اندور سانحہ: ڈائریا کے 20 نئے کیسز آئے سامنے، 'گھنٹہ' تنازع کو لے کر ایک سرکاری افسر معطل
میئر نے مہلوکین کی تعداد 10 بتائی تھی، جب کہ مقامی 16 افراد بشمول ایک چھ ماہ کے بچے کی موت کا دعویٰ کررہے ہیں۔

Published : January 5, 2026 at 1:44 PM IST
اندور: اندور میں پینے کے آلودہ پانی کی وجہ سے ہونے والے ڈائریا کے سبب فی الحال 142 مریض اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان میں 11 مریض آئی سی یو میں ہیں۔ حکام نے بتایا کہ اتوار کے روز بھاگیرتھ پورہ علاقے میں 9,000 سے زیادہ لوگوں کی اسکریننگ کے دوران 20 افراد میں انفیکشن پایا گیا ہے۔
ریاستی محکمہ صحت کی متعدد ٹیموں نے بھاگیرتھ پورہ میں 2,354 مکانوں کے 9,416 افراد کا معائنہ کیا، جہاں مبینہ طور پر آلودہ پانی کی وجہ سے 16 افراد کی موت ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق اس وباء کے بعد اب تک 398 مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا تھا اور ان میں سے 256 کو صحت یاب ہونے کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ اس وقت 142 مریض اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں 11 آئی سی یو میں داخل ہیں، اور وبا اب قابو میں ہے۔
چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر (سی ایم ایچ او) ڈاکٹر مادھو پرساد ہاسانی نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ ان بیکٹیریل انفیکشن (این آئی آر بی آئی)، کولکاتہ کی ایک ٹیم انفیکشن اور اموات کی وجہ کی تحقیقات کے لیے اندور پہنچی ہے۔
انہوں نے کہا کہ این آئی آر بی آئی کے ماہرین اس وبا پر قابو پانے کے لیے محکمہ صحت کو تکنیکی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے اب تک چھ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قبل میئر پشیامترا بھارگوا نے مرنے والوں کی تعداد 10 بتائی تھی، جب کہ مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسہال کی وجہ سے 16 افراد بشمول ایک چھ ماہ کے بچے کی موت ہوئی ہے۔
ہیلتھ ایمرجنسی کے درمیان، اندور میونسپل کارپوریشن کے نئے تعینات کمشنر کشتیج سنگھل نے کہا کہ متاثرہ علاقے میں پینے کے صاف پانی کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔
دوسری طرف، اندور میں پیش رفت کے بارے میں کانگریس لیڈروں اور کارکنوں نے پورے مدھیہ پردیش میں زبردست احتجاجی مظاہرے کیے۔ کانگریس نے لفظ "گھنٹہ" کے استعمال پر سینئر وزیر کیلاش وجے ورگیہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔
وجے ورگیہ نے 31 دسمبر کی رات کو اس وقت ایک تنازعہ کھڑا کر دیا جب انہوں نے پانی کی آلودگی کے بحران کے بارے میں پوچھے گئے کیمرے پر نامہ نگارکے ایک سوال کا "گھنٹہ" کہتے ہوئے جواب دیا۔ کانگریس نے عدالتی انکوائری اور وجے ورگیہ کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔ وجے ورگیہ کے پاس شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے قلمدان ہیں۔
ریاستی کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے دھمکی دی کہ اگر پارٹی کے اصلاحی اقدامات کے مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا تو وہ 11 جنوری کو احتجاج شروع کریں گے۔ انہوں نے اندور کے میئر پشیامترا بھارگاو اور متعلقہ شہری عہدیداروں کے خلاف قتل کا مجرمانہ مقدمہ درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
دریں اثنا، حکام نے بتایا کہ پڑوسی دیواس میں ایک سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) کو اتوار کے روز اندور کے پانی کی آلودگی کے بحران کے درمیان ایک سرکاری حکم میں وزیر وجے ورگیہ کے متنازعہ تبصرہ اور کانگریس کے الزامات کا مبینہ طور پر حوالہ دینے کے لیے معطل کر دیا گیا۔
اجین ڈویژن کے ریونیو کمشنر آشیش سنگھ نے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں سنگین لاپرواہی، بے حسی اور بے قاعدگیوں کے الزام میں ایس ڈی ایم کو معطل کردیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ایس ڈی ایم نے دیواس میں منعقدہ کانگریس کے احتجاج کے پیش نظر امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے ماتحت ریونیو افسران کو تعینات کرنے کے لئے ہفتہ کو ایک سرکاری حکم جاری کیا تھا۔
ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کی رپورٹس کے مطابق، "کانگریس میمورنڈم کے ایک حصے کے الفاظ کو سرکاری مقاصد کے لیے جاری کردہ ایس ڈی ایم کے حکم میں لفظی طور پر نقل کیا گیا تھا۔ یہ سنگین غفلت کے مترادف ہے۔"
کانگریس میمورنڈم میں بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ وجئے ورگیہ کے قابل اعتراض لفظ کا استعمال "غیر انسانی اور آمریت کی عکاسی کرتا ہے۔" لفظ "گھنٹہ" کے مختلف معنی ہیں، لیکن عام زبان میں اس کا استعمال بکواس کا اظہار کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

