پی ایف آئی کیس کے ملزم کی عدالتی حراست میں موت، عدالت کا لاش لواحقین کے حوالے کرنے کا حکم
عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی کہ تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش متوفی کے قریبی رشتہ داروں کے حوالے کی جائے۔

Published : August 22, 2026 at 2:15 PM IST
کوچی : ممنوعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے متعلق ایک مقدمے میں ملزم کی عدالتی حراست کے دوران موت ہوگئی۔ معاملے میں کوچی کی خصوصی این آئی اے عدالت نے متوفی کی لاش اس کے قریبی رشتہ داروں کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔
این آئی اے کی خصوصی عدالت کے جج پی کے موہن داس نے محمد یاسر عرفات کی لاش فوری طور پر قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اس کے قریبی رشتہ داروں کے حوالے کرنے کی ہدایت دی۔ محمد یاسر عرفات اس مقدمے میں 64ویں ملزم تھے۔ وہ 34 سال کے تھے اور کیرالہ کے النگاڈ کے قریب نیریکوڈ کے رہنے والے تھے۔
محمد یاسر عرفات نے رواں سال فروری میں این آئی اے عدالت کے سامنے خودسپردگی کی تھی، جس کے بعد انہیں وئیور، تھریسور کی ہائی سکیورٹی جیل میں رکھا گیا۔ بعد ازاں انہیں دل کے عارضے کے باعث ترواننت پورم میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں جمعرات کو ان کا انتقال ہوگیا۔
ان کی موت کے بعد ان کے وکیل نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے لاش قریبی رشتہ داروں کے حوالے کرنے کی اجازت طلب کی۔ عدالت نے درخواست پر غور کرتے ہوئے پوجاپورا سینٹرل جیل، ترواننت پورم کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی کہ تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش متوفی کے قریبی رشتہ داروں کے حوالے کی جائے۔
عدالت نے صرف لاش حوالے کرنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ محمد یاسر عرفات کی موت کی وجوہات کی تحقیقات کی بھی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 196 کے تحت انکوائری کرنے اور اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ دفعہ عدالتی یا پولیس حراست کے دوران کسی شخص کی موت کی وجوہات کی تحقیقات سے متعلق ہے۔
چونکہ متوفی پہلے ہی دل کے عارضے کے باعث اسپتال میں زیر علاج تھے، اس لیے عدالت کی جانب سے موت کی وجہ سے متعلق باقاعدہ انکوائری کا حکم معاملے کی قانونی شفافیت کے حوالے سے اہم ہے۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے 2022 میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی مبینہ سرگرمیوں کے سلسلے میں تحقیقات شروع کی تھیں۔ اسی دوران مرکزی حکومت نے پی ایف آئی پر پابندی عائد کردی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: صرف 25 ایف آئی آر واپس لینے کے اقدام پر تنقید، لداخ لیڈروں نے یوٹی انتظامیہ پر تفرقہ ڈالنے کی سازش کا لگایا الزام
این آئی اے کے مطابق اس معاملے میں اب تک 71 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے۔ محمد یاسر عرفات بھی اسی مقدمے میں ملزم تھے اور فروری 2026 میں عدالت کے سامنے خودسپردگی کے بعد عدالتی تحویل میں تھے۔

