غیر قانونی بل بورڈ تنازعہ کا معاملہ: ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیریک او برائن پوچھ گچھ کے لیے پیش
ان پر ابھیشیک بنرجی کے دفتر میں پولیس کو سرکاری کام کرنے سے روکنے اور ملازمین کے ساتھ ہاتھاپائی کرنے کے الزامات عائد لگے ہیں۔


Published : September 2, 2026 at 2:13 PM IST
کولکتہ: ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا رکن ڈیریک او برائن، پارٹی کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کے کیمک اسٹریٹ والے دفتر سے کچھ دن پہلے ایک غیر قانونی بل بورڈ ہٹانے کے دوران ہونے والی تکرار اور ہاتھاپائی کے بارے میں پوچھ گچھ کے لیے بدھ کی صبح شیکسپیئر سارانی پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے۔
پولیس او برائن کو پہلے ہی دو سمن بھیج چکی ہے۔ امید ہے کہ تفتیش بنیادی طور پر اس بات پر مرکوز رہے گی کہ دفتر میں اصل میں کیا ہوا تھا، اس وقت او برائن کا کیا کردار تھا، اور ان کی موجودگی کے دوران کیا کیا واقعات پیش آئے۔
#WATCH | Kolkata, West Bengal: TMC Rajya Sabha MP Derek O'Brien reaches Shakespeare Sarani Police Station.
— ANI (@ANI) September 2, 2026
A notice was issued by the Shakespeare Sarani Police Station to TMC MPs Abhishek Banerjee and Derek O'Brien to appear at the PS in connection with the incident that took… pic.twitter.com/FdNmBYehhl
اچانک سیڑھیوں پر گر جانے کی تصویر
تفتیش کار واقعے کے وقت کی تصاویر اور ویڈیو فوٹیج کی بھی جانچ کر رہے ہیں۔ ترنمول کارکنوں، کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے ملازمین اور پولیس کے درمیان تصادم کے دوران او برائن کے اچانک سیڑھیوں پر گر جانے کی ایک تصویر پہلے ہی وائرل ہو چکی ہے۔
ان سے اس تصویر اور گرنے کے تناظر کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے، کہ آیا انہیں کسی نے دھکا دیا تھا یا ہاتھاپائی کے دوران ان کا توازن بگڑ گیا تھا۔ الزام ہے کہ واقعے کے دوران ڈیوٹی پر موجود کولکتہ پولیس کے کئی جوانوں کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔

پولیس والوں سے ہاتھاپائی کرنے کے بھی الزامات
او برائن پر پولیس کو سرکاری کام کرنے سے روکنے اور پولیس والوں سے ہاتھاپائی کرنے کے بھی الزامات لگے ہیں۔ ان سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے کہ واقعے کے دوران انہوں نے خاص طور پر کیا دیکھا، کیا ان کی موجودگی میں کسی پولیس اہلکار کے ساتھ ہاتھاپائی ہوئی تھی یا انہوں نے پولیس اہلکاروں پر کوئی حملہ دیکھا تھا؟
تفتیش کاروں کے پاس موجود ڈیٹا
اس کے علاوہ، واقعے سے پہلے اور بعد میں ان کے ساتھ موجود لوگوں، ان کے ساتھ ان کی بات چیت کیسی تھی اور معاملہ کیسے بگڑا، اس بارے میں بھی معلومات مانگی جا سکتی ہیں۔ ان کے بیانات کو سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج، تصاویر، ویڈیوز اور تفتیش کاروں کے پاس موجود دیگر ڈیٹا سے کراس ویریفائی (cross-verify) کیا جا سکتا ہے۔
ناخوشگوار واقعے کو روکنے اضافی پولیس فورس تعینات
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کا اگلا قدم ان کے بیان سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔ پولیس اسٹیشن کے باہر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور پوچھ گچھ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

