نادیہ ضلع میں دیوتاؤں کے مجسموں کی توڑ پھوڑ، علاقے میں کشیدگی
راناگھاٹ کے ایس پی آشیش موریہ نے بتایاکہ دو افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے۔

Published : January 8, 2026 at 1:51 PM IST
کولکاتا : مغربی بنگال کے نادیہ ضلع میں دیوی دیوتاؤں کے 60 سے 70 زیرِ تکمیل مجسموں کی توڑ پھوڑ کا ایک سنگین واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ واقعہ پیر کی رات شانت پور پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع سربانندی پارا لوکناتھ مندر کے سامنے پیش آیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق، مجسمہ ساز جینت داس اور ان کے بیٹے پلاش داس مندر کے سامنے مجسمے تیار کرتے تھے۔ سرسوتی پوجا کے قریب ہونے کے باعث اس وقت سرسوتی دیوی کے مجسموں کے ساتھ ساتھ چند کالی دیوی کے مجسمے بھی بنائے جا رہے تھے۔ نامعلوم افراد نے رات کے وقت ان مجسموں کو نشانہ بنایا اور بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی۔
پلاش داس نے بتایا کہ پیر کی رات مقامی رہائشی امیت دے ان کی دکان پر آیا تھا۔ اس وقت پلاش اپنے گھر کی پوجا کے لیے ایک مجسمے کی سجاوٹ کر رہے تھے۔ امیت دے نے دیر رات تک کام کرنے کی وجہ پوچھی، جس پر پلاش نے بتایا کہ گھر میں پوجا ہے اور اسے بھی مدعو کیا۔ پلاش کے مطابق، امیت اس وقت نشے میں تھا، اس لیے انہوں نے مزید گفتگو مناسب نہیں سمجھی اور کچھ دیر بعد گھر چلے گئے۔
منگل کی صبح جب وہ واپس آئے تو دیکھا کہ بڑی تعداد میں مجسمے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں، جس کے بعد علاقے میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ میں امیت دے اور اسیت دے کی مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔ مقامی باشندے سواپن دیبناتھ نے بتایا کہ امیت دے علاقے میں ایک عادی شرابی کے طور پر جانا جاتا ہے اور اس پر ماضی میں مختلف مجرمانہ سرگرمیوں کے الزامات بھی لگ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کٹنور دیہات میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمہ کی بے حرمتی کرنے والوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ
بی جے پی لیڈر امیت مالویہ نے سوشل میڈیا پر اس واقعے کو اجاگر کرتے ہوئے اسے سناتن دھرم پر حملہ قرار دیا ہے۔ تاہم ترنمول کانگریس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، پارٹی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں پولیس ضروری معلومات فراہم کرے گی۔ راناگھاٹ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آشیش موریہ نے کہا، “اس معاملے میں شکایت درج کر لی گئی ہے اور پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔ دو افراد کی شناخت ہو چکی ہے، تاہم وہ فی الحال مفرور ہیں۔ ان کی تلاش جاری ہے۔”

