ناسا کا نیا اسپیس ٹیلی اسکوپ 'رومن' لانچ: اب ہوگا کائنات میں چھپے گہرے رازوں کا انکشاف
ناسا کا نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کائنات کے ڈارک میٹر، انرجی کے اسرار کو بے نقاب کرنے کامیابی سے خلا میں پہنچ گیا۔


Published : August 31, 2026 at 11:47 AM IST
حیدرآباد: ناسا نے اتوار، 30 اگست 2026ء کو مشرقی وقت کے مطابق صبح 7:26 بجے (7:26 AM ET) اپنا نیا اور انتہائی خاص اسپیس ٹیلی اسکوپ کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا۔ ناسا کے اس ٹیلی اسکوپ کا نام نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ ہے۔ یہ اسپیس ایکس (SpaceX) کے فالکن ہیوی (Falcon Heavy) راکٹ پر سوار ہو کر فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ کمپلیکس 39A سے روانہ ہوا۔
ناسا کے اس راکٹ نے اپنا کام بالکل درست طریقے سے انجام دیا۔ دونوں سائیڈ بوسٹرز محفوظ طریقے سے زمین پر واپس آ گئے۔ ٹیلی اسکوپ راکٹ سے کامیابی سے علیحدہ ہو گیا ہے اور اب اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ ٹیلی اسکوپ سائز میں ایک بس جتنا بڑا ہے اور اس کی لاگت تقریباً 4.3 ارب ڈالر ہے۔
Ad astra ⭐
— NASA (@NASA) August 30, 2026
At 7:26am ET (1126 UTC) on Aug. 30, @NASARoman took to the skies en route to its new home 1 million miles away from Earth. It should reach its final destination in one month: https://t.co/GD5THXPBLn pic.twitter.com/99GE5f6U90
پہلی بار خاتون سائنسدان کے نام پر اسپیس ٹیلی اسکوپ کا نام
ناسا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اسپیس ٹیلی اسکوپ کا نام ایک خاتون سائنسدان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ نینسی گریس رومن ناسا کی پہلی چیف ماہرِ فلکیات (چیف ایسٹرونومر) تھیں۔ انہیں 'مدر آف ہبل' (ہَبل ٹیلی اسکوپ کی ماں) بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے 1959ء میں ناسا میں شمولیت اختیار کی تھی اور خلائی دوربین کے ذریعے کائنات کا زیادہ بہتر مشاہدہ کرنے پر زور دیا تھا۔ ان کا انتقال 2018ء میں 93 برس کی عمر میں ہوا تھا۔
ناسا کے اس مشن کی خاص بات یہ ہے کہ اسے وقت سے پہلے اور اپنے بجٹ کے اندر ہی مکمل کر لیا گیا ہے۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین (Jared Isaacman) نے کہا کہ یہ ناسا کی کامیابی کی ایک بہترین مثال ہے۔ یہ مشن کائنات کے تاریک حصوں کی کھوج کرے گا اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرے گا۔
Deployment of Roman confirmed pic.twitter.com/QB1NHPmcNk
— SpaceX (@SpaceX) August 30, 2026
رومن ٹیلی اسکوپ کہاں جائے گا اور کیا کرے گا؟
رومن ٹیلی اسکوپ کو زمین سے تقریباً 10 لاکھ میل دور 'سورج-زمین لیگ رینج پوائنٹ 2' یعنی L2 تک جانا ہے۔ وہاں پر پہلے سے ہی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ (James Webb Telescope) بھی موجود ہے۔ یہ سفر تقریباً تین مہینوں کا ہے۔ اس کے راستے میں سولر پینل اور سن شیڈ پہلے ہی کامیابی سے کھل چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ہائی گین اینٹینا اور اپرچر کور بھی کھلیں گے۔ کچھ ہفتوں بعد اس کا مرکزی کیمرہ شروع ہو جائے گا۔
کائنات کے تین بڑے اسرار کو سمجھنا ہے اس کا بنیادی کام:
- پہلا: ڈارک میٹر (تاریک مادہ)
- دوسرا: ڈارک انرجی (تاریک توانائی)
- تیسرا: نظامِ شمسی سے باہر کے سیاروں (ایکسو پلینٹس) کی کھوج
ٹیلی اسکوپ 'رومن' دوسروں کے مقابلے ہزار گنا زیادہ تیزی سے سروے
یہ آسمان کے بڑے بڑے حصوں کو کافی تیزی سے اسکین کرے گا۔ اس کی نظر ہبل ٹیلی اسکوپ سے سو گنا سے بھی زیادہ وسیع (چوڑی) ہے اور یہ ہبل سے ہزار گنا زیادہ تیزی سے سروے کر سکتا ہے۔ اسے آپ آسان الفاظ میں یوں سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ایک مہینے میں ہماری کہکشاں 'ملکی وے' کی جتنی تصاویر لے گا، ہبل کو وہی کام کرنے میں سو سال لگ جاتے۔
