ETV Bharat / state

علاج سے پہلے 'کاغذی کارروائی' نے لے لی تھی یوپی کے طالب علم کی جان: حیدرآباد کے اسپتال اور ڈاکٹر پر ایک کروڑ کا بھاری جرمانہ

یہ معاملہ ایک ایسے ہونہار نوجوان طالبعلم کی موت سے جڑا ہے، جسے اسپتال کے قوانین اور رسمی کارروائیوں کے جال میں الجھا دیا گیا۔

hyderabad medical negligence hospital fined 1 crore over hcu phd scholar death, Urdu News
علاج سے پہلے 'کاغذی کارروائی پر کورٹ سخت (IANS علامتی تصویر)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : September 2, 2026 at 7:03 AM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

حیدرآباد: حیدرآباد ضلع صارف کمیشن-1 نے سٹیژنز اسپیشلٹی ہاسپٹل (Citizens Speciality Hospital) اور ماہرِ امراضِ اعصاب (نیورولوجسٹ) ڈاکٹر اپرنا وجے کمار پر بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ معاملہ ایک نوجوان طالب علم کی موت سے متعلق ہے، جسے ہنگامی علاج ملنے کے بجائے اسپتال کی رسمی کارروائیوں کے باعث ہونے والی تاخیر کی وجہ سے اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔

کمیشن نے اسپتال اور ڈاکٹر کو مشترکہ طور پر متوفی کے والدین کو معاوضے کے طور پر 1 کروڑ روپے اور قانونی اخراجات کے مد میں اضافی 50,000 روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس فیصلے کے 45 دنوں کے اندر اس رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی، تو واجب الادا رقم پر 9 فیصد سالانہ سود بھی دینا ہوگا۔

ہاسٹل کے برآمدے میں بے ہوش پائے گئے

اتر پردیش کے رہنے والے سوریا پرتاپ، حیدرآباد یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی سے پی ایچ ڈی (PhD) کر رہے تھے۔ 17 اگست 2020 کو وہ ہاسٹل کے برآمدے میں بے ہوش پائے گئے۔ ان کے ساتھی طالب علم انہیں پہلے یونیورسٹی کے ہیلتھ سینٹر لے گئے اور پھر اس کے بعد گچی باؤلی میں واقع سٹیژنز اسپیشلٹی ہاسپٹل لے کر پہنچے۔

والدین کی غیر موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے لاپرواہی

ڈاکٹروں نے جانچ میں پایا کہ انہیں برین اسٹروک (فالج کا حملہ) ہوا ہے۔ اسٹروک آنے کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے اہم وقت (کریٹیکل ونڈو) کے اندر دماغ کے خون کے لوتھڑے کو ہٹانے کے لیے 'مکینک تھرومبیکٹومی' (Mechanical Thrombectomy) سرجری کی جانی بے حد ضروری تھی۔ اسپتال کی انتظامیہ نے سوریا پرتاپ کے والدین کی غیر موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے سرجری میں تاخیر کی۔

تشویشناک حالت میں ریفر کر دیا گیا

سرکاری ہدایات (گائیڈ لائنز) کے مطابق کووڈ نیگیٹو رپورٹ آنے تک علاج کو نہیں روکا جانا چاہیے تھا، اس کے باوجود سوریا پرتاپ کو ایک آئسولیشن وارڈ میں منتقل کر دیا گیا، جس سے انتہائی قیمتی وقت ضائع ہوا۔ اس کے بعد، انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور بے حد تشویشناک حالت میں کونٹینینٹل ہاسپٹل (Continental Hospital) ریفر کر دیا گیا۔ وہاں داخل ہونے کے کچھ ہی وقت بعد انہیں 'برین ڈیڈ' (دماغی طور پر مردہ) قرار دے دیا گیا۔ 21 اگست کو ان کا انتقال ہو گیا۔

کافی ثبوت نہ ہونے کے سبب مقدمہ خارج

جانچ رپورٹوں اور ثبوتوں کا جائزہ لینے کے بعد، صارف کمیشن (Consumer Commission) نے فیصلہ سنایا کہ سٹیژنز ہاسپٹل اور نیورولوجسٹ سنگین طبی غفلت (Gross Medical Negligence) کے قصوروار تھے۔ کمیشن نے کیس کے دیگر فریقین—کونٹینینٹل ہاسپٹل اور میڈسس لیبس کے خلاف الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:

سی جے پی کارکنوں اور گاؤں والوں کی جانب سے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج، جانیں کیا ہے اسکول کی حقیقت؟

میسور کے اسپتال میں چوبیس گھنٹوں میں 11 مریضوں کی موت، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے لاپرواہی کا اظہار کیا

اننت ناگ کے نجی اسپتال میں 35 سالہ گردے کے مریض کی موت، لواحقین کا طبی غفلت کا الزام

طبی غفلت کے باعث مریض کی صحت بگڑ گئی، یشودا اسپتال پر 50 لاکھ روپے کا جرمانہ

کنزیومر کمیشن نے فینسی آئس کریم اور زوماٹو پر جرمانہ عائد کیا ہے، جانیں کیوں؟

صحت مند شخص کو ایچ آئی وی پازیٹو قرار دینے پر ایمس رشیکیش پر جرمانہ