سال 2026 کا پہلا چاند گرہن آج، 'بلڈ مون' کی پیش گوئی، جانیں وقت اور دورانیہ
ماہر فلکیات امر پال سنگھ نے کہا کہ تین مارچ 2026 کی شام آسمان میں ایک خوبصورت فلکیاتی واقعہ رونما ہو گا۔

Published : March 3, 2026 at 12:28 PM IST
گورکھپور/ وارانسی: سال 2026 کا پہلا چاند گرہن آج دارالحکومت دہلی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں نظر آئے گا۔ ماہرین فلکیات اور محکمہ موسمیات کے مطابق اس فلکیاتی واقعے کو دیکھنے کے لیے تقریباً 20 سے 22 منٹ کا وقت ہوگا۔ آج شام ہونے والا چاند گرہن بھارت میں جزوی طور پر نظر آئے گا۔ اس متوقع فلیاتی واقعے کو 'بلڈ مون' کہا جا رہا ہے۔
گورکھپور کے ویر بہادر سنگھ پلانیٹیریم کے ماہر فلکیات امر پال سنگھ نے بتایا کہ اگر آپ فلکیاتی واقعات میں دلچسپی رکھتے ہیں تو تین مارچ 2026 کی شام ایک خاص فلکیاتی واقعہ رونما ہونے جا رہا ہے۔
بھارتی وقت کے مطابق چاند گرہن دوپہر 3 بج کر 00 منٹ پر شروع ہوگا اور شام سات بجے کے قریب ختم ہوگا۔ یہ مشرقی آسمان میں غروب آفتاب سے شام 6:33 بجے تک آسانی سے نظر آئے گا اور شام 6 بجکر 47 منٹ پر مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
ماہر فلکیات نے بتایا کہ امریکہ اور بحرالکاہل کے بیشتر حصوں بشمول آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور مشرقی ایشیا کے کچھ حصوں میں مکمل چاند گرہن نظر آئے گا جب کہ بھارت میں یہ جزوی طور پر ہی دیکھا جا سکے گا۔
چاند گرہن کو کیسے دیکھیں
ماہر فلکیات نے بتایا کہ اس چاند گرہن کو دیکھنے کے لیے کسی خاص آلات دوربین وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے ننگی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران بلڈ مون کا اثر بھی نظر آئے گا۔
امر پال سنگھ نے وضاحت کی کہ چاند زمین کے گرد اپنا چکر 29 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔ بعض حالات میں، سورج، زمین، اور چاند ایک سیدھی لائن میں میں آ جاتے ہیں اور ان میں زمین کو سورج اور چاند کے درمیان ہوتی ہے۔ نتیجے کے طور پر چاند زمین کے سائے میں چلا جاتا ہے اور اس پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی۔ اسی واقعے کو فلکیات میں اسے چاند گرہن کہتے ہیں۔

چاند گرہن ہر پورے چاند پر کیوں نہیں ہوتا؟
ماہر فلکیات امر پال سنگھ نے وضاحت کی کہ چاند ہر 29 دن بعد پورے چاند پر پہنچ جاتا ہے، لیکن چاند گرہن ہر مہینے نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند کا مدار زمین کے مقابلے میں تقریباً 5° جھکا ہوا ہے۔
زیادہ تر وقت، چاند زمین کے سائے کے اوپر یا نیچے سے گزرتا ہے۔ چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب یہ تینوں آسمانی اجسام ایک سیدھی لائن میں ہوتے ہیں۔ ہر سال کم از کم دو چاند گرہن ہوتے ہیں، اور زیادہ سے زیادہ پانچ ہو سکتے ہیں۔
تین مارچ 2026 کو ہونے والا چاند گرہن تقریباً 25 منٹ تک جاری رہے گا۔ بھارت میں یہ گرہن تقریباً 15 سے 20 منٹ تک، تقریباً 6:30 بجے سے شام 6:46 تک واضح طور پر نظر آئے گا۔
اگر موسم صاف رہا تو ملک کے کئی حصوں میں 'بلڈ مون' کی سرخی مائل نظر آئے گی۔ شمال مشرقی ریاستوں میں بصارت قدرے بہتر ہو سکتی ہے، جب کہ مغربی اور جنوبی بھارت میں یہ صرف آخری حصے کے دوران ہی نظر آئے گی۔
بلڈ مون کیا ہے؟
ماہرین فلکیات نے وضاحت کی کہ چاند گرہن کے دوران چاند کی چمک اور رنگ گرہن کے وقت زمین کی فضا میں موجود حالات پر منحصر ہوتے ہیں۔ دھول، نمی، دھواں اور درجہ حرارت جیسے عوامل روشنی کو متاثر کرتے ہیں۔
جب سورج کی روشنی زمین کے ماحول سے گزرتی ہے اور چاند تک پہنچتی ہے، تو زیادہ تر نیلی طول موج کی روشنی بکھر جاتی ہے۔ سرخ روشی کی کرن چاند تک نسبتاً زیادہ مقدار میں پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاند کا رنگ تانبے جیسا روشنی سے گہرے سرخ دیکھا دے سکتا ہے۔
بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ نجوم کے سابق سربراہ اور ماہر نجوم پنڈت ونے پانڈے کا کہنا ہے کہ چاند گرہن یا کوئی سورج گرہن تب ہی اہم سمجھا جاتا ہے جب یہ نظر آتا ہے۔ یہ گرہن بھارت کے علاوہ کئی ممالک میں دیکھا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:
بھارت میں مکمل چاند گرہن، ملک بھر میں سرخ چاند نظر آیا، بلڈ مون کی تصاویر دیکھیں
سال 2025 کا دوسرا مکمل چاند گرہن، دیکھیں دنیا بھر کی حیرت انگیز تصاویر
سورج گرہن 2024: کیمرے میں قید سورج گرہن کی تصاویر - Solar Eclipse 2024

