کشمیری پنڈت برادری وطن واپسی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خواہشمند - KASHMIRI PANDIT PUJA ON ASHADHA
🎬 Watch Now: Feature Video


Published : July 16, 2026 at 11:20 AM IST
اننت ناگ، جموں وکشمیر (فیاض احمد لولو)
ضلع اننت ناگ کے قاضی گنڈ علاقے میں واقع تاریخی ماتا تارا دیوی مندر، تراگام میں آشاڑھ اماوس کے مقدس موقع پر ماتا تارا دیوی کا سالانہ جنم دن انتہائی مذہبی عقیدت، جوش و خروش اور روحانی ماحول میں منایا گیا۔ اس موقع پر وادیٔ کشمیر اور جموں سمیت مختلف مقامات سے تعلق رکھنے والے کشمیری پنڈت برادری کے افراد نے بڑی تعداد میں مندر پہنچ کر خصوصی پوجا، ہون اور دیگر مذہبی رسومات ادا کیں اور ماتا تارا دیوی کے حضور امن، خوشحالی اور بھائی چارے کے لیے دعائیں کیں۔ اس موقع پر پورے مندر اور اطراف کے علاقے میں مذہبی فضا قائم رہی، جہاں عقیدت مندوں نے بھجن، کیرتن اور اجتماعی عبادات میں بھرپور شرکت کی۔ مندر کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا جب کہ انتظامیہ کی جانب سے بھی مناسب انتظامات کیے گئے تھے تاکہ عقیدت مندوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس موقع پر کئی ایسے کشمیری پنڈت خاندان بھی شریک ہوئے جو 1990 کی دہائی میں حالات کے باعث وادی چھوڑ کر جموں اور دیگر علاقوں میں آباد ہو گئے تھے۔ ان افراد نے اپنے آبائی وطن سے گہری وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر آج بھی ان کے دلوں میں بستا ہے اور وہ اپنے مسلم پڑوسیوں کی محبت، خلوص اور مشترکہ تہذیب کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ ایک بزرگ کشمیری پنڈت خاتون گفتگو کے دوران جذباتی ہو گئیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے جب انہوں نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے تہوار مل کر مناتے تھے، خوشیوں اور غموں میں برابر کے شریک ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی انہیں وہ دن شدت سے یاد آتے ہیں اور وہ امید رکھتی ہیں کہ کشمیر میں دوبارہ وہی محبت، بھائی چارہ اور باہمی اعتماد قائم ہوگا۔ ان کے الفاظ میں، "کشمیری پنڈتوں کے بغیر کشمیر ادھورا ہے، جیسے کسی باغ کی خوبصورتی تمام پھولوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔"
اس موقع پر تراگام گاؤں کے ایک ایسے کشمیری پنڈت، جنہوں نے ہجرت نہیں کی اور مسلسل اپنے آبائی گاؤں میں مقیم رہے، نے کہا کہ گاؤں میں آج بھی ہندو اور مسلمان برادریوں کے درمیان محبت، احترام اور بھائی چارے کا رشتہ برقرار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں خوشی ہو یا غم، دونوں برادریوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں اور ہر تقریب میں برابر کی شرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کبھی بھی اقلیت ہونے کا احساس نہیں ہوا کیونکہ یہاں نسلوں سے باہمی اعتماد، عزت اور رواداری کی روایت قائم ہے۔ جموں میں مقیم ایک کشمیری پنڈت نے اس موقع پر حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بے گھر کشمیری پنڈت برادری کی محفوظ، باعزت اور مستقل بحالی کے لیے سنجیدہ اور جامع اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں کشمیری پنڈت بلا خوف و خطر اپنے آبائی گھروں میں واپس آ کر سکون اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بحالی صرف رہائش تک محدود نہ ہو بلکہ روزگار، تعلیم، بنیادی سہولیات اور مکمل سکیورٹی کی ضمانت بھی فراہم کی جائے۔
تقریب میں شریک دیگر عقیدت مندوں نے کہا کہ ماتا تارا دیوی کا سالانہ جنم دن صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ کشمیر کی صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب، مشترکہ ثقافت، مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی روشن علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں وادی میں امن و استحکام مزید مضبوط ہوگا اور کشمیری پنڈت برادری کی باعزت واپسی کے ساتھ کشمیر کی مشترکہ تہذیبی شناخت مزید مستحکم ہوگی۔ تقریب کا اختتام اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا، جس میں وادیٔ کشمیر میں دائمی امن، خوشحالی، ترقی، بھائی چارے اور تمام برادریوں کے درمیان محبت، اتحاد اور پُرامن بقائے باہمی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
