ETV Bharat / state

راجستھان: ’بھینسوں کے تبیلے‘ میں اسکول چلنے کے دعوے کے چند روز بعد پرانا سرکاری اسکول منہدم، نئی عمارت کے لیے 18 لاکھ روپے منظور

رانکا نے کہاکہ اگر اس کارروائی کے نتیجے میں بچوں کےلیے ایک بہتر اسکول تعمیر ہوتا ہے تو وہ اس پیشرفت کو مثبت سمجھتے ہیں۔

راجستھان: ’بھینسوں کے تبیلے‘ میں اسکول چلنے کے دعوے کے چند روز بعد پرانا سرکاری اسکول منہدم، نئی عمارت کے لیے 18 لاکھ روپے منظور
راجستھان: ’بھینسوں کے تبیلے‘ میں اسکول چلنے کے دعوے کے چند روز بعد پرانا سرکاری اسکول منہدم، نئی عمارت کے لیے 18 لاکھ روپے منظور (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : September 3, 2026 at 2:25 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

جے پور : راجستھان کے جے پور میں ایک سرکاری پرائمری اسکول کی خستہ حال عمارت کو حکام نے بدھ کے روز منہدم کردیا۔ یہ کارروائی کوکراچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ارکان کے اسکول کے دورے کے چند روز بعد ہوئی، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسکول کے طلبہ کو ایک ایسی عارضی جگہ پر پڑھایا جارہا ہے جہاں مویشی بھی باندھے جاتے ہیں۔ یہ اسکول باگرو اسمبلی حلقے کے رام پورہ (کنورپورہ) گاؤں میں واقع ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے افسران کی موجودگی میں پرانی عمارت کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کردیا گیا۔ 21 اگست کو سی جے پی کے شریک کنوینر آشوتوش رانکا اپنی ٹیم کے ہمراہ ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کے تحت رام پورہ کے سرکاری اسکول پہنچے تھے۔ سی جے پی کا دعویٰ تھا کہ اسکول کی عمارت کی خراب حالت کے باعث طلبہ کو ایک عارضی مقام پر پڑھایا جارہا ہے جہاں مویشی بھی باندھے جاتے ہیں۔

اس دعوے کے بعد معاملہ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث آگیا۔ تاہم گاؤں کے بعض رہائشیوں نے سی جے پی کی ٹیم کے دورے پر احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے گاؤں کا اسکول ہے اور وہ خود اس کی تعمیر کا انتظام کرسکتے ہیں۔ اس دوران دونوں جانب سے تنازعہ پیدا ہوگیا۔ سی جے پی کی ٹیم نے الزام لگایا کہ اس پر پتھراؤ کیا گیا، جبکہ گاؤں والوں نے دورے کے لیے آنے والے افراد پر مقامی باشندوں کو دھمکانے اور ہنگامہ برپا کرنے کا الزام عائد کیا۔

واقعہ کے بعد دونوں فریقوں کی جانب سے ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ سی جے پی نے الزام لگایا کہ بی جے پی کارکنوں نے اس کے ارکان پر حملہ کیا، جبکہ مقامی افراد نے اس کے برعکس الزامات عائد کیے۔ اس سرکاری پرائمری اسکول میں 26 طلبا زیرِ تعلیم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسکول کی پرانی عمارت کو گزشتہ سال تکنیکی سروے کے بعد خستہ حال اور غیر محفوظ قرار دے دیا گیا تھا، جس کے بعد اسے استعمال سے باہر کردیا گیا۔

اس کے بعد اسکول کی کلاسیں قریبی عمارت کے ایک کمرے میں منتقل کردی گئیں، جہاں اس وقت بھی طلبہ کو تعلیم دی جارہی ہے۔ یہ کمرہ ایک مقامی باشندے نے اسکول کے لیے فراہم کیا ہے۔ اس معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد راجستھان حکومت نے 23 اگست کو اعلان کیا کہ اسکول کے لیے نئی عمارت تعمیر کی جائے گی۔ اس منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 18 لاکھ روپے مختص کیے گئے۔

اس رقم میں سے 12 لاکھ روپے ڈسٹرکٹ منرل فاؤنڈیشن ٹرسٹ (ڈی ایم ایف ٹی) جبکہ 6 لاکھ روپے ایم ایل اے فنڈ سے فراہم کیے گئے۔ اسکول میں موجود ایک ٹیچر آشا نے عمارت منہدم کیے جانے کے موقع پر کہا کہ یہاں نئی اسکول عمارت تعمیر کی جائے گی اور طلبا و اساتذہ کے لیے بہتر جگہ دستیاب ہوگی۔ ان کے مطابق نئی عمارت طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

اس پیشرفت پر سی جے پی کے شریک کنوینر آشوتوش رانکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اسکول کی عمارت منہدم کیے جانے کی ویڈیو شیئر کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ وہی رام پورہ اسکول ہے جہاں ان کے مطابق طلبا کو بھینسوں کے تبیلے میں پڑھایا جارہا تھا۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اسکول کے معائنے کے دوران ان کی ٹیم پر پتھر پھینکے گئے، خواتین کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے۔

رانکا نے کہا کہ اگر اس کارروائی کے نتیجے میں بچوں کے لیے ایک بہتر اسکول تعمیر ہوتا ہے تو وہ اس پیش رفت کو مثبت سمجھتے ہیں۔ باگرو کے بی جے پی رکن اسمبلی کیلاش ورما نے کہا کہ اسکول کی نئی عمارت کے لیے فنڈ پہلے ہی منظور کیا جاچکا تھا۔ ان کے مطابق 12 لاکھ روپے ڈی ایم ایف ٹی اور 6 لاکھ روپے ایم ایل اے لوکل ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ سے 13 اگست کو ہی منظور کیے جاچکے تھے، یعنی سی جے پی کی جانب سے اسکول کا دورہ کیے جانے سے کئی روز قبل۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی ایم سی کے دفتر پر علی الصبح حملہ، فرنیچر توڑ دیا، فون چھین لیے، ابھیشیک بنرجی کا بی جے پی پر سنگین الزام

کیلاش ورما نے الزام لگایا کہ سی جے پی کو فنڈ کی منظوری کے بارے میں معلوم تھا، تاہم ان کے مطابق حکومت پر دباؤ ڈالنا تنظیم کا اپنا ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی اسکول کی نئی عمارت کی تعمیر شروع کرنا چاہتی تھی، تاہم بارشوں کی وجہ سے تعمیراتی کام میں تاخیر ہوئی۔ بی جے پی ایم ایل اے نے سی جے پی کو اسکول کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم ریاستی حکومت کی ترجیحات میں ہمیشہ شامل رہی ہے۔