دہلی ایکسائز کیس میں بری ہونے کے بعد کویتا نے عدلیہ پر اعتماد کا اظہار کیا
جج نے کہاکہ کیس میں مبینہ مرکزی سازش کا کردار ثابت نہیں ہو سکا اور تفتیش کے دوران ایسا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔

Published : February 27, 2026 at 5:05 PM IST
حیدرآباد / نئی دہلی: تلنگانہ جاگروتی کی صدر اور سابق رکنِ پارلیمنٹ کے کویتا نے کہا ہے کہ دہلی کی عدالت کے فیصلے سے عدلیہ پر ان کا اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔ وہ حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں، جب دہلی کی عدالت نے دہلی ایکسائز (شراب پالیسی) معاملے میں انہیں بری کر دیا۔ جمعہ کو روز ایوینیو کورٹ نے اروند کیجریوال اور منیش سسودیا سمیت تمام ملزمان کو اس مقدمے میں بری کردیا جو سی بی آئی نے درج کیا تھا۔
خصوصی جج جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس کیس میں مبینہ مرکزی سازش کا کردار ثابت نہیں ہو سکا اور تفتیش کے دوران ایسا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔ عدالت نے 12 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جس کے بعد سی بی آئی اور دفاع کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد یہ حکم جاری کیا گیا۔
Satyameva Jayate ✊🏼
— Kavitha Kalvakuntla (@RaoKavitha) February 27, 2026
فیصلے کے فوراً بعد کویتا نے کہاکہ “میں نے تلنگانہ کے عوام سے شروع دن سے کہا تھا کہ میں دھلے ہوئے موتی کی طرح باہر آؤں گی، اور میں آ گئی ہوں۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقدمہ سیاسی انتقام کا نتیجہ تھا اور اس دوران ان کے خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ “تحقیقی ایجنسیوں کو اپوزیشن کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ عدالتی فیصلے سے پہلے ہی میرے خلاف نامناسب باتیں کی گئیں۔ مشکل وقت میں ساتھ دینے والوں کی شکر گزار ہوں، اور اب میں عوام کی خدمت مزید جوش کے ساتھ کروں گی۔”
یہ بھی پڑھیں: کے سی آر نے اپنی بیٹی کویتا کو بی آر ایس پارٹی سے نکال دیا
فیصلے کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر “ستیمیو جیتے” (سچ کی جیت) بھی لکھا۔ دوسری جانب اروند کیجریوال نے اس مقدمے کو “آزاد بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی سازش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلے نے حقیقت واضح کر دی ہے۔

