دہلی شراب پالیسی کیس: کیجریوال اور سسودیا نے سی بی آئی کی اپیل کے قابل سماعت ہونے پر اٹھایا سوال
ٹرائل کورٹ سے بریت کے خلاف سی بی آئی کی درخواست پر کیجریوال اور سیسودیا کا اعتراض، 18 اگست کو ہائی کورٹ میں ہوگی سماعت۔

Published : August 13, 2026 at 7:44 PM IST
نئی دہلی : دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں انہیں بری کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے دائر درخواست کی قابل سماعت ہونے کی حیثیت کو چیلنج کردیا ہے۔
کیجریوال اور سسودیا کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سی بی آئی کی درخواست قانونی طور پر قابل سماعت نہیں ہے۔ دہلی ہائی کورٹ میں جسٹس منوج جین اس معاملے کی سماعت 18 اگست کو کریں گے۔ دونوں سابق وزرا نے اپنی جوابی درخواست میں سی بی آئی کی کارروائی کے وقت اور طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے محض تقریباً چار گھنٹے بعد ہی سی بی آئی نے اپنی درخواست دائر کردی، جو ان کے مطابق غیر معمولی عجلت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیجریوال اور سسودیا کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ سی بی آئی نے اپنی درخواست میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کسی مخصوص قانونی یا حقائق سے متعلق غلطی کی نشاندہی نہیں کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر تفتیشی ایجنسی یہ بتانے میں ناکام ہے کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کون سی قانونی خامی یا سنگین غلطی موجود ہے تو پھر اس درخواست کو قابل سماعت قرار دینے کی بنیاد کیا ہے؟ دونوں رہنماؤں نے سی بی آئی کی جانب سے درخواست دائر کرنے کی رفتار پر بھی اعتراض کیا اور اسے غیر معمولی عجلت قرار دیا۔
16 جولائی کو دہلی ہائی کورٹ نے اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک کو سی بی آئی کی درخواست پر اپنا جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا تھا۔ یہ معاملہ ابتدا میں جسٹس سوارانا کانتا شرما کی سربراہی والی بنچ کے سامنے زیر سماعت تھا، تاہم بعد میں اسے جسٹس منوج جین کے سامنے منتقل کردیا گیا۔
کیجریوال، سسودیا اور درگیش پاٹھک نے جسٹس سوارانا کانتا شرما کی بنچ کے سامنے پیش ہونے سے گریز کیا تھا۔ اروند کیجریوال نے جسٹس شرما سے اس معاملے کی سماعت سے الگ ہونے کی درخواست بھی دائر کی تھی، تاہم جسٹس شرما نے خود کو مقدمے سے الگ کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔
اب معاملہ جسٹس منوج جین کے سامنے ہے اور 18 اگست کو اس پر اہم سماعت متوقع ہے۔ یہ معاملہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے جب 27 فروری کو دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے میں چارج شیٹ میں موجود متعدد تضادات کی نشاندہی کی تھی۔
عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں پیش کیے گئے بعض حقائق گواہوں کے بیانات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ عدالت کے مطابق استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد میں ایسے تضادات موجود تھے جن کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف مقدمہ آگے بڑھانا مشکل تھا۔
ایکسائز پالیسی کیس میں تحقیقات کے دوران دونوں رہنماؤں کو طویل عرصے تک جیل میں رہنا پڑا۔ منیش سسودیا تقریباً 530 دن تک جیل میں رہے، جبکہ اروند کیجریوال نے دو الگ الگ ادوار میں مجموعی طور پر تقریباً 156 دن جیل میں گزارے۔ کیجریوال کو سی بی آئی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت ملنے کے بعد 13 ستمبر 2024 کو رہا کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایئر انڈیا کی فوکٹ دہلی پرواز میں ہچکولے کا واقعہ: دونوں پائلٹ روسٹر سے ہٹائے گئے
اب دہلی ہائی کورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا سی بی آئی کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے بریت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواست قانونی طور پر قابل سماعت ہے یا نہیں۔ لہٰذا 18 اگست کی سماعت اس مقدمے کے آئندہ قانونی رخ کے حوالے سے اہم سمجھی جارہی ہے۔

