بہار راجیہ سبھا انتخابات: این ڈی اے پانچوں نشستیں جیت پائے گا یا متحدہ اپوزیشن ایک سیٹ بچا لے گی؟
اپوزیشن اتحاد میں جنتادل کے 25، کانگریس کے 6، سی پی آئی کے 2 جبکہ دیگر بائیں بازو اور علاقائی جماعتوں کے ارکان شامل ہیں۔

Published : February 28, 2026 at 7:47 PM IST
پٹنہ: بہار اسمبلی کی پانچ راجیہ سبھا نشستوں کے لیے 16 مارچ کو ہونے والے انتخابات نے ریاستی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ 243 رکنی اسمبلی میں ہر امیدوار کو کامیابی کے لیے 41 پہلی ترجیحی ووٹ درکار ہوں گے۔ اعداد و شمار کے مطابق حکمراں اتحاد این ڈی اے کے پاس 202 ارکانِ اسمبلی ہیں، جبکہ اپوزیشن کے پاس مجموعی طور پر 41 ووٹ ہیں، جن میں 35 گرینڈ الائنس /انڈیا اتحاد کے اور 6 دیگر جماعتوں کے شامل ہیں۔ اس حساب سے این ڈی اے چار نشستیں بآسانی جیت سکتا ہے، تاہم پانچویں نشست کے لیے اسے کم از کم تین اپوزیشن اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔
اپوزیشن اتحاد میں جنتا دل کے 25، کانگریس کے 6، سی پی آئی (ایم ایل) کے 2 جبکہ دیگر بائیں بازو اور علاقائی جماعتوں کے ارکان شامل ہیں۔ علاوہ ازیں کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے 5 اور بی ایس پی کا ایک رکن اسمبلی ہے، تاہم یہ گرینڈ الائنس کا حصہ نہیں ہیں۔ قانون کے مطابق راجیہ سبھا انتخابات میں اوپن بیلٹ سسٹم نافذ ہوتا ہے اور جماعتیں اپنے اراکین کو وہپ جاری کر سکتی ہیں۔ وہپ کی خلاف ورزی کرنے والے رکن کو آئین کے دسویں شیڈول کے تحت نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اپوزیشن لیڈر اور آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو نے اعلان کیا ہے کہ ان کا اتحاد پانچویں نشست پر اپنا امیدوار کھڑا کرے گا۔ تاہم انہیں کامیابی کے لیے اے آئی ایم آئی ایم اور بی ایس پی کی حمایت درکار ہوگی۔ دوسری جانب اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اخترالایمان نے بھی اپنی جماعت کی جانب سے امیدوار اتارنے کا عندیہ دیا ہے اور اپوزیشن جماعتوں سے حمایت کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ 9 اپریل کو آر جے ڈی کے امرندر دھاری سنگھ اور پریم چند گپتا، جے ڈی یو کے ہری ونش اور مرکزی وزیر رام ناتھ ٹھاکر، اور آر ایل ایم کے اپیندر کشواہا کی مدتِ کار مکمل ہو رہی ہے۔ انتخابی اعلامیہ 26 فروری کو جاری کیا گیا، کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 5 مارچ ہے جبکہ ووٹنگ 16 مارچ کو بہار اسمبلی میں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: شنکراچاریہ تنازعہ: قانونی معاملات میں مددگار ایڈووکیٹ شری ناتھ ترپاٹھ کو بم کی دھمکی
سیاسی مبصرین کے مطابق اصل معرکہ پانچویں نشست پر ہوگا، جہاں معمولی انحراف یا اتحاد کی مضبوطی نتیجہ طے کرے گی۔

