مہاراشٹر میونسپل انتخابات: مہایوتی کے 68 امیدواروں بلا مقابلہ منتخب
مہاراشٹر میں 15 جنوری کو میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ ادھر شیو سینا نے اس جیت پر تنقید کی ہے۔

Published : January 3, 2026 at 11:50 AM IST
ممبئی: مہاراشٹر میں 15 جنوری کو میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن اور بی ایم سی انتخابات سے پہلے ایک اہم اپڈیٹ سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی اور مہایوتی اتحادیوں نے بغیر کسی مخالفت کے تقریباً 68 سیٹوں پر برتری حاصل کر لی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ حکمران اتحاد نے امیدواروں کو انتخابات سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کے لیے دھمکیوں اور پیسے کا استعمال کیا۔
بی جے پی لیڈر کیشو اپادھیائے نے جمعہ کو کہا کہ ریاست بھر میں بی جے پی اور مہایوتی کے 68 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں، جو کہ شہری بلدیاتی اداروں میں پارٹی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس میں بی جے پی کے 44 کونسلر شامل ہیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد تھانے ضلع کے کلیان-ڈومبیوالی میونسپل کارپوریشن سے ہے، اس کے بعد پونے، پمپری چنچواڑ، پنویل، بھیونڈی، دھولے، جلگاؤں اور اہلیا نگر کا نمبر آتا ہے۔ پونے کے وارڈ نمبر 35 سے بی جے پی امیدوار منجوشا ناگپورے اور شریکانت جگتاپ بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ ان کے مخالفین نے اپنے نامزدگی فارم واپس لے لیے۔ دونوں اسی وارڈ سے 2017 اور 2022 کے درمیان منتخب ہوئے تھے۔
Maharashtra State Election Commission sought reports from the concerned local election authorities regarding candidates elected unopposed after the completion of the nomination and withdrawal process yesterday. As per a senior officer in the State Election Commission, this is…
— ANI (@ANI) January 3, 2026
مرکزی وزیر اور سینئر بی جے پی لیڈر مرلی دھر موہول نے پارٹی کی جیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پونے کا اگلا میئر ان کی پارٹی سے ہوگا۔ موہول نے دعویٰ کیا کہ ٹارگٹ 125 سیٹوں ہیں، جن میں سے ہم پہلے ہی دو جیت چکے ہیں، اس لیے 123 سیٹیں بچی ہیں۔ دو سیٹیں بغیر کسی مخالفت کے جیتی گئیں، یہ ہماری پارٹی کی گڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایکناتھ شندے کی پارٹی کی بات کریں تو شندے کی شیو سینا کے 22 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے، جب کہ اجیت پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صرف دو امیدوار ہی منتخب ہوئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے اس جیت کا سبب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی مقبولیت اور ریاستی بی جے پی صدر رویندر چوان کی کامیاب انتخابی حکمت عملی کو قرار دیا۔
وہیں شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راوت نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریٹرننگ افسران کو رات گئے تک امیدواروں سے دستبرداری قبول کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ 'لوک تنتر' کے نام پر 'بھیڑ تنتر' ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایک دن بنگلہ دیش اور نیپال کی طرح یہاں بھی عوامی بغاوت ہوگی۔ اس سے قبل جمعہ کو شیو سینا نے دعویٰ کیا تھا کہ 131 رکنی تھانے میونسپل کارپوریشن کے لیے اس کے پانچ امیدوار بغیر مخالفت کے منتخب ہوئے ہیں۔
مہاراشٹرا کے تھانے ضلع میں بھیونڈی-نظام پور میونسپل کارپوریشن (بی این ایم سی) کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ اس کے چھ امیدوار بغیر مخالفت کے منتخب ہوئے۔ دریں اثنا، ایک عہدیدار نے جمعرات کو بتایا کہ تین شیوسینا امیدواروں اور ایک بی جے پی امیدوار کو تھانے ضلع میں کلیان ڈومبیوالی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کی جانچ کے بعد بلا مقابلہ منتخب قرار دیا گیا ہے۔ راج ٹھاکرے کے ایم این ایس لیڈر اویناش جادھو نے کہا کہ "اگر آپ ووٹنگ سے پہلے الیکشن جیتنا چاہتے ہیں تو انتخابات کیوں کرواتے ہیں؟ دونوں پارٹیوں کو سیٹوں کو آپس میں تقسیم کر لینا چاہیے۔ بھارت اور ریاست مہاراشٹر میں جمہوریت ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے کمزور امیدواروں کو چنا اور اپنا کام کر لیا"۔
شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما اروند ساونت نے بھی حکمراں پارٹیوں پر الزام لگایا کہ وہ بلا مقابلہ جیت کو یقینی بنانے کے لیے اپوزیشن کے امیدوروں پر دباؤ بنا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: اجیت پوار کا بلدیاتی انتخابات کے لیے این سی پی کے دونوں گروپوں کے بیچ اتحاد کا اعلان

