ETV Bharat / state

اے ایم یو کیمپس میں ٹیچر کا گولی مار کر قتل، حملہ آورفرار، طلباء اور اساتذہ میں غم و غصہ

یہ واقعہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیمپس میں دیر رات پیش آیا۔ پولیس ملزم کی تلاش کر رہی ہے۔

اے ایم یو کیمپس میں ٹیچر کا گولی مار کر قتل
اے ایم یو کیمپس میں ٹیچر کا گولی مار کر قتل (Etv Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : December 25, 2025 at 7:05 AM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

علی گڑھ: اتر پردیش کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا کیمپس بدھ کو اس وقت ہل گیا جب اے بی کے بوائز اسکول کے کمپیوٹر ٹیچر راؤ دانش علی کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار دی۔ یہ واقعہ اے ایم یو لائبریری کینٹین کے قریب کینیڈی ہال کے سامنے پیش آیا۔ ٹیچر کو تشویشناک حالت میں جے این میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا، جہاں علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔

چہل قدمی کے دوران اچانک حملہ:

عینی شاہدین کے مطابق راؤ دانش علی دو دوستوں کے ساتھ کیمپس میں چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک اسکوٹر پر سوار دو نامعلوم نوجوان آئے اور ان پر فائرنگ کر دی۔ گولی ان کے کان کے اوپر لگی۔ ملزمان حملے کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ اس واقعہ سے یونیورسٹی کیمپس میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کر رہی ہے:

اطلاع ملنے پر پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ نیرج جدون جائے وقوعہ پر پہنچے اور جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے جے این میڈیکل کالج کا دورہ کیا اور زخمی ٹیچر کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے تمام معلومات اکٹھی کیں۔ ایس ایس پی نیرج جدون نے بتایا کہ سول لائنز تھانہ علاقہ میں پیش آنے والے اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے پولیس کی متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جا رہی ہے۔

حملہ آور ٹیچر کو جانتے تھے:

ایس ایس پی نیرج جدون نے یہ بھی بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ حملہ آور مقتول کو جانتے تھے، حالانکہ ابھی تک وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔ تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے، جلد ہی واقعے کا پتہ چل جائے گا۔ ایس پی سٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پورے معاملے کی نگرانی کریں اور فوری کارروائی کریں۔

کمپیوٹر ٹیچر بہت نرم مزاج کے تھے:

راؤ دانش علی اے بی کے بوائز سکول میں کمپیوٹر ٹیچر تھے اور طلباء میں ایک شریف اور محنتی استاد کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کا تعلق اصل میں بلند شہر ضلع کے ڈبائی علاقے سے تھا اور وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے علی گڑھ میں عامر نشا مکھن والی کوٹھی کے قریب رہ رہے تھے۔ ان کے والد اے ایم یو میں ملازم تھے، جب کہ ان کی والدہ ٹیچر تھیں۔ اے ایم یو میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد دانش یونیورسٹی کے اے بی کے بوائز اسکول میں بطور ٹیچر مقرر ہوئے۔

معروف خاندانی پس منظر:

استاد کا خاندانی پس منظر بھی کافی باوقار ہے۔ ان کے سسر فضا اللہ چودھری مرادآباد کے کانٹھ اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ ان کے بھائی بھی اے ایم یو کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں ٹیچر ہیں۔

طلباء اور اساتذہ میں غم و غصہ:

یونیورسٹی کیمپس کے اندر دن دیہاڑے ہوئے اس قتل نے اے ایم یو کے سیکورٹی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ اساتذہ، طلباء اور عملہ شدید غم و غصے کا شکار ہے اور تمام ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایس ایس پی نیرج جدون کا کہنا ہے کہ حملہ آور بہت جلد پکڑے جائیں گے اور واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: