ETV Bharat / state

پیسے اور جوڑتوڑ کی سیاست خطرناک: شرد پوار

مہاراشٹرا مقامی اداروں کے انتخابات کےلئے موقع پرست اتحاد تشکیل دینے اور لیڈروں کی خرید و فروخت پر شرد پوار نے افسوس کا اظہار کیا۔

پیسے اور جوڑتوڑ کی سیاست خطرناک: شرد پوار
پیسے اور جوڑتوڑ کی سیاست خطرناک: شرد پوار (File Photo: Sharadchandra Pawar (ANI))
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : November 27, 2025 at 5:21 PM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

بارامتی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے سربراہ شرد پوار نے جمعرات کو مہاراشٹر کی سیاست میں ہونے والی مسلسل تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی سطح پر ہی نہیں بلکہ مقامی اداروں کے انتخابات میں بھی بے مثال اتھل پتھل دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے بڑی سیاسی جماعتوں پر لیڈروں کی خرید و فروخت اور موقع پرست اتحاد تشکیل دینے کا الزام عائد کیا۔

شرد پوار نے کہا کہ بلدیاتی سطح کے انتخابات پر بھی نئی صف بندیاں اور مختلف شکلوں کے اتحاد دیکھے جارہے ہیں، جو جمہوری نظام کے لیے درست روش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتیجہ ہمیشہ عوام طے کرتے ہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں کو جوڑ توڑ کے بجائے اپنی کارکردگی پیش کرنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت نے کبھی ایسی سیاست نہیں کی اور مستقبل میں بھی اس سے دور رہے گی۔ پوار نے کہا کہ انتخابات میں اب صرف چند دن رہ گئے ہیں، دیکھتے ہیں عوام کیا فیصلہ دیتے ہیں۔

اپنے خطاب میں پوار نے کسانوں کے مسائل، انتخابات اور ریزرویشن کے معاملات پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس اور اپنے بھتیجے، نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ ووٹ مانگنے کے بدلے پیسے یا فنڈز کی بات کرنا خطرناک رجحان ہے، جو جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے سیاستدان کام گنوانے کے بجائے پیسے کا ذکر کرتے ہیں، جو جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ عوامی نمائندے صرف اپنے کام کی بنیاد پر ہی ووٹ مانگ سکتے ہیں اور عوام یقیناً صحیح فیصلہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بہار انتخابات سے قبل خواتین کو 10 ہزار روپئے دینے پر شرد پوار کے سنگین سوالات

ریزروریشن کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر پہلے ہی سپریم کورٹ کی مقرر کردہ 50 فیصد حد سے آگے نکل چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں او بی سی ریزرویشن کے حوالے سے چل رہے کیس میں سپریم کورٹ کی سماعت ملتوی ہوئی ہے، اور معاملہ 28 نومبر کو دوبارہ پیش ہوگا۔ کسانوں کے حالیہ نقصانات پر انہوں نے کہا کہ صرف ایک سال کے قرض کی وصولی روک دینا کافی نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ متاثرہ کسانوں کو براہِ راست مالی امداد فراہم کرے تاکہ انہیں حقیقی سہارا مل سکے۔