ETV Bharat / state

بنگال: جان سے مارنے کی دھمکی کے باوجود گورنر سی وی آنند بوس بغیر سکیورٹی سڑکوں پر نکلنے کا اعلان

مغربی بنگال کے گورنر کو دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد معاملے کی اطلاع مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو دی گئی۔

بنگال: جان سے مارنے کی دھمکی کے باوجود گورنر سی وی آنند بوس بغیر سکیورٹی سڑکوں پر نکلنے کا اعلان
بنگال: جان سے مارنے کی دھمکی کے باوجود گورنر سی وی آنند بوس بغیر سکیورٹی سڑکوں پر نکلنے کا اعلان (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : January 9, 2026 at 3:29 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

کولکاتا: مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس نے جان سے مارنے کی دھمکی کے باوجود جمعہ کو بغیر سکیورٹی کے کولکاتا کی سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کیا ہے۔ گورنر ہاؤس کو جمعرات کی رات ایک ای میل موصول ہوئی تھی جس میں گورنر کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد معاملے کی اطلاع مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو دی گئی، جس کے بعد گورنر کی سکیورٹی کا ازسرِ نو جائزہ لیا گیا۔ تاہم، گورنر بوس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی سکیورٹی گارڈ کے بغیر شہر کی سڑکوں پر نکلیں گے۔

ذرائع کے مطابق، گورنر آج کولکاتا کے مصروف علاقے دھرم تلا کے ڈیکرز لین میں کھانے کے لیے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لوک بھون میں تعینات ایک افسر نے بتایا، “یہ پہلی بار نہیں ہے کہ گورنر کو دھمکیاں ملی ہوں۔ اس کے باوجود وہ بغیر سکیورٹی کے عوام کے درمیان جانے پر پُرعزم ہیں۔ انہیں پورا یقین ہے کہ بنگال کے عوام خود ان کی حفاظت کریں گے۔”

افسر کے مطابق، دھمکی دینے والے شخص نے ای میل میں اپنا موبائل نمبر بھی درج کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سالٹ لیک سے ملزم کو 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا۔ دھمکی کے بعد، زیڈ پلس سکیورٹی کے حامل گورنر کی حفاظت مزید سخت کر دی گئی ہے اور لوک بھون کے تمام داخلی راستوں پر اضافی سکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔ اس پورے معاملے پر ریاستی پولیس اور سی آر پی ایف مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

گورنر کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے آئی-پیک کے دفتر اور اس کے شریک بانی پراتک جین کے گھر پر چھاپوں کے خلاف ایک بڑے احتجاجی جلوس کی قیادت کر رہی ہیں۔ اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے بی جے پی کے سینئر رہنما امِت مالویہ نے ریاست میں قانون و نظم و نسق کی صورتحال پر شدید تنقید کی۔

یہ بھی پڑھیں: 'بابری مسجد' کے سنگ بنیاد کے جواب میں کولکاتا میں ہندو تنظیموں کا گیتا پاٹھ پروگرام، پانچ لاکھ لوگوں کی شرکت

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، “ممتا بنرجی کی حکومت ایک مکمل ناکامی ہے۔ بنگال میں یہاں تک کہ گورنر بھی محفوظ نہیں۔” انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں قانون و نظم و نسق پوری طرح تباہ ہو چکا ہے اور وزیر اعلیٰ خود مرکزی ایجنسیوں کی کارروائیوں میں مداخلت کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال میں آئندہ چند مہینوں میں اسمبلی انتخابات متوقع ہیں، جس کے باعث سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