکشا بندھن کے موقع پر ہوتا ہے، جب چھڑی مبارک مقدس امرناتھ گھپا پہنچتی ہے اور وہاں مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے یاترا کے انتظامی شیڈول میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کے باوجود اس کی مذہبی روایت میں شراون پورنیما کی خصوصی اہمیت برقرار ہے۔
مہنت دپیندر گری کا کہنا ہے کہ یاترا کے بڑھتے ہوئے حجم اور لاکھوں عقیدت مندوں کی شرکت کو دیکھتے ہوئے انتظامی اور حفاظتی تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم ان انتظامات کے دوران یاترا کی مذہبی روایت، شراون پورنیما کی اہمیت اور پہلگام کے قدیم راستے کے تاریخی و مذہبی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور متعلقہ حکام آئندہ یاترا کے شیڈول اور انتظامات مرتب کرتے وقت مذہبی روایت اور انتظامی ضروریات کے درمیان توازن قائم کریں تاکہ یاترا کم از کم ایک ماہ تک جاری رہے اور شراون پورنیما کے موقع پر مقدس گھپا میں درشن کی صدیوں پرانی روایت بھی برقرار رکھی جا سکے۔
اننت ناگ، جموں وکشمیر (میر اشفاق)
امرناتھ چھڑی مبارک کے نگراں مہنت دپیندر گری نے کہا ہے کہ سالانہ شری امرناتھ جی یاترا کے انتظامات اور انعقاد کے ساتھ ساتھ اس کے صدیوں پرانے مذہبی اور روایتی پہلوؤں کو بھی خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے یاترا کو شراون پورنیما سے قبل ہی معطل یا ختم کر دیا جاتا ہے، جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے ان عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں جو خاص طور پر شراون پورنیما کے مقدس موقع پر امرناتھ گھپا میں درشن کے لیے پہنچنا چاہتے ہیں۔
مہنت دپیندر گری نے کہا کہ شراون پورنیما کے روز مقدس امرناتھ گھپا میں درشن کی مذہبی روایت اور عقیدت مندوں کے جذبات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے آنے والے عقیدت مندوں کو اس مقدس دن درشن کے موقع سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شری امرناتھ یاترا کو کم از کم ایک ماہ کی مقررہ مدت تک جاری رکھا جائے، جب کہ اگر یاترا کو طویل مدت کے لیے منعقد کرنا مقصود ہو تو اس کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے، رہائش، طبی سہولیات اور دیگر انتظامات میں مزید توسیع کی جائے۔
انہوں نے رواں برس یاترا کے آخری مرحلے میں پہلگام راستے سے یاترا معطل کیے جانے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صدیوں پرانی مذہبی روایت کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی اعتبار سے پہلگام راستہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ عقیدے اور روایات کے مطابق بھگوان شیو اسی راستے سے ماتا پاروتی کو امر کتھا سنانے کے لیے مقدس امرناتھ گھپا کی جانب لے گئے تھے۔ مہنت دپیندر گری نے کہا کہ پہلگام راستہ شری امرناتھ یاترا کا قدیم اور روایتی راستہ ہے، اس لیے اس کی مذہبی اور تاریخی اہمیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس راستے کو یاترا کے لیے خصوصی ترجیح دی جائے اور جہاں تک ممکن ہو، اسے پوری یاترا کے دوران کھلا رکھنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں۔
رواں برس شری امرناتھ جی یاترا 3 جولائی کو شروع ہوئی تھی اور اسے 28 اگست تک جاری رہنا تھا۔ یاترا کا مجموعی شیڈول 57 روز پر مشتمل تھا۔ تاہم خراب موسمی حالات کے باعث یاترا کے دوران متعدد مرتبہ خلل پیدا ہوا۔ یاترا 3 جولائی سے 19 جولائی تک مسلسل جاری رہی، جس کے بعد خراب موسم کے پیش نظر اسے تقریباً چار روز تک احتیاطی طور پر معطل رکھا گیا۔
