کرناٹک ہائی کورٹ نے 52 فوجداری مقدمات واپس لینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے پر روک لگا دی
کرناٹک حکومت کی درخواست پر عدالت نے مہلت دیتے ہوئے حکومتی حکم کو درخواست کے حتمی فیصلے تک معطل رکھنے کا حکم دیا۔

Published : July 2, 2026 at 8:24 PM IST
بنگلور : کرناٹک ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی جانب سے مختلف اضلاع میں درج 52 فوجداری مقدمات واپس لینے کے فیصلے پر عبوری روک لگا دی ہے۔ عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ چیف جسٹس وبھو بخرو اور جسٹس کے ایس ہیما لیکھا پر مشتمل بنچ نے وکیل گریش بھردواج کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی درخواست (پی آئی ایل) پر سماعت کرتے ہوئے حکومت کے حکم پر فوری اثر سے عمل درآمد روک دیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ریاستی حکومت نے تین سینئر وزراء کی سفارش پر مختلف پولیس اسٹیشنوں میں درج مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا، جو ہائی کورٹ کے 2025 کے سابقہ فیصلے کے منافی ہے۔ عدالت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ کسی فوجداری مقدمے کو واپس لینے یا جاری رکھنے کا اختیار صرف سرکاری وکیل (پبلک پراسیکیوٹر) کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ کابینہ یا حکومت کے پاس۔
ریاستی حکومت کے وکیل نے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے مہلت دیتے ہوئے حکومت کے حکم کو درخواست کے حتمی فیصلے تک معطل رکھنے کا حکم دیا۔ عدالت نے محکمہ داخلہ اور محکمہ استغاثہ و سرکاری مقدمات کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت 28 ستمبر مقرر کی ہے۔ درخواست گزار نے وزیر صحت یو ٹی خواجہ کو بھی فریق بنانے کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں دیے گئے بیان کی بنیاد پر کسی وزیر کو مقدمے میں فریق نہیں بنایا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: زور پکڑ رہا ہے مانسون، ان ریاستوں میں تیز بارش کا محکمۂ موسمیات نے جاری کیا الرٹ، جانیے کیسا رہے گا موسم
واضح رہے کہ کرناٹک کابینہ نے 21 مئی 2026 کو 52 فوجداری مقدمات واپس لینے کی منظوری دی تھی، جس کے بعد 27 مئی کو محکمہ داخلہ نے سرکاری وکیل کو مقدمات واپس لینے کی ہدایت جاری کی تھی۔ آر ٹی آئی کے ذریعے سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق محکمہ استغاثہ نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت کو بتایا تھا کہ ان مقدمات کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے، چارج شیٹ عدالت میں داخل کی جا چکی ہے، شواہد موجود ہیں اور مقدمات زیر سماعت ہیں، لہٰذا انہیں واپس لینا عوامی مفاد کے خلاف ہوگا۔ عدالت میں یہ معاملہ اب مزید سماعت کے لیے زیر غور رہے گا۔

