اتراکھنڈ میں مدارس کو سرکاری گرانٹ بند، نئی تعلیمی پالیسی پورے ملک میں نافذ ہو سکتی ہے: کرن رجیجو
اتراکھنڈ حکومت نے ریاست کے 452 رجسٹرڈ مدارس کو دی جانے والی سرکاری گرانٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Published : July 12, 2026 at 6:31 PM IST
دہرادون : مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے کہا ہے کہ اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے مدارس میں اصلاحات اور نئی اقلیتی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کا ماڈل مستقبل میں دیگر ریاستوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دہرادون میں منعقدہ "لوک سمواردھن پرو" پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی پالیسیوں کی تعریف کی اور کہا کہ ہر اقلیتی طالب علم کو معیاری اور جدید تعلیم ملنی چاہیے، جبکہ حکومت خوشامدی سیاست کے بجائے سب کے لیے یکساں انصاف پر یقین رکھتی ہے۔
اتراکھنڈ حکومت نے ریاست کے 452 رجسٹرڈ مدارس کو دی جانے والی سرکاری گرانٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام مدارس اور اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ ریاستی تعلیمی بورڈ اور اقلیتی تعلیمی اتھارٹی دونوں سے منظوری حاصل کریں، بصورت دیگر وہ نئی پالیسی کے تحت کام نہیں کر سکیں گے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان 452 مدارس میں تقریباً 50 ہزار طلبا زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے 400 مدارس پہلی سے آٹھویں جماعت تک تعلیم دیتے ہیں جبکہ 52 مدارس نویں سے بارہویں جماعت تک تدریس کرتے ہیں۔ اب تک صرف 158 مدارس نے نئی منظوری کے لیے درخواست دی ہے، جبکہ یکم جولائی کو نو اقلیتی تعلیمی اداروں کو باضابطہ منظوری بھی دی جا چکی ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق مدارس میں دو شفٹوں میں تعلیم دی جائے گی۔ صبح کے اوقات میں ہندی، انگریزی، ریاضی، سائنس اور کمپیوٹر جیسے جدید مضامین لازمی پڑھائے جائیں گے، جبکہ شام کے وقت دینی تعلیم کے ساتھ آئینِ ہند، انسانی حقوق، قومی یکجہتی اور اخلاقی اقدار پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نظام سے مدارس کے طلبا کو مذہبی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیمی مہارتیں بھی حاصل ہوں گی اور انہیں سرکاری تعلیمی بورڈ سے تسلیم شدہ اسناد بھی مل سکیں گی۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ مدارس کو براہِ راست مالی امداد دینے کے بجائے انہیں یو ڈائس نظام سے منسلک کیا جائے گا، جس کے بعد وہ سمگر شکشا ابھیان، پی ایم شری اسکول، پی ایم پوشن (مڈ ڈے میل)، اسکالرشپ اسکیموں، کمپیوٹر لیب، ڈیجیٹل تعلیم، لائبریریوں کی ترقی اور دیگر مرکزی و ریاستی تعلیمی منصوبوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے مدارس میں شفافیت بڑھے گی، بنیادی سہولیات بہتر ہوں گی اور طلبہ کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب اتراکھنڈ وقف بورڈ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر مالی طور پر کمزور مدارس کو نئی پالیسی پر عمل درآمد میں مشکلات پیش آئیں تو وقف بورڈ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس نے کہا کہ مدارس کے بچوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ وہ قومی دھارے میں شامل ہو سکیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر کوئی شخص یا تنظیم نئی پالیسی میں رکاوٹ ڈالنے یا قانون و نظم کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کرے گی تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں آندھرا پردیش کی خاتون کے قتل کا معمہ حل، شوہر آٹھ ماہ بعد گرفتار؛ محبوبہ سے تعلقات چھپانے کے لیے قتل کا الزام
کرن رجیجو کے بیان کو سیاسی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ اگر اتراکھنڈ کا یہ ماڈل دیگر ریاستوں میں بھی نافذ کیا جاتا ہے تو ملک میں مدارس کے تعلیمی نظام، سرکاری امداد اور اقلیتی تعلیمی اداروں کے انتظام و انصرام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