اننت ناگ، جموں وکشمیر (فیاض احمد لولو)
ضلع اننت ناگ کے قاضی گنڈ علاقے میں واقع تاریخی ماتا تارا دیوی مندر، تراگام میں آشاڑھ اماوس کے مقدس موقع پر ماتا تارا دیوی کا سالانہ جنم دن انتہائی مذہبی عقیدت، جوش و خروش اور روحانی ماحول میں منایا گیا۔ اس موقع پر وادیٔ کشمیر اور جموں سمیت مختلف مقامات سے تعلق رکھنے والے کشمیری پنڈت برادری کے افراد نے بڑی تعداد میں مندر پہنچ کر خصوصی پوجا، ہون اور دیگر مذہبی رسومات ادا کیں اور ماتا تارا دیوی کے حضور امن، خوشحالی اور بھائی چارے کے لیے دعائیں کیں۔ اس موقع پر پورے مندر اور اطراف کے علاقے میں مذہبی فضا قائم رہی، جہاں عقیدت مندوں نے بھجن، کیرتن اور اجتماعی عبادات میں بھرپور شرکت کی۔ مندر کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا جب کہ انتظامیہ کی جانب سے بھی مناسب انتظامات کیے گئے تھے تاکہ عقیدت مندوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس موقع پر کئی ایسے کشمیری پنڈت خاندان بھی شریک ہوئے جو 1990 کی دہائی میں حالات کے باعث وادی چھوڑ کر جموں اور دیگر علاقوں میں آباد ہو گئے تھے۔ ان افراد نے اپنے آبائی وطن سے گہری وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر آج بھی ان کے دلوں میں بستا ہے اور وہ اپنے مسلم پڑوسیوں کی محبت، خلوص اور مشترکہ تہذیب کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ ایک بزرگ کشمیری پنڈت خاتون گفتگو کے دوران جذباتی ہو گئیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے جب انہوں نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے تہوار مل کر مناتے تھے، خوشیوں اور غموں میں برابر کے شریک ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی انہیں وہ دن شدت سے یاد آتے ہیں اور وہ امید رکھتی ہیں کہ کشمیر میں دوبارہ وہی محبت، بھائی چارہ اور باہمی اعتماد قائم ہوگا۔ ان کے الفاظ میں، "کشمیری پنڈتوں کے بغیر کشمیر ادھورا ہے، جیسے کسی باغ کی خوبصورتی تمام پھولوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔"
اس موقع پر تراگام گاؤں کے ایک ایسے کشمیری پنڈت، جنہوں نے ہجرت نہیں کی اور مسلسل اپنے آبائی گاؤں میں مقیم رہے، نے کہا کہ گاؤں میں آج بھی ہندو اور مسلمان برادریوں کے درمیان محبت، احترام اور بھائی چارے کا رشتہ برقرار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں خوشی ہو یا غم، دونوں برادریوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں اور ہر تقریب میں برابر کی شرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کبھی بھی اقلیت ہونے کا احساس نہیں ہوا کیونکہ یہاں نسلوں سے باہمی اعتماد، عزت اور رواداری کی روایت قائم ہے۔ جموں میں مقیم ایک کشمیری پنڈت نے اس موقع پر حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بے گھر کشمیری پنڈت برادری کی محفوظ، باعزت اور مستقل بحالی کے لیے سنجیدہ اور جامع اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں کشمیری پنڈت بلا خوف و خطر اپنے آبائی گھروں میں واپس آ کر سکون اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بحالی صرف رہائش تک محدود نہ ہو بلکہ روزگار، تعلیم، بنیادی سہولیات اور مکمل سکیورٹی کی ضمانت بھی فراہم کی جائے۔
تقریب میں شریک دیگر عقیدت مندوں نے کہا کہ ماتا تارا دیوی کا سالانہ جنم دن صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ کشمیر کی صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب، مشترکہ ثقافت، مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی روشن علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں وادی میں امن و استحکام مزید مضبوط ہوگا اور کشمیری پنڈت برادری کی باعزت واپسی کے ساتھ کشمیر کی مشترکہ تہذیبی شناخت مزید مستحکم ہوگی۔ تقریب کا اختتام اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا، جس میں وادیٔ کشمیر میں دائمی امن، خوشحالی، ترقی، بھائی چارے اور تمام برادریوں کے درمیان محبت، اتحاد اور پُرامن بقائے باہمی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔



