حجاب پہننے سے روکا گیا تو طالبہ نے اسکول کو ہی الوداع کہہ دیا، ٹی سی حاصل کر دوسرے اسکول میں لیں گی داخلہ
حال ہی میں کیرالہ کے ایک پرائیویٹ اسکول سے آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ کو اس کے ٹیچر نے حجاب پہننے پر نکال دیا تھا۔

Published : October 17, 2025 at 4:08 PM IST
ایرناکولم(کریالہ): کیرالہ کے پالوروتھی کے ایک سرکاری اسکول میں حجاب پہننے پر تنازعہ میں پھنسے طالبہ نے اب اسکول نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔طالبہ کے والد نے فیس بک پوسٹ کے ذریعے یہ معلومات شیئر کیں۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ان کی بیٹی اسکول میں اپنی تعلیم جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ وہ اسکول سے ٹی سی حاصل کریں گی اور دوسرے اسکول میں داخلہ کرائیں گے۔
کیا ہے تنازعہ؟
حال ہی میں، آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ حجاب پہن کر اسکول آئی تھی۔ حجاب پہن کر آنے کے سبب طالبہ کو ایک ٹیچر نے کلاس سے نکال دیا تھا۔ اس واقعہ نے کئی علاقوں میں تنازعہ کو جنم دیا۔ وزیر تعلیم اور حکومت نے مداخلت کی۔ اسکول انتظامیہ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔ اس واقعہ سے متعلق تنازعہ کے درمیان، طالبہ کے والد نے فیس بک پر پوسٹ کیا کہ وہ اسے دوسرے اسکول میں داخل کرائیں گے۔
طالبہ کے والد کا الزام
طالب علم کے والد نے فیس بک پر لکھا کہ اتنے دنوں سے اسکول نہ آنے کے باوجود اسکول انتظامیہ نے ابھی تک ان سے رابطہ نہیں کیا۔ چنانچہ میری بیٹی کو سکول سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دریں اثنا، کیرالہ حکومت اور محکمہ تعلیم نے حجاب پہننے والوں کو سر ڈھانپ کر اسکول جانے کی اجازت دینے کے مطالبے پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک بنیادی حق قرار دیا ہے۔
سکول انتظامیہ سے عدم اطمینان
طالبہ کے والد نے فیس بک پر لکھا کہ ان کی بیٹی کا حجاب پہننے کا مطالبہ جائز ہے۔ تاہم، وہ اسکول انتظامیہ کے ردعمل سے بہت افسردہ ہیں۔ اساتذہ نے میری بیٹی کو بتایا کہ اس سے دوسری لڑکیاں خوفزدہ ہو جائیں گی، اسکول انتظامیہ کے اس فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی۔
سیاسی انتساب کے الزامات:
طالبہ کے والد نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور عوامی نمائندوں نے ان پر حجاب پہننے کا مطالبہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا۔ وہ اس دباؤ کو برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ اس کا سیاسی اور فرقہ وارانہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سکول کے نام جذباتی پیغام
طالبہ کے والد نے امید ظاہر کی کہ ان کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے، اسکول انتظامیہ دوسرے بچوں کی تعلیم میں خلل ڈالے بغیر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اسکول کے حکام، پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ فریق امن کو خراب کرنے کے لیے ان کے نام کا غلط استعمال نہ کریں۔

