ETV Bharat / technology

انسٹاگرام پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق اشتہارات کا معاملہ: سرکاری نوٹس کے بعد میٹا کی وضاحت

میٹا کے مطابق "یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ ہم جان بوجھ کر بچوں سے متعلق ایسے اشتہارات مخصوص افراد کو دکھاتے ہیں۔

انسٹاگرام پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق اشتہارات کا معاملہ: سرکاری نوٹس کے بعد میٹا کی وضاحت
انسٹاگرام پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق اشتہارات کا معاملہ: سرکاری نوٹس کے بعد میٹا کی وضاحت (Representational Image (Getty Images))
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 8, 2026 at 5:00 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مبینہ اشتہارات پر بھارتی حکومت کی سخت کارروائی کے بعد سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے اپنی پالیسی اور اقدامات کی تفصیلی وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کا جنسی استحصال ایک انتہائی سنگین اور ناقابلِ برداشت جرم ہے اور کمپنی اپنے تمام پلیٹ فارمز سے ایسے مواد کو ختم کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہی ہے۔

میٹا نے منگل کو ایک تفصیلی بلاگ شائع کیا، جس میں بتایا گیا کہ کمپنی نے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی روک تھام کے لیے جدید مصنوعی ذہانت (AI)، خودکار نگرانی کے نظام، اشتہارات کی سخت جانچ اور وسیع پیمانے پر انفورسمنٹ اقدامات نافذ کیے ہیں۔

یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی جب گزشتہ ہفتے وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) نے انسٹاگرام پر ایسے اشتہارات کی موجودگی پر میٹا کو سخت نوٹس جاری کیا تھا، جن میں مبینہ طور پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد تک رسائی فراہم کرنے کی تشہیر کی جا رہی تھی۔

حکومت نے میٹا کو ہدایت دی تھی کہ ایسے تمام اشتہارات اور مواد کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور سات دن کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے کہ کمپنی نے اس سلسلے میں کیا اقدامات کیے ہیں۔ میٹا نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں یہ تاثر دیا گیا کہ کمپنی جان بوجھ کر بچوں سے متعلق نامناسب دلچسپی رکھنے والے افراد کو ایسے اشتہارات دکھاتی ہے، جو مکمل طور پر غلط ہے۔

کمپنی کے مطابق "یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ ہم جان بوجھ کر بچوں سے متعلق ایسے اشتہارات مخصوص افراد کو دکھاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے مشتبہ اکاؤنٹس کی شناخت کرتے ہیں اور فوری کارروائی کرتے ہیں۔" میٹا کے مطابق گزشتہ سال صرف فیس بک اور انسٹاگرام سے 40 لاکھ سے زائد مشتبہ اکاؤنٹس خودکار نظام کے ذریعے حذف کیے گئے۔ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق 3 کروڑ 60 لاکھ (36 ملین) سے زیادہ مواد پلیٹ فارمز سے ہٹایا گیا۔

کمپنی نے بتایا کہ جدید AI ٹیکنالوجی مشتبہ لنکس، مشکوک سرگرمیوں اور مختلف سگنلز کی بنیاد پر ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی کرتی ہے۔ میٹا کے مطابق صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران بھارت میں 1 لاکھ 60 ہزار مشتبہ اکاؤنٹس حذف کیے گئے۔ یہ پورا معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بی بی سی کی ایک تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ انسٹاگرام اور فیس بک پر بعض ایسے اشتہارات دکھائے جا رہے تھے جن میں "rape video" اور "child video" جیسے الفاظ استعمال کیے گئے، اور ان کے ذریعے صارفین کو ٹیلیگرام چینلز تک پہنچایا جا رہا تھا جہاں مبینہ طور پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق غیر قانونی مواد فروخت کیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں اے آئی کے لیے ریگولیٹری فریم ورک پر غور و خوض جاری: مرکزی حکومت

رپورٹ کے بعد مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے فوری کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے میٹا کو طلب کرنے کا حکم دیا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ حکومت کی توجہ دلانے سے پہلے ہی اس کے خودکار نظام نے متعدد خلاف ورزی کرنے والے اشتہارات اور متعلقہ اکاؤنٹس کو حذف کر دیا تھا، جبکہ بعد میں مزید تحقیقات کے دوران اضافی اشتہارات، اکاؤنٹس اور ویب لنکس بھی بند کیے گئے۔ میٹا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بچوں کے تحفظ کے معاملے میں وہ کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی اور ایسے مواد کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید سخت بنائے گی۔