ضلع اننت ناگ میں کھیت بچاؤ ابھیان مہم کا اختتام - اننت ناگ میں کھیت بچاؤ ابھیان مہم

🎬 Watch Now: Feature Video

thumbnail
1 (ETV Bharat)

By ETV Bharat Urdu Team

Published : June 30, 2026 at 4:24 PM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

اننت ناگ، جموں وکشمیر (اشفاق احمد میر)

محکمۂ زراعت کی جانب سے کسانوں میں فصلوں کے تحفظ، جدید زرعی طریقۂ کار اور پائیدار کاشتکاری کے فروغ کے لیے شروع کی گئی "کھیت بچاؤ ابھیان" مہم کا آج ایک پروقار آگاہی پروگرام کے ساتھ اختتام عمل میں آیا۔ یہ پروگرام ٹاؤن ہال اچھہ بل میں منعقد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں کسانوں، محکمۂ زراعت کے افسران اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر رکنِ اسمبلی اننت ناگ ویسٹ عبدالمجید لارمی اور رکنِ اسمبلی اننت ناگ ایسٹ ریاض احمد خان مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے، جب کہ ڈائریکٹر زراعت کشمیر سرتاج احمد نے خصوصی مہمان کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کی۔


اپنے خطابات میں مقررین نے کہا کہ جدید سائنسی زرعی تکنیکوں کو اپنانا، فصلوں کو بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں سے محفوظ رکھنا اور کسانوں میں بروقت آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مہمات نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ پائیدار زراعت کے فروغ اور کسانوں کی معاشی خوشحالی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس موقع پر زمینداروں کو غیر ضروری کیمیائی کھادوں اور جراثیم کش ادویات کے استعمال سے گریز کرنے کی تلقین کی گئی۔ اس موقعے پر یہ بھی بتایا گیا کہ سوائل ٹیسٹنگ کے بعد ہی درکار کھاد کا استعمال کیا جائے۔ چیف ایگریکلچر آفیسر اننت ناگ شہنواز احمد نے مہمانوں، محکمہ کے افسران اور کسانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ "کھیت بچاؤ ابھیان" کے دوران ضلع بھر میں مختلف سرگرمیوں کے ذریعے کسانوں کو فصلوں کے تحفظ اور جدید زرعی طریقوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔

شہنواز احمد نے مہم کی کامیابی میں کسانوں کے بھرپور تعاون اور فعال شرکت پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ تقریب کے اختتام پر ماہرین زراعت نے کسانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا اور انہیں فصلوں کو کیڑوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے، بروقت تدارکی اقدامات اختیار کرنے، متوازن کھادوں کے استعمال اور جدید زرعی طریقۂ کار سے متعلق مفید معلومات فراہم کیں تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور فصلوں کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اننت ناگ، جموں وکشمیر (اشفاق احمد میر)

محکمۂ زراعت کی جانب سے کسانوں میں فصلوں کے تحفظ، جدید زرعی طریقۂ کار اور پائیدار کاشتکاری کے فروغ کے لیے شروع کی گئی "کھیت بچاؤ ابھیان" مہم کا آج ایک پروقار آگاہی پروگرام کے ساتھ اختتام عمل میں آیا۔ یہ پروگرام ٹاؤن ہال اچھہ بل میں منعقد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں کسانوں، محکمۂ زراعت کے افسران اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر رکنِ اسمبلی اننت ناگ ویسٹ عبدالمجید لارمی اور رکنِ اسمبلی اننت ناگ ایسٹ ریاض احمد خان مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے، جب کہ ڈائریکٹر زراعت کشمیر سرتاج احمد نے خصوصی مہمان کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کی۔


اپنے خطابات میں مقررین نے کہا کہ جدید سائنسی زرعی تکنیکوں کو اپنانا، فصلوں کو بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں سے محفوظ رکھنا اور کسانوں میں بروقت آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مہمات نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ پائیدار زراعت کے فروغ اور کسانوں کی معاشی خوشحالی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس موقع پر زمینداروں کو غیر ضروری کیمیائی کھادوں اور جراثیم کش ادویات کے استعمال سے گریز کرنے کی تلقین کی گئی۔ اس موقعے پر یہ بھی بتایا گیا کہ سوائل ٹیسٹنگ کے بعد ہی درکار کھاد کا استعمال کیا جائے۔ چیف ایگریکلچر آفیسر اننت ناگ شہنواز احمد نے مہمانوں، محکمہ کے افسران اور کسانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ "کھیت بچاؤ ابھیان" کے دوران ضلع بھر میں مختلف سرگرمیوں کے ذریعے کسانوں کو فصلوں کے تحفظ اور جدید زرعی طریقوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔

شہنواز احمد نے مہم کی کامیابی میں کسانوں کے بھرپور تعاون اور فعال شرکت پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ تقریب کے اختتام پر ماہرین زراعت نے کسانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا اور انہیں فصلوں کو کیڑوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے، بروقت تدارکی اقدامات اختیار کرنے، متوازن کھادوں کے استعمال اور جدید زرعی طریقۂ کار سے متعلق مفید معلومات فراہم کیں تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور فصلوں کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ABOUT THE AUTHOR

Urdu -one of the exclusive segments of ETV Bharat- caters to Urdu speaking people across the nation and beyond. The portal makes sure it uses the entire network to bring the best of the stories for its audience. Apart from the network stories shared by other state portals, Urdu has its own reporters and stringers in places where there is a sizeable Urdu population and they bring specials and exclusive stories for the Urdu audience....view details