ہندو شادیوں کے لیے رسومات ضروری، سات پھیروں کے بغیر صرف رجسٹریشن کافی نہیں: گجرات ہائی کورٹ
گجرات ہائی کورٹ نے کہا کہ صرف شادی کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ سے ہندو شادی کی توثیق نہیں ہوتی۔ روایتی رسومات جیسے سات پھیرے ضروری ہیں۔


Published : July 1, 2026 at 1:57 PM IST
احمد آباد، گجرات: گجرات ہائی کورٹ نے ہندو میرج ایکٹ سے متعلق ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ہندو شادی کو قانونی طور پر صرف میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ہندو میرج ایکٹ کے سیکشن 7 کے مطابق، شادی کو ضروری رسومات اور روایات کے مطابق سپت پدی (سات پھیرے) کی تقریب کی تکمیل کے بعد ہی جائز سمجھا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ شادی تجارتی لین دین نہیں ہے بلکہ بھارتی ثقافت میں زندگی بھر کی مقدس رسم ہے۔
اکیلے شادی کا سرٹیفکیٹ ہندو شادی کی توثیق نہیں کرتا
دراصل برطانیہ میں رہنے والے ایک نوجوان نے گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ نوجوان نے دعویٰ کیا کہ لڑکی کے والد کی کمپنی میں ملازمت کے دوران اسے پروموشن اور نوکری سے برخاست کرنے کی دھمکی کے تحت دھوکے سے اس کے دستخط لے لیے گئے اور شادی کا رجسٹریشن کرا لیا گیا۔ نوجوان لڑکے اور لڑکی نے کبھی بھی ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی نہیں کی اور نہ ہی کبھی میاں بیوی کے طور پر ایک ساتھ رہے۔
کوئی تقریب ہندو رسم و رواج کے مطابق نہیں ہوئی
درخواست گزار کے وکیل راہل جین نے کہا کہ اس پورے کیس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ فریق مخالف نے اپنے تحریری جواب میں تسلیم کیا کہ شادی کی کوئی تقریب ہندو رسم و رواج کے مطابق نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔ تاہم، فیملی کورٹ نے کیس کو صرف شادی کے سرٹیفکیٹ (نکاح نامے) کی بنیاد پر سماعت کے لیے بھیج دیا، جو کہ قانون کی دفعات کے خلاف تھا۔
شادی کا رجسٹریشن قانونی طور پر پختہ شادی کا محض ثبوت
وکیل راہل جین نے مزید کہا کہ ہندو میرج ایکٹ کے سیکشن 7 کے مطابق ضروری رسمی کارروائیوں کے بغیر کوئی بھی شادی درست نہیں ہو سکتی۔ تاہم، سیکشن 8 کے تحت شادی کا رجسٹریشن قانونی طور پر پختہ شادی کا محض ثبوت ہے۔ لہٰذا، اگر شادی کی تقریب نہیں ہوئی ہے، تو اکیلے شادی کے سرٹیفکیٹ (نکاح نامہ) کسی بھی فریق کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتا۔ سماعت کے دوران مخالف وکیل نے ہائی کورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا کہ شادی کے رجسٹریشن کے علاوہ ہندو قانون کے مطابق شادی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
ہندوستانی ثقافت میں شادی ایک مقدس رسم
گجرات ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ شادی محض کاغذ پر رجسٹریشن نہیں ہے بلکہ ہندوستانی ثقافت میں ایک مقدس رسم ہے۔ عدالت نے کہا کہ شادی کوئی تجارتی لین دین یا محض جشن نہیں ہے بلکہ برابری، باہمی احترام اور رضامندی پر مبنی دو افراد کے درمیان زندگی بھر کا رشتہ ہے۔ رگ وید کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ سپت پدی کے ساتویں پھیرے کے بعد ہی دولہا اور دلہن زندگی بھر کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ اس نے نوجوان نسل سے بھی اپیل کی کہ وہ شادی کے مقدس رشتے کی سنجیدگی اور ذمہ داری کو سمجھیں۔
شادی کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کی کارروائی
ان تمام حالات پر غور کرتے ہوئے، گجرات ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ کے حکم کو ایک طرف رکھ دیا، مبینہ شادی کو کالعدم قرار دیا اور شادی کے رجسٹریشن اور نکاح نامے کو منسوخ کرنے کے لیے متعلقہ اتھارٹی کے سامنے کارروائی کی اجازت دی۔

