بیجنگ میں ایک چینی ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا
ایک چینی ہیومنائیڈ روبوٹ نے چائنا ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز میں سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے 100 میٹر کی دوڑ میں نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

Published : August 26, 2026 at 11:52 AM IST
بیجنگ: بیجنگ میں منگل کے روز ایک چینی ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ محض 8.86 سیکنڈز میں مکمل کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس روبوٹ نے نہ صرف اپنے دیگر روبوٹک حریفوں کو شکست دی، بلکہ انسانوں کے تیز ترین ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
یہ دوڑ چائنا ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کا حصہ تھی، جو اولمپک طرز کا ایک مقابلہ ہے۔ یہ ایونٹ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی تکنیکی مسابقت کے درمیان روبوٹکس میں چین کی تیز رفتار ترقی کا مظاہرہ بھی ہے۔
روبوٹ کا پچھلا ریکارڈ 9.39 سیکنڈ تھا جو محض تین دن پہلے، سنیچر کے روز قائم کیا گیا تھا۔ اس کا موازنہ انسانوں سے کیا جائے تو مردوں کا 100 میٹر کا عالمی ریکارڈ 9.58 سیکنڈ ہے، جو سال 2009 میں جمیکا کے تیز ترین دوڑنے والے یوسین بولٹ نے قائم کیا تھا۔ فی االحال چینی روبوٹ نے سو میٹر دوری کو محض 8.86 سیکنڈز میں مکمل کر کے ماہرین کو حیران کر دیا۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس میں مکینیکل اور ایرو اسپیس انجینئرنگ کے پروفیسر ڈینس ہونگ نے کہا کہ "یہ ایک اہم سنگِ میل ہے — صرف اس لیے نہیں کہ روبوٹ انسان سے تیز دوڑا، بلکہ اس وجہ سے کہ دو ٹانگوں والے روبوٹ کو اس رفتار سے دوڑانے کے لیے کس قدر محنت اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔"
ہونگ نے کہا کہ "جیسے جیسے رفتار بڑھتی ہے، توازن، کنٹرول، جھٹکے، ایکچوایٹر (حرکت دینے والے پرزے) کی کارکردگی، اور مکینیکل مضبوطی سب بہت زیادہ چیلنجنگ ہو جاتے ہیں۔"
ریکارڈ توڑنے والا روبوٹ فنش لائن سے ٹکرانے کے بعد گر گیا، اور اس کی کمر سے چنگاریاں نکلنے لگیں۔
ہونگ نے اشارہ کیا کہ اس کا گرنا زیادہ معنی خیز اور مشکل سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا روبوٹ محفوظ طریقے سے حرکت کر سکتے اور رک سکتے ہیں، اچانک سامنے آنے والی رکاوٹوں کو پہچان سکتے ہیں، غلطیوں سے سنبھل سکتے ہیں اور کام جاری رکھ سکتے ہیں—یہ وہ صلاحیتیں ہیں جو آخر کار انہیں زیادہ مفید بناتی ہیں۔

اس ایونٹ کے 51 مختلف مقابلوں، جیسے دوڑ، لمبی چھلانگ، ٹیبل ٹینس اور بال روم ڈانسنگ (رقص) میں 2,000 سے زائد روبوٹس کے درمیان 1,300 سے زیادہ مقابلے شامل ہیں۔ روایتی اولمپکس کے برعکس، یہ روبوٹس حقیقی زندگی کے منظرناموں، بشمول گھر کے کام کاج، ہوٹل کی خدمات اور ہنگامی صورت حال میں امداد کے لیے بھی ٹیموں کی شکل میں حصہ لیتے ہیں۔
چین کے سرکاری اخبار 'پیپلز ڈیلی' نے پیر کے روز کہا کہ "اگرچہ 'ہاؤس کیپر' اور 'کیئر گیور' (تیماردار) روبوٹس ابھی آزمائشی اور تصدیقی مراحل میں ہیں، تاہم چیلنجز ہی اصل میں ترقی کا سبب ہیں۔۔۔ چین کی روبوٹکس انڈسٹری اعلیٰ معیار اور جدت کی طرف گامزن ہے۔"
مزید پڑھیں:
چھبیس اقسام کے انسانوں جیسے اشارے کرنے والا اے آئی روبوٹ تیار
ترکیہ کے اولمپک میڈلسٹ شوٹر کا روبوٹ شوٹر کے متعلق سوال اور ایلن مسک کا جواب

