ETV Bharat / state

میوزک ٹیچر کا نوجوان پر مذہب چھپا کر جنسی استحصال کا الزام، کہا حاملہ ہونے کے بعد تبدیلی مذہب کا دباؤ ڈالا

کرنل گنج تھانہ حلقے میں خاتون ٹیچر نے ایک نوجوان پر اپنی شناخت چھپانے اور جنسی تعلق قائم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

میوزک ٹیچر کا نوجوان پر مذہب چھپا کر جنسی استحصال کا الزام، کہا حاملہ ہونے کے بعد تبدیلی مذہب کا دباؤ ڈالا
میوزک ٹیچر کا نوجوان پر مذہب چھپا کر جنسی استحصال کا الزام، کہا حاملہ ہونے کے بعد تبدیلی مذہب کا دباؤ ڈالا ((Photo Credit : ETV Bharat))
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : March 3, 2026 at 10:02 AM IST

|

Updated : March 3, 2026 at 11:07 AM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

کانپور: اترپردیش کے ضلع کانپور کرنل گنج تھانہ علاقہ کی ایک میوزک ٹیچر نے ایک عیسائی نوجوان پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے خود کو ٹھاکر بتا پر اسے محبت کے جال میں پھنسایا اور شادی کے بہانے اس کا دو سال تک جنسی استحصال کیا۔ جب خاتون حاملہ ہو گئی تو ملزم نے اپنی اصل شناخت ظاہر کی اور اس پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

خاتون کا دعویٰ ہے کہ جب وہ ملزم کے گھر پہنچی تو اسے یرغمال بنا لیا گیا۔ اس کا الزام ہے کہ ملزم کے والد اور بھائی نے بھی اس پر تشدد کیا، اس کے ساتھ مارپیٹ کی اور اسقاط حمل پر مجبور کر دیا۔ پولیس کے مطابق انہوں نے کلیدی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔

اے سی پی کرنل گنج امیت چورسیا کے مطابق کانپور کے بارادیوی علاقے سے تعلق رکھنے والی میوزک ٹیچر نوجوان خاتون نے بتایا کہ سال 2017 میں ابھیشیک سنگھ عرف رونی نام کے نوجوان سے اس کی ملاقات ہوئی، ابھیشیک گٹار بجاتا تھا اور ان کی ملاقات کنسرٹ کے دوران ہوئی۔ ابھیشیک نے اپنی شناخت ایک ہندو (ٹھاکر) کے طور پر بتائی۔ دونوں کے درمیان سال 2023 میں قربت بڑھ گئی۔ خاتون کا الزام ہے کہ ملزم نے شادی کا وعدہ کرکے اس کا جنسی استحصال کیا۔

مئی 2025 میں جب متاثرہ ایک ماہ کی حاملہ ہوئی تو اس نے ابھیشیک پر اس سے شادی کے لیے دباؤ ڈالا۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ شروع میں ابھیشیک وعدے کرتا رہا لیکن کچھ دنوں بعد اس نے عیسائی ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اپنا اصل نام ابھیشیک کلاڈیئس ظاہر کیا۔ اس کے بعد وہ اس پر عیسائیت اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے لگا۔ جب اس نے انکار کیا تو ملزم نے اسے جان سے مارنے اور فحش ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دی۔ جب خاتون ابھیشیک کے گھر گئی تو اسے ایک گھر میں یرغمال بنا لیا گیا۔

مزید پڑھیں: اپنے شوہر سے ملنے ہریدوار آئی ایک خاتون نے اجتماعی عصمت دری کا الزام لگایا، ہوٹل منیجر سمیت تین ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا

خاتون کا الزام ہے کہ ابھیشیک کے والد اکھلیش، ماں ریتا، بھائی سنی اور خاندان کے دیگر افراد نے اس کے ساتھ وحشیانہ حملہ کیا۔ ابھیشیک کے والد اور بھائی نے بھی اس کی عصمت دری کی۔ ملزم نے اس کے پیٹ میں لات ماری اور ڈرا دھمکا کر اسقاط حمل کروانے پر مجبور کیا۔ انہوں نے تقریباً ایک لاکھ روپے، آن لائن اور نقدی دونوں طرح سے رقم بھی لیا اور اس کے سونے کے زیورات بھی چرا لیے۔ متاثرہ پیر کو کرنل گنج پولیس اسٹیشن پہنچی۔ کرنل گنج کے اے سی پی امیت چورسیا نے بتایا کہ رپورٹ درج کر لی گئی ہے اور ملزم ابھیشیک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کیس کی تحقیقات کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

Last Updated : March 3, 2026 at 11:07 AM IST