مہاراشٹر میں مسلم ریزرویشن باضابطہ منسوخ، کانگریس کا سخت ردعمل — حکومت پر ’’سب کا ساتھ‘‘ کے دعوے پر سوال
یہ ریزرویشن جولائی 2014 میں ایک آرڈیننس کے ذریعہ نافذ کیاگیا تھا، جس میں مسلمانوں کو اسپیشل بیک ورڈ کلاس-اے زمرے میں شامل کیاگیا تھا۔

Published : February 18, 2026 at 8:37 PM IST
ممبئی : مہاراشٹر حکومت نے منگل کے روز ایک اہم انتظامی فیصلے کے تحت 2014 میں جاری کردہ اس سرکاری قرارداد (جی آر) کو باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا، جس کے تحت مسلمانوں کو تعلیمی اداروں اور سرکاری و نیم سرکاری ملازمتوں میں پانچ فیصد ریزرویشن دیا گیا تھا۔
یہ ریزرویشن جولائی 2014 میں ایک آرڈیننس کے ذریعہ نافذ کیا گیا تھا، جس میں مسلمانوں کو اسپیشل بیک ورڈ کلاس-اے زمرے میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم اس فیصلے پر 14 نومبر 2014 کو بامبے ہائیکورٹ نے عبوری حکم امتناع جاری کر دیا تھا، جس کے باعث اس پر مکمل عمل درآمد نہ ہو سکا۔
مزید برآں، یہ آرڈیننس 23 دسمبر 2014 تک ریاستی مقننہ سے قانون کی شکل اختیار نہ کر سکا اور اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد خود بخود غیر مؤثر ہو گیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی بامبے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف دائر اسپیشل لیو پٹیشن کی سماعت کے دوران مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
حالیہ حکم نامے کے ذریعے ریاستی حکومت نے اس موضوع سے متعلق ماضی میں جاری تمام قراردادوں اور سرکاری مراسلات کو باضابطہ طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پانچ فیصد مسلم ریزرویشن کے تحت کالجوں اور تعلیمی اداروں میں مزید داخلے نہیں دیے جائیں گے، اور نہ ہی اس زمرے میں نئے ذات یا ویلیڈیٹی سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے۔
بدھ کے روز کانگریس پارٹی نے مہاراشٹر کی مہایوتی حکومت کے اس فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ورشا گائیکواڈ، جو ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی کی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ ہیں، نے اس اقدام کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ 2014 میں تعلیم اور روزگار کے لیے اعلان کردہ پانچ فیصد ریزرویشن کے حوالے سے مثبت اقدامات کرنے کے بجائے حکومت نے پرانے عمل کو ہی ختم کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ہائی کورٹ کے عبوری حکم اور آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کو جواز بنا کر حکومت نے مسلم برادری کے حقوق پر کاری ضرب لگائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مہاراشٹر کانگریس کے نائب صدر کی اکولا مسجد میں چاقو گھونپنے کے بعد موت، ملزم گرفتار
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا کہ ایک طرف ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کا نعرہ دیا جاتا ہے اور دوسری جانب ریزرویشن سے متعلق ضروری دستاویزات کے حصول کے راستے بند کیے جا رہے ہیں، جو کھلا تضاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی منظوری کے باوجود ریاست میں آج تک پانچ فیصد تعلیمی ریزرویشن پر عمل درآمد نہیں ہوا، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

