ETV Bharat / state

'ماہواری نہ آنے کی بات چھپانا ذہنی ظلم، چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے طلاق کے خلاف بیوی کی عرضی خارج کر دی

چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے جوڑے کے تعلقات کو ٹھیک کرنا ناممکن قرار دیتے ہوئے علیٰحدگی کروا دی۔

chhattisgarh high court
چھتیس گڑھ ہائی کورٹ (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : December 11, 2025 at 1:31 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

بلاس پور: چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے طلاق سے متعلق فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بیوی کی اپیل کو خارج کر دیا۔ عدالت نے طلاق کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس کیس میں شوہر نے الزام لگایا تھا کہ بیوی نے ماہواری (حیض) نہ آنے کی بات چھپا کر اس سے شادی کی تھی اور شادی کے بعد ازدواجی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہی تھی۔ ہائی کورٹ نے اسے ذہنی ظلم قرار دیتے ہوئے طلاق کو درست ٹھہرایا۔

کبیر دھام میں رہنے والے اس جوڑے کی شادی پانچ جون 2015 کو ہندو رسم و رواج کے مطابق ہوئی۔ دو ماہ تک ان کے درمیان سب کچھ نارمل رہا جس کے بعد دونوں کے بیچ جھگڑے شروع ہوگئے۔ بعد ازاں شوہر نے فیملی کورٹ میں طلاق کی درخواست دے دی۔ شوہر نے عدالت کو بتایا کہ "ایک دن اس کی بیوی نے اسے بتایا کہ اس کی ماہواری بند ہو گئی ہے، وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا، جس نے اسے بتایا کہ اس کی بیوی کو گذشتہ 10 برسوں سے ماہواری نہیں آ رہی ہے۔ بعد ازاں دوسرے ڈاکٹروں سے بھی معائنہ کروایا۔ ان ڈاکٹروں کی جانچ میں بھی حاملہ ہونے میں سنگین مسائل کا انکشاف ہوا۔ شوہر نے دعویٰ کیا کہ اس کی بیوی اور اس کے گھر والوں نے جان بوجھ کر اس سے یہ بات چھپائی۔ اس بارے میں پوچھنے پر بیوی نے کہا کہ اگر وہ پہلے بتا دیتی تو شادی سے منع کر دیتے۔" اس ڈر سے خاتون اور اس کے گھر والوں نے یہ حقیقت چھپا لی۔

مزید پڑھیں: خواتین سے ماہواری کا ثبوت مانگنے کی تحقیقات کے سوال پر سپریم کورٹ سخت

شوہر نے بتایا کہ ان انکشافات کے بعد وہ پریشان رہنے لگا جس سے ان کی ازدواجی زندگی متاثر ہونے لگی۔ اس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اس کی بیوی نے شوہر بوڑھے والدین اور بھانجوں اور بھانجیوں کی ذمہ داری پر بھی اعتراض کرنا شروع کر دیا۔ بیوی نے الزام لگایا کہ شادی کے بعد نوکرانی کو نوکری سے نکال دیا گیا اور اسے گھر کے تمام کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اسے "بانجھ" کہہ کر ہراساں کیا گیا۔ اس کے بعد دونوں الگ الگ رہنے لگے۔ معاملہ فیملی کورٹ پہنچا تو شوہر کے الزامات کو قبول کرتے ہوئے طلاق کی اجازت دے دی گئی۔

بیوی نے فیملی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ کیس میں فریقین کو سننے کے بعد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دونوں نے تسلیم کیا کہ وہ 2016 سے الگ رہ رہے ہیں۔ طبی دستاویزات سے یہ بھی پتہ چلا کہ بیوی کا علاج چل رہا ہے، لیکن وہ یہ ثابت نہیں کر سکی کہ وہ مکمل طور پر ٹھیک ہو چکی ہے۔ عدالت نے پایا کہ میاں بیوی کے درمیان تنازعات اتنے گہرے ہو چکے ہیں کہ ازدواجی تعلقات کا معمول پر آنا ناممکن ہے۔ طلاق کو برقرار رکھتے ہوئے ہائی کورٹ نے بیوی کی مالی حالت کو دیکھتے ہوئے مستقل کفالت کے لیے پانچ لاکھ دینے کا حکم دیا۔ فیصلے کے مطابق شوہر کو یہ رقم چار ماہ کے اندر اپنی بیوی کو ادا کرنا ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:

ماہواری کی چھٹی خواتین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، کورٹ ماڈل پالیسی کا خواہاں: سپریم کورٹ

ماہواری کی وجہ سے اسکول میں طالبات کو برہنہ کیا گیا، والدین کا ہنگامہ، مقدمہ درج