موسم میں بہتری آنے کے بعد یاترا کو صرف بالتل راستے سے بحال کیا گیا، جب کہ موسمی حالات اور راستے کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے پہلگام ٹریک سے یاترا کو معطل رکھا گیا۔ بعد میں بالتل راستے سے بھی یاترا زیادہ عرصہ جاری نہ رہ سکی اور 9 اگست کو انتظامیہ نے خراب موسمی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے عام یاتریوں کے لیے یاترا کے اختتام کا اعلان کر دیا۔
اس طرح رواں برس شری امرناتھ جی یاترا طے شدہ 57 روزہ شیڈول کے مقابلے میں عملی طور پر تقریباً 37 روز تک جاری رہ سکی۔ اس دوران ملک بھر سے آنے والے 4 لاکھ 70 ہزار سے زائد یاتریوں نے مقدس امرناتھ گھپا میں حاضری دے کر پوتر شیو لنگ کے درشن کیے۔
تاہم، انتظامی سطح پر عام یاترا کے اختتام کے باوجود صدیوں پرانی مذہبی روایت کے مطابق شری امرناتھ یاترا کا روایتی اختتام شراون پورنیما یا رکشا بندھن کے مقدس موقع پر چھڑی مبارک کے مقدس امرناتھ گھپا پہنچنے اور وہاں مذہبی رسومات کی تکمیل کے بعد ہی تصور کیا جاتا ہے۔ رواں برس بھی چھڑی مبارک کی یاترا مذہبی روایات کے مطابق اپنے آخری مرحلے میں ہے اور 28 اگست کو شراون پورنیما کے موقع پر مقدس گھپا پہنچنے کے بعد یاترا کا روایتی اور رسمی اختتام عمل میں آئے گا۔
شری امرناتھ یاترا، جو وادی کشمیر کی قدیم اور اہم مذہبی یاتراؤں میں شمار ہوتی ہے، تاریخی طور پر موجودہ دور کے مقابلے میں کافی مختصر مدت کے لیے منعقد کی جاتی رہی ہے۔ دستیاب تاریخی اور سرکاری حوالوں کے مطابق ماضی کے بعض ادوار میں یاترا تقریباً 15 سے 20 دن تک محدود رہی، جب کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا دائرہ، انتظامات اور دورانیہ بتدریج بڑھتا چلا گیا۔
ماضی میں یاترا میں بنیادی طور پر سادھو سنتوں اور محدود تعداد میں عقیدت مند شرکت کرتے تھے۔ اس وقت یاترا کا حجم موجودہ دور کے مقابلے میں بہت کم تھا ۔ شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کے قیام، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع، سکیورٹی انتظامات اور دیگر سہولیات میں اضافے کے ساتھ یاتریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا اور یاترا ایک بڑے اور منظم پیمانے پر منعقد کی جانے لگی۔
روایتی طور پر شری امرناتھ یاترا کا اختتام شراون پورنیما یا رکشا بندھن کے موقع پر ہوتا ہے، جب چھڑی مبارک مقدس امرناتھ گھپا پہنچتی ہے اور وہاں مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے یاترا کے انتظامی شیڈول میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کے باوجود اس کی مذہبی روایت میں شراون پورنیما کی خصوصی اہمیت برقرار ہے۔
مہنت دپیندر گری کا کہنا ہے کہ یاترا کے بڑھتے ہوئے حجم اور لاکھوں عقیدت مندوں کی شرکت کو دیکھتے ہوئے انتظامی اور حفاظتی تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم ان انتظامات کے دوران یاترا کی مذہبی روایت، شراون پورنیما کی اہمیت اور پہلگام کے قدیم راستے کے تاریخی و مذہبی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور متعلقہ حکام آئندہ یاترا کے شیڈول اور انتظامات مرتب کرتے وقت مذہبی روایت اور انتظامی ضروریات کے درمیان توازن قائم کریں تاکہ یاترا کم از کم ایک ماہ تک جاری رہے اور شراون پورنیما کے موقع پر مقدس گھپا میں درشن کی صدیوں پرانی روایت بھی برقرار رکھی جا سکے۔



