مدھیہ پردیش میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرِ ثانی کے بعد 34 لاکھ سے زائد نام خارج، حتمی فہرست جاری
حتمی اعدادو شمار کے مطابق ووٹرلسٹ میں 2.79 کروڑ سے زائد مرد، 2.60 کروڑ سے زائد خواتین اور 904 تیسری جنس کے ووٹر شامل ہیں۔

Published : February 22, 2026 at 7:26 PM IST
بھوبال : الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے مدھیہ پردیش میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے بعد 34 لاکھ سے زائد ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے حذف کر دیے گئے ہیں۔ نظرِ ثانی کے بعد جاری کی گئی حتمی فہرست کے مطابق ریاست میں رائے دہندگان کی مجموعی تعداد 5.74 کروڑ سے کم ہو کر 5.39 کروڑ رہ گئی ہے۔
حتمی اعداد و شمار کے مطابق ووٹر لسٹ میں 2.79 کروڑ سے زائد مرد، 2.60 کروڑ سے زائد خواتین اور 904 تیسری جنس کے ووٹر شامل ہیں۔ مدھیہ پردیش میں کثیر مرحلہ جاتی SIR مہم کا آغاز 27 اکتوبر 2025 کو ہوا تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق حذف کیے گئے نام مختلف وجوہات کی بنیاد پر خارج کیے گئے، جن میں غیر حاضری، انتقال، مستقل طور پر دوسری جگہ منتقلی اور ڈپلیکیٹ اندراجات شامل ہیں۔
ایس آئی آر کے پہلے مرحلے میں بوتھ لیول افسران نے گھر گھر جا کر تصدیقی عمل مکمل کیا، جو 23 دسمبر 2025 کو اختتام پذیر ہوا۔ اس مرحلے میں 42.74 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے تھے۔ بعد ازاں کمیشن نے غیر مطابقت رکھنے والے ووٹروں کو ذاتی پیشی کے نوٹس جاری کیے، جس کے نتیجے میں تقریباً 8.5 لاکھ ووٹروں کے نام دوبارہ حتمی فہرست میں شامل کیے گئے۔
نظرِ ثانی کے بعد جاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ جگدیش دیوڑا اور وزیر برائے خواتین و اطفال بہبود نرملا بھوریا کے اسمبلی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دیگر وزراء کے بیشتر حلقوں میں کمی درج کی گئی۔
بھوبال کے گویندپورہ اسمبلی حلقے میں سب سے زیادہ حذفیاں ریکارڈ کی گئیں۔ یہ حلقہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی وزیر کرشنا گور نے جیتا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گویندپورہ میں 2023 کے مقابلے میں 3,20,746 ووٹروں کے نام خارج ہوئے۔ اسی طرح نریلا اسمبلی حلقے میں 65,579 ووٹروں کی کمی درج کی گئی۔
دوسری جانب، نائب وزیر اعلیٰ جگدیش دیورا کے مالہارہ گڑھ حلقے میں ووٹروں کی تعداد 2,45,608 سے بڑھ کر 2,45,708 ہو گئی، یعنی 100 ووٹروں کا اضافہ ہوا۔ اسی طرح نرملا بھوریا کے پیٹلاواد حلقے میں ووٹروں کی تعداد میں 6,886 کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 2,88,592 سے بڑھ کر 2,95,478 ہو گئی۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نظرِ ثانی کا مقصد انتخابی فہرست کو شفاف اور درست بنانا ہے تاکہ صرف اہل ووٹر ہی انتخابی عمل میں حصہ لے سکیں۔

