ETV Bharat / state

مہاراشٹر میونسپل انتخابات: جالنہ میں بی جے پی نے 4 مسلم امیدوار کھڑے کیے، اقلیتی ووٹرز پر سب کی نظریں

زعفرانی پارٹی نے جالنہ شہر میں چار مسلم امیدوار کھڑے کیے جہاں کمیونٹی تقریباً 20 سے 25 فیصد ووٹروں پر مشتمل ہے۔

مہاراشٹر میونسپل انتخابات: جالنہ میں بی جے پی نے 4 مسلم امیدوار کھڑے کیے، اقلیتی ووٹرز پر سب کی نظریں
مہاراشٹر میونسپل انتخابات: جالنہ میں بی جے پی نے 4 مسلم امیدوار کھڑے کیے، اقلیتی ووٹرز پر سب کی نظریں (PTI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : January 2, 2026 at 2:20 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

ممبئی : مہاراشٹر کے جالنہ شہر میں 15 جنوری کو ہونے والے میونسپل کارپوریشن انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ حکمراں بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی میں اس بار کوئی باضابطہ انتخابی اتحاد نہیں ہو پایا، جس کے باعث تمام اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کے مقابل میدان میں اتری ہوئی ہیں۔ اس دوستانہ مگر سخت مقابلے میں مسلم ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

جالنہ میونسپل کارپوریشن کے کل 65 وارڈز میں مسلم ووٹروں کا تناسب تقریباً 20 سے 25 فیصد ہے۔ ماہرینِ کے مطابق وارڈ نمبر 2، 4، 10 اور 11 میں مسلم ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں بی جے پی نے اپنی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے چار مسلم امیدوار میدان میں اتارے ہیں، جو ماضی کے مقابلے ایک غیر معمولی قدم سمجھا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس تبدیلی کے پیچھے کانگریس کے سابق رکن اسمبلی کیلاش گورانتیال کا کردار اہم مانا جا رہا ہے، جو حال ہی میں بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ گورانتیال نہ صرف مسلم ووٹروں سے روابط بڑھا رہے ہیں بلکہ ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی کمیونٹی کی نمائندگی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مہایوتی کی دیگر جماعتوں میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا نے سات مسلم امیدوار، جبکہ اجیت پوار کی قیادت والی این سی پی نے 17 مسلم امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن محاذ مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) متحد ہو کر انتخاب لڑ رہا ہے۔ اتحاد میں شامل کانگریس نے 51 امیدوار کھڑے کیے ہیں جن میں 19 مسلمان ہیں۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا (یو بی ٹی) نے 13 نشستوں پر مقابلہ کیا ہے، تاہم اس نے کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا۔ شرد پوار گروپ کی این سی پی نے دو مسلم امیدوار نامزد کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیسے اور جوڑتوڑ کی سیاست خطرناک: شرد پوار

ادھر اسدالدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے بھی مسلم اکثریتی علاقوں میں اپنے امیدوار اتارے ہیں۔ پارٹی کے ضلعی صدر شیخ مجید کے مطابق عوام ایک متبادل کی تلاش میں ہیں اور اے آئی ایم آئی ایم ان کی امنگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ریاست بھر میں 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات 15 جنوری کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی اگلے دن کی جائے گی۔