لکھنؤ میں 200 کروڑ روپے کے بین الاقوامی سائبر فراڈ نیٹ ورک کا پردہ فاش، 40 خواتین سمیت 119 افراد گرفتار
ملزمان خود کو ایمیزون، مائیکروسافٹ، ایپل، پے پال، نیٹ فلکس اور فیس بک جیسی معروف کمپنیوں کے کسٹمر سپورٹ نمائندے ظاہر کرتے تھے۔

Published : July 3, 2026 at 3:02 PM IST
لکھنؤ: اترپردیش پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 200 کروڑ روپے کے بین الاقوامی سائبر فراڈ نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے۔ پولیس نے لکھنؤ کے پوش علاقے میں قائم ایک جدید کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 40 خواتین سمیت 119 افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ بھاری مقدار میں الیکٹرانک آلات، غیر ملکی شہریوں کا ڈیٹا، جعلی دستاویزات اور دیگر اہم شواہد ضبط کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ کال سینٹر شہر کی سمٹ بلڈنگ کی گیارہویں منزل پر کئی برسوں سے سرگرم تھا اور کارپوریٹ دفتر کی طرز پر چلایا جا رہا تھا۔ یہاں کام کرنے والے ملازمین کی عمر زیادہ تر 20 سے 35 سال کے درمیان تھی، جو شام سات بجے سے صبح تین بجے تک غیر ملکی شہریوں، خصوصاً امریکہ کے باشندوں، کو نشانہ بناتے تھے۔
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزمان خود کو ایمیزون، مائیکروسافٹ، ایپل، پے پال، نیٹ فلکس اور فیس بک جیسی معروف کمپنیوں کے کسٹمر سپورٹ نمائندے ظاہر کرتے تھے۔ بعد ازاں وہ خود کو ایف بی آئی، فیڈرل ٹریڈ کمیشن اور دیگر امریکی سرکاری اداروں کا اہلکار بتا کر متاثرین کو گرفتاری یا قانونی کارروائی کی دھمکیاں دیتے اور مختلف بہانوں سے رقم وصول کرتے تھے۔
پولیس کے مطابق دھوکہ دہی سے حاصل ہونے والی رقوم گفٹ کارڈز، کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل واؤچرز کے ذریعے منتقل کی جاتی تھیں تاکہ مالی لین دین کا سراغ لگانا مشکل ہو جائے۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ کال سینٹر میں کام کرنے والی کئی خواتین شمال مشرقی ہندوستان سے روزگار کی تلاش میں آئی تھیں اور انہیں تقریباً 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ ہر ملازم کو ماہانہ فراڈ کا ہدف دیا جاتا تھا اور دھوکہ دہی سے حاصل ہونے والی رقم پر 10 فیصد کمیشن بھی ادا کیا جاتا تھا۔
لکھنؤ پولیس کمشنر امرندر سنگھ سینگر نے بتایا کہ گرفتار افراد کو معلوم تھا کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، تاہم زیادہ آمدنی اور بھاری کمیشن کی وجہ سے وہ اس نیٹ ورک کے ساتھ کام کرتے رہے۔ پولیس کے مطابق اس بین الاقوامی ریکیٹ کے روابط گجرات، مہاراشٹر، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، راجستھان اور دہلی تک پھیلے ہوئے تھے اور ان ریاستوں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگال میں ایس آئی آر کے اثرات، سرکاری اسکیم 'اناپورنا یوجنا' سے 26 لاکھ نام کاٹ دیے گئے، وزیر اعلیٰ نے دی جانکاری
چھاپے کے دوران VoIP کالنگ سسٹم، آئیبیم ڈائلرز، غیر ملکی شہریوں کا ڈیٹا، کالنگ اسکرپٹس، کمپیوٹر، سرورز، موبائل فون اور جعلی دستاویزات برآمد کی گئیں۔ پولیس اب اس نیٹ ورک کے تکنیکی معاونین، مالی ذرائع، ای میل اکاؤنٹس اور بیرون ملک موجود ممکنہ رابطوں کی بھی تفتیش کر رہی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس کال سینٹر کے ماہانہ اخراجات تقریباً تین کروڑ روپے تھے اور یہ کئی برسوں سے منظم انداز میں کام کر رہا تھا۔ اس سلسلے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس)، انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ اور ٹیلی کمیونی کیشن ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

