ETV Bharat / state

آندھرا پردیش میں او این جی سی کنویں میں آگ: دہلی اور ممبئی سے ماہر ٹیمیں طلب

یہ ہولناک واقعہ پیر کی دوپہر تقریباً 12:40 بجے پیش آیا، جب کنویں سے اچانک گیس اور خام تیل کے آمیزے کا زبردست اخراج ہوا۔

آندھرا پردیش میں او این جی سی کنویں میں آگ: دہلی اور ممبئی سے ماہر ٹیمیں طلب
آندھرا پردیش میں او این جی سی کنویں میں آگ: دہلی اور ممبئی سے ماہر ٹیمیں طلب (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : January 6, 2026 at 1:38 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

حیدرآباد : آندھرا پردیش کے کوناسیما ضلع کے مالیکی پورم منڈل کے ایرسومندا گاؤں کے قریب واقع آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (او این جی سی) کے ایک گیس کنویں میں لگنے والی شدید آگ دوسرے دن بھی جاری رہی۔ منگل کے روز بھی کنویں سے گیس کے اخراج کے باعث بھڑکتی ہوئی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری رہیں، جبکہ او این جی سی کی ماہر ٹیمیں ممبئی اور دہلی سے موقع پر پہنچ رہی ہیں۔

یہ ہولناک واقعہ پیر کی دوپہر تقریباً 12:40 بجے پیش آیا، جب کنویں سے اچانک گیس اور خام تیل کے آمیزے کا زبردست اخراج ہوا، جس کے نتیجے میں تقریباً 20 میٹر بلند اور 25 میٹر چوڑی آگ کے شعلے بلند ہو گئے۔ یہ کنواں، جسے موری-5 کے نام سے جانا جاتا ہے، عارضی طور پر پیداوار بند ہونے کے بعد مرمتی کام کے دوران دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا۔

آندھرا پردیش میں او این جی سی کنویں میں آگ: دہلی اور ممبئی سے ماہر ٹیمیں طلب
آندھرا پردیش میں او این جی سی کنویں میں آگ: دہلی اور ممبئی سے ماہر ٹیمیں طلب (ETV Bharat)

حادثے کے فوراً بعد گیس اور دھوئیں کے گھنے بادل پورے علاقے میں پھیل گئے، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے تحت ایرسومندا اور اطراف کے دیہات سے 500 سے زائد افراد کو نکال کر ریلیف کیمپوں میں منتقل کر دیا۔ او این جی سی کے مطابق اس واقعے میں اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ حکام نے بتایا کہ کنواں ایک دور دراز علاقے میں واقع ہے اور اس کے 500 سے 600 میٹر کے دائرے میں کوئی مستقل آبادی موجود نہیں۔

او این جی سی نے واضح کیا ہے کہ یہ گیس کنواں براہِ راست اس کے زیرِ انتظام نہیں بلکہ اس کے پروڈکشن انہانسمنٹ کنٹریکٹر، احمد آباد کی کمپنی ڈیپ انڈسٹریز لمیٹڈ چلا رہی ہے۔ ڈیپ انڈسٹریز کو 2024 میں راجہمندری اثاثہ جات کے تحت پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے تقریباً 1402 کروڑ روپے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا، اور یہ کمپنی گزشتہ ایک سال سے موری-5 کنویں کو آپریٹ کر رہی تھی۔

آندھرا پردیش میں او این جی سی کنویں میں آگ: دہلی اور ممبئی سے ماہر ٹیمیں طلب
آندھرا پردیش میں او این جی سی کنویں میں آگ: دہلی اور ممبئی سے ماہر ٹیمیں طلب (ETV Bharat)