Falcon Heavy launches @NASA’s Nancy Grace Roman Space Telescope from pad 39A in Florida, beginning its more than three-month journey to its destination where it will generate never-before-seen photos of the universe pic.twitter.com/L3gHrBiQ08
— SpaceX (@SpaceX) August 30, 2026
رومن ٹیلی اسکوپ کے دو خاص آلات
- پہلا — وائیڈ فیلڈ انسٹرومنٹ (Wide Field Instrument): یہ 300 میگا پکسل کا انفرا ریڈ کیمرہ ہے، جس میں 18 چھوٹے ڈیٹیکٹرز نصب ہیں۔ یہ روزانہ 1.4 ٹیرابائٹ (TB) ڈیٹا زمین پر بھیجے گا۔ ناسا کے کسی بھی فلکیاتی مشن نے پہلے کبھی اتنا زیادہ ڈیٹا نہیں بھیجا۔ مشین لرننگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور عام شہری سائنسدان مل کر اس ڈیٹا سے اہم چیزیں تلاش کریں گے۔
- دوسرا — کورونا گراف (Coronagraph): یہ آلہ کسی ستارے کی تیز روشنی کو روک کر (ڈھانپ کر) اس کے آس پاس موجود سیاروں کی تصاویر لے گا۔ اس کی مدد سے مستقبل میں زمین جیسے سیاروں کی کھوج انتہائی آسان ہو جائے گی۔
ناسا کی سائنسدان جولی میکنری (Julie McEnery) نے کہا کہ اس سے پہلے کائنات کو کبھی ایسی نظروں سے نہیں دیکھا گیا۔ نکسی فاکس (Nicola Fox) نے بتایا کہ یہ ٹیلی اسکوپ ہزاروں سپر نووا، ہزاروں سیارے، اربوں کہکشائیں (گیلیکسیز) اور اربوں ستارے تلاش کرے گا۔
لانچ کے بعد کیا ہوا اور آگے کا منصوبہ
- سگنلز کا آغاز: لانچ کے ٹھیک سات منٹ بعد گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر کو ٹیلی اسکوپ سے سگنلز ملنے شروع ہو گئے۔
- راکٹ سے علاحدگی: 31 منٹ بعد ٹیلی اسکوپ کامیابی سے راکٹ سے الگ ہو گیا۔
- روابط کا نیٹ ورک: اب یہ ڈیپ اسپیس نیٹ ورک (Deep Space Network) سے منسلک ہے۔ پہلے آسٹریلیا، پھر اسپین اور اس کے بعد کیلیفورنیا کے اسٹیشنوں سے اس کا رابطہ مسلسل برقرار رہے گا۔
- ٹیسٹنگ کا مرحلہ: تین ماہ کے کمیشننگ پیریڈ (تیاری اور جانچ کے وقت) میں تمام آلات کو پرکھا جائے گا۔ اس ٹیلی اسکوپ سے پہلی تصاویر 2027ء کی شروعات میں متوقع ہیں۔
- ری فیولنگ کی سہولت: اس ٹیلی اسکوپ میں دوبارہ ایندھن بھرنے (ری فیول کرنے) کی گنجائش موجود ہے۔ اگر مستقبل میں روبوٹک ٹینکرز خلا میں بھیجے گئے تو اس کی کام کرنے کی عمر کو مزید بڑھایا جا سکے گا۔
ناسا کے ساتھ کون کون شامل ہے؟
اس عظیم مشن میں ناسا کے ساتھ یوروپی خلائی ایجنسی (ESA)، جاپانی خلائی ایجنسی (JAXA)، فرانس کی CNES اور جرمنی کا میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ بھی شامل ہیں۔ صنعتی شراکت داروں میں اہم پارٹنرز BAE Systems، L3Harris اور Teledyne ہیں۔
The Nancy Grace Roman Space Telescope has officially launched and is heading to its forever home at L2!
— Nancy Grace Roman Space Telescope (@NASARoman) August 30, 2026
Over the next three months, the observatory will perform final checks and power its instruments before revealing its first images by early 2027.https://t.co/IdabpolHmh pic.twitter.com/tuDHAEzgKh
رومن ٹیلی اسکوپ خلا میں اکیلا کام نہیں کرے گا بلکہ یہ ہبل اور جیمز ویب ٹیلی اسکوپس کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ اس کے علاوہ یوروپ کا 'یوکلڈ' (Euclid) اور چلی کی 'ویرا سی روبن آبزرویٹری' بھی اس ڈیٹا کی تصدیق اور مدد میں حصہ لیں گے۔
نینسی گریس رومن نے دیکھا تھا کوئی خواب
اس مشن سے بالکل واضح طور پر یہ معلوم ہو سکے گا کہ کائنات کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہماری کہکشاں 'ملکی وے' کے مرکز (سینٹر) کی وہ گہری اور خفیہ تصاویر بھی حاصل ہوں گی جو اب تک انسان حاصل نہیں کر سکا تھا۔ یہ مشن صرف سائنسدانوں کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے عام لوگوں کو بھی کائنات کے نئے اور حیرت انگیز نقشے دیکھنے کو ملیں گے۔ نینسی گریس رومن نے جو خواب دیکھا تھا، اب ان ہی کے نام پر بنی یہ خلائی دوربین اسے سچ کر دکھانے جا رہی ہے۔

