نابالغ بیٹی کو حاملہ کرنے کے قصوروار باپ کو سزائے موت، بچے کے ڈی این اے سے جرم کی تصدیق
پوکسو عدالت نے ایک باپ کو اپنی نابالغ بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی اور حاملہ کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی ہے۔

Published : January 6, 2026 at 9:49 AM IST
ترونیل ویلی: تمل ناڈو کے ترونیل ویلی ضلع کی پوکسو عدالت نے ایک شخص کو اپنی نابالغ بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی اور حاملہ کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی ہے۔ پوکسو عدالت نے سنیچر (پانچ جنوری) کو اپنا فیصلہ سنایا۔
یہ معاملہ ترونیل ویلی ضلع کے ایک مزدور سے متعلق ہے۔ اس نے دو شادیاں کر رکھی ہیں۔ دوسری بیوی سے دو بیٹیاں ہیں۔ یہ گذشتہ سال جنوری کا واقعہ ہے جب ان میں سے ایک چودہ سالہ بچی کے جسم میں ماں نے تبدیلیاں دیکھیں تو وہ اسے ہسپتال لے گئی۔ ڈاکٹروں نے اس کا معائنہ کیا اور پتہ چلا کہ وہ حاملہ ہے۔ ڈاکٹروں کی بات سن کر لڑکی اور اس کی ماں کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ پوچھ گچھ پر لڑکی نے انکشاف کیا کہ اس کا باپ سال 2024 سے ہی اس کے ساتھ جنسی زیادتی کر رہا تھا۔
ماں نے فروری 2025 میں خواتین پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ پولیس نے کیس درج کرنے کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کر دی۔ اسی دوران نابالغ حاملہ لڑکی نے ایک بچے کو جنم دیا۔ بچے کے ڈی این اے ٹیسٹ سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ بچے کا حیاتیاتی باپ متاثرہ کا والد ہی تھا جس نے اپنی بیٹی کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا اور نتیجتاً وہ حاملہ ہو گئی۔
اس کیس کی سماعت ترونیل ویلی کی پاکسو کورٹ میں ہوئی۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے ثبوت کی بنیاد پر پاکسو کورٹ نے پانچ جنوری کو بروز سنیچر اپنا فیصلہ سنایا۔ پوکسو کورٹ کے جج سریش کمار نے باپ کو موت کی سزا سنائی اور اپنی نابالغ بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی اور حاملہ کرنے کے جرم میں 25,000 روپے کا جرمانہ عائد کیا۔ جج نے یہ بھی حکم دیا کہ تمل ناڈو حکومت متاثرہ کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرے۔
دس دن پہلے ترونیل ویلی ضلع کے نانگونری میں اسی طرح کے ایک کیس میں ایک باپ کو اپنی نابالغ بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا مجرم پائے جانے کے بعد موت کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی تھی۔
تمل ناڈو میں پوسکو عدالتیں
تمل ناڈو حکومت نے پاکسو ایکٹ، 2012 کے تحت مقدمات کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی ہیں۔ یہ عدالتیں چنئی، مدورائی، کوئمبٹور اور سیلم جیسے شہروں میں ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالتوں کے اندر فاسٹ ٹریک عدالتوں یا خواتین کی عدالتوں کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ان عدالتوں کو خصوصی مقدمات چلانے اور اپنے دائرہ اختیار میں مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کا کام سونپا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:
بار بار جنسی زیادتی کے باعث 14 سالہ لڑکی حاملہ ہو گئی، عدالت نے باپ کو سزائے موت سنا دی
دو سالہ بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی، لیو ان پارٹنرنے کی مزاحمت تو اس کی بھی عصمت دری کی
باپ نے حاملہ بیٹی کا کر دیا قتل، بیٹی کے دوسری ذات کے لڑکے سے شادی کرنے پر تھا ناراض