کوناسیما کی جوائنٹ کلکٹر ٹی نسانتھی نے بتایا کہ فائر فائٹنگ ٹیموں نے علاقے میں درجہ حرارت کم کرنے کے لیے ’’واٹر امبریلا‘‘ بنایا ہے اور مسلسل پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے، تاہم آگ مکمل طور پر بجھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی اور دہلی سے آنے والی ماہر ٹیمیں حالات کا جائزہ لینے کے بعد مزید اقدامات کریں گی۔ ان کے مطابق پیر کے مقابلے میں آگ کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے اور امید ہے کہ صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔

ریونیو، پولیس، فائر بریگیڈ، او این جی سی، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور ریڈ کراس کے اہلکار مشترکہ طور پر آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ موری-5 کنویں پر ڈرلنگ کی سرگرمیاں پہلی بار 1993 میں شروع ہوئیں۔ اس وقت خام تیل کے ساتھ قدرتی گیس کے ذخائر مقامی گیس کلیکشن اسٹیشن کو منتقل کیے گئے تھے۔ وقت کے ساتھ کنویں میں دباؤ کم ہوتا گیا اور پانی کی مقدار بڑھنے لگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ گیس کے دباؤ میں کمی آئے بغیر آگ بجھانا مشکل ہے، تاہم تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لا کر صورتحال کو جلد از جلد قابو میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

آندھرا پردیش میں او این جی سی کنویں میں آگ: دہلی اور ممبئی سے ماہر ٹیمیں طلب
آندھرا پردیش میں او این جی سی کنویں میں آگ: دہلی اور ممبئی سے ماہر ٹیمیں طلب (ETV Bharat)

2024 میں او این جی سی نے اس کنویں کے ایک نئے زون (تقریباً 2700 میٹر گہرائی) سے پیداوار کے لیے سائٹ ڈیپ انڈسٹریز کو دی۔ حال ہی میں نئے زون تک رسائی کے دوران لاگنگ ٹول کے ذریعے ایک بمبنگ عمل کیا گیا، جس کے دوران غیر متوقع طور پر 2500 پریشر لیول کے ساتھ گیس اچانک باہر آ گئی۔ گیس کو قابو میں کرنے کے لیے کیمیائی مڈ پمپنگ کی گئی، مگر شدید دباؤ کے باعث یہ طریقہ ناکام رہا۔ جب گیس کا بہاؤ بلاسٹ آؤٹ پریوینٹر کی صلاحیت سے تجاوز کر گیا تو عملے کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنا پڑا۔ بعد ازاں رگڑ اور چنگاریوں کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔

حکام کے مطابق اس حادثے میں سینکڑوں کروڑ روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے۔ او این جی سی رگ، لاگنگ ٹول اور کئی بھاری گاڑیاں جل کر تباہ ہو چکی ہیں، جن کی مالیت 20 سے 30 کروڑ روپے فی یونٹ بتائی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 500 ناریل کے درخت جل گئے جبکہ فصلوں اور آبی کاشت (Aquaculture) کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر ایرسومندا، لکاورم، چنتلا پلی اور گببالاپالم میں احتیاطاً بجلی کی فراہمی منقطع کر دی گئی ہے۔

آندھرا پردیش میں او این جی سی کنویں میں آگ: دہلی اور ممبئی سے ماہر ٹیمیں طلب
آندھرا پردیش میں او این جی سی کنویں میں آگ: دہلی اور ممبئی سے ماہر ٹیمیں طلب (ETV Bharat)

یہ بھی پڑھیں: کشمیر میں آتشزدگی؛ جیو آفس، جے اینڈ کے بینک برانچ کو شدید نقصان - KASHMIR FIRE BREAKS OUT

املاپورم کے رکن پارلیمان ہریش ماتھر نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ سے بھی ماہرین کی مدد لی جائے گی۔ ضلع کلکٹر مہیش کمار، ایس پی راہل مینا، مقامی ایم ایل اے دیوا وراپرساد اور او این جی سی حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ گببالاپالم اور لکاورم میں قائم دو ریہیبلیٹیشن مراکز میں تقریباً 550 متاثرہ افراد کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور آگ پر مکمل قابو پانے تک امداد جاری رہے گی۔