کرناٹک میں کووِڈ-19 بدعنوانی معاملہ: جسٹس جان مائیکل کنہا کی حتمی رپورٹ حکومت کو پیش
جسٹس کنہا نے دو جلدوں پر مشتمل رپورٹ وزیرِ اعلیٰ سدارامیا اور ریاست کی چیف سکریٹری شالنی راج نیش کو پیش کی۔

Published : December 31, 2025 at 8:18 PM IST
بنگلور: کووِڈ-19 وبا کے دوران سابق بی جے پی حکومت کے تحت طبی انتظامات، ادویات اور طبی آلات کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کے لیے قائم واحد رکنی کمیشن کے سربراہ، سابق جج جسٹس جان مائیکل کنہا نے بدھ کو اپنی حتمی رپورٹ کرناٹک حکومت کے حوالے کر دی۔
جسٹس کنہا نے دو جلدوں پر مشتمل رپورٹ وزیرِ اعلیٰ سدارامیا اور ریاست کی چیف سکریٹری شالنی راج نیش کو پیش کی۔ اگرچہ رپورٹ کی تفصیلات تاحال عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں، تاہم وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کے مطابق رپورٹ کا تعلق بنگلور اربن اور بیلگاوی اضلاع میں کووِڈ کے دوران کی گئی خریداریوں میں مبینہ بے قاعدگیوں سے ہے۔
سرکاری معلومات کے مطابق بنگلورو اربن ضلع میں تقریباً 63.79 کروڑ روپے جبکہ بیلگاوی ضلع میں 42.19 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔ جسٹس کنہا نے اپنی حتمی سفارشات میں حکومت پر زور دیا ہے کہ عوامی مفاد، شفافیت اور اصلاحات کی فوری ضرورت کے پیش نظر رپورٹ کو جلد از جلد عوامی سطح پر جاری کیا جائے۔
یہ کمیشن اگست 2023 میں اُس وقت قائم کیا گیا تھا جب کرناٹک اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وبا کے دوران ادویات، آلات اور مجموعی کووِڈ مینجمنٹ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے شبہات ظاہر کیے تھے۔ اگرچہ کمیشن کو تین ماہ میں رپورٹ پیش کرنی تھی، تاہم اس نے نومبر 2024 میں عبوری رپورٹ دی۔
یہ بھی پڑھیں: میسور، کرناٹک میں ڈکیتی: دس کروڑ روپے کے زیورات چوری، سی سی ٹی وی نے ڈاکوؤں کو کیا بے نقاب
اس سے قبل ریاست کے وزیرِ طبی تعلیم شرن پرکاش پاٹل نے دعویٰ کیا تھا کہ عبوری رپورٹ میں صرف ان کے محکمے میں 918 کروڑ روپے کی مبینہ خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں بعض افسران سے 92 کروڑ روپے کی وصولی کی سفارش بھی کی گئی تھی، جبکہ بنگلورو کے کِڈوائی میموریل انسٹی ٹیوٹ آف آنکولوجی میں آر ٹی-پی سی آر آلات کی خریداری میں 200 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا ذکر بھی سامنے آیا تھا۔

